’میچ فِکسنگ ختم نہیں ہو سکتی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے کہا ہے کہ دنیائے کرکٹ سے میچ فکسنگ ختم نہیں ہو سکتی۔ ہمارے نامہ نگار سہیل حلیم نے راولپنڈی میں سرفراز نواز کا انٹرویو کیا ہے جس کی تفصیل ذیل درج ہے: سہیل حلیم: سرفراز آپ نے ہمیشہ میچ فکسنگ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں اس وقت کرکٹ کلین اور شفاف ہے؟ سرفراز نواز: دیکھئے کرکٹ کبھی بھی کلین نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کھیل میں پیسہ بہت ملوث ہو گیا ہے۔ اب تو انڈر ورلڈ کے بڑے نام، جو پہلے فلموں کو سپورٹ کرتے تھے، اب سیاسی جاعتوں کو بھی سپورٹ کر رہے ہیں، وہ بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ سہیل: کیا آپ کے خیال میں آئی سی سی کی جانب سے میچ فکسنگ کو روکنے کے لئے کئے گئے اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہوئے؟ سرفراز: میرے خیال میں آئی سی سی خود بھی میچ فکسنگ میں ملوث ہے۔ اس سے پہلے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور اب انڈیا اور پاکستان میں بھی، میچ فکسنگ تو ہمیشہ سے ہی ہے۔ سری لنکا کے دو وزراء یا کرکٹ بورڈ کے افسران کو گاڑیاں دی گئیں جس کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی۔ جنوبی افریقہ کے کرونئے اور ایک اور کھلاڑی کو فکسنگ کی وجہ سے باہر نکالا گیا تھا لیکن وہ دوبارہ کرکٹ میں آ گئے۔ جدیجہ پر بھی ایسے ہی الزامات ثابت ہوئے، اظہرالدین ابھی تک باہر ہیں لیکن جدیجہ کے بارے میں عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ انہیں کرکٹ کھیلنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ آپ ہی بتائیں کہ یہ سب کیسے ختم ہو سکتا ہے۔ سہیل: کیا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کھیلی جانے والی موجودہ کرکٹ سیریز شفاف ہے؟ سرفراز: اس سیریز کی دو وجوہات ہیں۔ ایک کشمیر اور دوسری وجہ دونوں ممالک میں دوستانہ تعلقات کا استوار کرنا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ حکومتوں سے عوامی نفرت کو بھی ختم کرنا اس سیریز کا ایک مقصد ہے۔ سہیل: لیکن کیا موجودہ سیریز کلین ہے؟ کیا اب بھی میچ فکسنگ کی گئی ہے؟ سرفراز: میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میچ فکسنگ کا اس سیریز سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ محض ایک فرینڈلی اور کشمیر کاز سیریز ہے، اسے چاہے آپ میچ فکسنگ کی طرف لے جائیں یا اسے صاف کر لیں بالآخر نتیجہ آپ کے سامنے ہو گا۔ ایک کیوریٹر باہر سے بلا لیا گیا ہے جو میچوں کے لئے پچیں تیار کرے گا، جس ٹیم کے حق میں پچ تیار کرنی ہو گی یہ کیوریٹر ویسی ہی پچ بنا دے گا۔ جب کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین، سابق کپتان وسیم اکرم کو یہ سب جانتے ہوئے ٹیم کے ہمراہ گراؤنڈ میں بلائیں گے کہ وسیم اکرم اور میانداد کے اختلافات سب پر عیاں ہیں کہ وسیم نے دو یا تین مرتبہ میانداد کو کوچ کے عہدے سے نکلوایا اور پھر آپ جسٹس قیوم کی رپورٹ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اس میں واضح طور پر درج ہے کہ وسیم کو کرکٹ کے نزدیک نظر نہیں آنا چاہئے۔ کمیشن نے وسیم کو کپتانی سے ہٹایا اور یہ بھی کہا گیا کہ وسیم پر بحیثیت کھلاڑی نظر رکھی جائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد وسیم کی کرکٹ میں دخل اندازی بھی ختم کی جائے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اگر موجودہ بورڈ وسیم اکرم کو اپنے گلے سے لگائے گا تو پھر آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اس کی کیا صورت حال ہے۔ سہیل: تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ موجودہ بورڈ بھی پوری طرح ملوث ہے؟ سرفراز: جی ہاں۔۔۔ بورڈ کی انوالومنٹ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے بغیر جوا آگے نہیں بڑھ سکتا۔ عوام اور بورڈ کو واضح دکھائی دیتا ہے کہ کوئی کھلاڑی انڈر پار کھیل رہا ہے۔ سہیل: کیا اس کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ اگر بورڈ ملوث ہے تو موجودہ سیریز بھی کلین نہیں ہے؟ سرفراز: دو ہزار ایک میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جو سیریزکھیلی گئی تھی تو میں نے ٹیسٹ میچ سے سترہ روز پیشتر یاور سعید صاحب کی موجودگی میں توقیر ضیاء صاحب کو خود بتایا تھا کہ پہلا ٹیسٹ میچ فِکسڈ ہے اور پاکستان یہ میچ تین روز میں ہار جائے گا۔ بعد میں بالکل ایسا ہی ہوا کیونکہ جب میں انگلینڈ سے واپس آیا اور توقیر ضیا صاحب سے پوچھا کہ آپ اس معاملے کی انکوائری کریں کیونکہ جیسا میں نے کہا تھا بالکل ویسا ہی ہوا۔ لیکن کوئی کچھ نہ کر سکا۔ سہیل: کرکٹ کو میچ فکسنگ کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے جانے چاہئیں؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||