BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 March, 2004, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت میں جوئے بازوں کی موج
کرکٹ کے شیدائی
ممبئی کو کافی عرصے سے بھارت میں جوئے کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ روایتی طور پر دنیا بھر میں کرکٹ پر لگائی جانے والی شرطوں کا تین چوتھائی حصہ ممبئی کے پاس ہوتا ہے۔

بھارت میں شرط باندھنا غیر قانونی ہے لیکن اب یہ صنعت پھل پھول رہی ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ برس بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے کرکٹ کے عالمی کپ کے فائنل میں پانچ سو ملین ڈالر کی شرطیں لگیں۔

اور بھارت میں کرکٹ کے شیدائیوں کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ بھارت کا میچ روایتی حریف پاکستان سے ہو۔

اب جبکہ چودہ برس کے بعد بھارتی ٹیم پاکستان میں کرکٹ کھیل رہی ہے، جواریوں کی مصروفیات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس مرتبہ شرطوں کا گراف اتنا اونچا جائے گا کہ ماضی میں اس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گا۔

ممبئی میں ایک جواری کا کہنا ہے کہ کہ تیرہ مارچ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے پہلے میچ کے دوران بھارت میں ایک بلین ڈالر کی شرطیں لگائی گئیں۔

یہ درست ہے کہ کئی بھارتی حب الوطنی سے مجبور ہو کر بھارت کی جیت پر ہی شرط لگاتے ہیں لیکن جب داؤ زیادہ ہو جائے تو پھر جواریوں کو جذبہ نہیں بلکہ رقم عزیز ہوتی ہے۔

ایک بکی کا کہنا ہے کہ شرط لگانے والے جیتنا چاہتے ہیں اور بڑے جواری ہمیشہ اس ٹیم کی جیت پر شرط لگاتے ہیں جو بہتر ہو خواہ یہ ٹیم پاکستان ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس صرف ایک شرط پر داؤ پانچ ملین ڈالر تک گیا۔

بھارت میں کرکٹ پر جُوے کو فروغ اس وقت ہوا جب انیس سو تراسی میں بھارت نے عالمی کپ میں فتح حاصل کی اور میچ براہِ راست دکھائے جانے کا رواج شروع ہوا۔

سی بی آئی کا کہنا ہے کہ بھارت میں جوئے میں اضافے کی وجہ پبلک گیمبلنگ ایکٹ میں قدرے نرمی ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق پولیس شرط لگانے کو منظم جرم کا درجہ دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس رجحان کو روکنے کی کوششیں اس لئے کامیاب نہیں ہو سکیں کہ لوگ اپنے دھندے شہر سے باہر لے گئے ہیں۔ صرف دس فیصد کاروبار ممبئی میں ہوتا ہے جبکہ باقی باہر۔

شہر کی پولیس کے جوائنٹ کمشنر ستیاپال سنگھ کہتے ہیں کہ جوئے کو روکنا بہت دشوار کام ہے کیونکہ کئی جواری گجرات یا پھر نئی ممبئی کی طرف نکل گئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جوئے کی صنعت کا کنٹرول دبئی میں ہے۔

جوئے بازوں کو اپنا کام شروع کرنے کے لئے ایک موبائل فون، ایک کاپی اور ایک ٹیلی وژن چاہئے۔

شرطیں زبانی کلامی لگتی ہیں اور بھروسے پر لگتی ہیں۔ بس بکی کو فون کیجئے، بھاؤ پوچھیئے اور شرط لگا دیجیئے۔ میچ کے اختتام پر یا آپ کے پیسے گئے یا پھر آپ کو پیسے مل گئے۔

کئی لوگ کہتے ہیں کہ حکومت کو چاہئے کہ اپنی آمدن بڑھانے کے لئے جوئے کے کاروبار کو قانونی حیثیت دے دے۔ اس سے میچ فکسنگ کا مسئلہ بھی نہیں رہے گا۔

ایک جواری کہتے ہیں کہ اگر میچ دلچسپ ہو تو پھر ایک ایک گیند پر شرط لگتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر بھاؤ عجیب و غریب ہو تو سمجھ لیں کے میچ فکسڈ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد