’20،20‘ کرکٹ، امید کی کرن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا ٹوئنٹی، ٹوئنٹی کرکٹ باقاعدہ طور پر عالمی کرکٹ کے دھارے میں داخل ہو سکتی ہے اس بات کا فیصلہ شایدایشیائی ممالک میں ہونے والے موجودہ ٹوئنٹی، ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کے بعد ہو جائے۔ کرکٹ کی محدود اوورز کی اس طرز کو برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں مقامی سطح پر پہلے ہی اپنایا جا چکا ہے لیکن بنگلہ دیش میں اس طرز کے ایک چھوٹے سے ٹورنامنٹ کے علاوہ ایشیائی ممالک نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ تاہم اب پاکستان کے شہر لاہور میں ملک کا پہلا ٹوئنٹی، ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلا جا رہا ہے۔ چھ دن جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں گیارہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ کے ڈوبتے ہوئے مقامی ڈھانچے کے لیے یہ ٹورنامنٹ ایک مضبوط سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کو نہ صرف بہتر سپانسر شپ میسر آئی ہے بلکہ اسے ٹیلیویژن پر براہِ راست بھی دکھایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ٹوئنٹی، ٹوئنٹی کرکٹ کا خیال پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ نے گزشتہ برس پیش کیا تھا۔ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد پر ان کا کہنا تھا کہ ’ اس ٹورنامنٹ میں روزانہ تین میچ ہو رہے ہیں جن میں سے دو ڈے نائٹ ہیں اور ہر شام تقریباً بارہ ہزار افراد کھیل دیکھنے آ رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ ضروری ہے کہ مقامی سطح پر کرکٹ کےڈھانچے کو سنوارا جائے اور ان میچوں سے وہ مقامی ٹیلنٹ بھی سامنے آئے گا جو کہ توجہ کا طالب ہے‘۔
اس ٹورنامنٹ میں شائقین کی دلچسپی کے لیے کھلاڑیوں کے علاوہ تماشائیوں کے لیے بھی انعامات رکھےگئے ہیں۔ مثلاً وہ تماشائی جو چھکے کے لیے جانے والی گیند کو کیچ کر لے گا انعام کا حقدار قرار پائے گا۔ اس کے علاوہ ’میڈن‘ اوور کروانے والے کھلاڑی کو چار ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ پاکستان کے متعدد نامی گرامی کھلاڑی جن میں سے کچھ آسٹریلیا اے کے خلاف اس طرز کے ایک میچ میں حصہ لے چکے ہیں، اس ٹورنامنٹ میں شریک ہیں۔ اس سلسلے میں رمیض راجہ کا کہنا تھا کہ ’ یہ ضروری ہے کہ مشہور کھلاڑی مقامی سطح کی کرکٹ میں حصہ لیں کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی اور تربیت کریں‘۔ روایتی طرز کی پچاس اوور کرکٹ اور ٹوئنٹی، ٹوئنٹی کرکٹ کا موازنہ کرتے ہوئے رمیض نے کہا کہ ’ یہ ایک نئی طرز کا کھیل ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ بین الاقوامی سطح پر کامیاب ہوگا یا نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے عوام اب بھی پچاس اوور کے میچ کو ترجیح دیتے ہیں تاہم اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو ہو سکتا ہے کہ آئندہ برسوں میں ہم ٹوئنٹی، ٹوئنٹی کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلے دیکھ سکیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||