پاکستانی ٹیم کے لیے سرکاری جشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت سے ایک روزہ سیریز جیت کر آنے والی پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں اسلام آباد میں اتوار کے روز ’ہے کوئی ہم جیسا‘ کے عنوان سے حکومتی سرپرستی میں ایک روزہ جشن منایا گیا۔ اس جشن کی تقریب کا آغاز صبح دس بجے ہوا اور پاکستان ٹیلی وژن پر براہ راست مختلف تقریبات دکھائی گئیں۔ بھارت سے واپس آنے والی فاتح ٹیم کے تمام کھلاڑی مقررہ وقت سے پون گھنٹہ تاخیر سے ’جناح ایونیو‘ پہنچے جہاں کرکٹ کے شائقین تین گھنٹے سے ان کے منتظر تھے۔ سڑک عام ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ سینکڑوں تماشائی سڑک کے دونوں کنارے گلاب کے پھولوں کے ہار، پتیاں اور رنگ برنگے غبارے لیے کھڑے تھے۔ سپورٹس موٹر سائیکلوں پر سوار پولیس کمانڈوز راستہ صاف کرتے آگے بڑھ رہے تھے۔ اس موقع پر ہر کھلاڑی پجیرو جیپ میں کرکٹ یونیفارم پہنے ہوئے ’سن روف‘ کے بیچ کھڑے ہوکر شائقین کو ہاتھ ہلا کر نعروں کا جواب دے رہا تھا۔ لوگوں نے تمام کھلاڑیوں پر گل پاشی کی۔
ہر کھلاڑی کی گاڑی کے دونوں طرف پولیس گاڑیاں تھیں لیکن اس کے باوجود لوگ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ کھلاڑیوں کا قافلہ پارلیمینٹ کے سامنے (جہاں یوم پاکستان کے موقع پر فوجی پریڈ ہوتی ہے) پہنچا، جہاں سٹیج بنایا گیا تھا اور وزیرِاطلاعات شیخ رشید احمد اور اویس احمد لغاری نے انہیں خوش آمدید کہا اور پیلی پگڑیاں پہنائیں۔ شیخ رشید احمد براہ راست دکھائے جانے والے اس پروگرام میں خود نعرے لگواتے رہے۔ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے جہاں ڈھول پر پنجاب کا بھنگڑا پیش کرنے والے فنکار موجود تھے وہاں پولیس کے گھُڑ سوار دستے نے انہیں سلامی دی اور فوجی بینڈ باجوں سے خیرمقدم کیا گیا۔ پارلیمنٹ کے سامنے منعقد تقریب کے بعد تمام کھلاڑیوں کو وزیراعظم ہاؤس لے جایا گیا جہاں انہیں وزیراعظم انعامات اور اعزازات کے ساتھ عشائیہ بھی دیں گے۔ سرکاری ٹی وی چینل پر نامور اداکاروں، کھلاڑیوں، گلوکاروں نے اپنی کرکٹ ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف ٹاک شوز اور موسیقی کے پروگرام بھی پیش کیے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اس جشن کا مقصد کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||