سٹے بازی پر قانون سازی کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹر نیشنل کرکٹ بورڈ (آئی سی سی) کے چیف ایگزیکٹو میلکم سپیڈ نے دنیا بھر میں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سپورٹس میں دھوکہ دہی کی روک تھام کے لیے قانون سازی کریں۔ جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والی سپورٹس اکارڈ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے ہی کرپشن نے کرکٹ کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ کرکٹ میں موجود کرپشن کے بارے میں ہونے والی انکوئریوں کے نتیجے میں پانچ کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی لگائی گئی۔ تاحیات پابندی کی زد میں آنے والے کھلاڑیوں میں جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہنسی کرونیئے، سابق بھارتی کپتان محمد اظہرالدین اور پاکستانی کھلاڑی سلیم ملک شامل ہیں۔ ’ہمارے اینٹی کرپشن اور سکیورٹی یونٹ کی سفارش پر برطانیہ کی حکومت نے حال ہی میں سپورٹس میں دھوکہ دہی کے خلاف قانون سازی کی ہے۔‘ ’حکومت کے اس اقدام کو دو ہزار بارہ اولمپکس کے لیے لندن کی تجویز کے سلسلے میں ایک مثبت اقدام سمجھا جانا چاہیے۔‘ کرکٹ سے متعلق ہونے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ میچ شروع ہونے سے پہلے ہونے والے ٹاس سے لیکر فیلڈنگ کے دوران چشمے پہننے والے کھلاڑیوں کی تعداد تک کھیل کے ہر پہلو پر سٹے بازی ہوتی ہے۔ میلکم سپیڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ دیگر کھیلوں کو سٹے بازی سے متعلق اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||