| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اظہر ہار گئے
اظہرالدین پر بھارتی کرکٹ بورڑ بی سی سی آئی نے تین برس قبل میچ فکِسِنگ کےالزامات کے بعد پابندی عائد کی تھی۔ اس پورے معاملے کی تحقیقات بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے کی تھی۔ تاہم اظہر کے وکلاء نے اس فیصلے کے خلاف یہ کہہ کر اپیل دائر کی کہ بی سی سی آئی کو تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ یہ کیس ڈھائی برس سے چل رہا ہے اور اظہر کے وکلاء کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کے طریقے’ غیر قانونی تھے اور بدنیتی‘ پر مبنی تھے۔ تاہم وکیل ٹی جگدیش نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی اپیل کو مسترد کر دیا گیا ہے اور اب وہ معاملے کو اعلیٰ عدالتوں تک لے جائیں گے۔ محمد اظہرالدین نے ٹیسٹ کرکٹ میں چھ ہزار دو سو پندرہ رن بنائے اور ایک روزہ میچوں میں وہ نو ہزار تین سو اٹھہتر رن کے ساتھ سچن ٹیندولکر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بیٹسمین ہیں۔ دو برس قبل انہو ں نے ایک میگزین کو بتایا تھا کہ ’میچ فکسنگ صرف ایک شخص کا کام نہیں ہو سکتا۔ اس کھیل میں گیارہ کھلاڑی شرکت کرتے ہیں۔ اگر ٹیم ناکام ہوتی ہے تو صرف ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانا بہت زیادہ ناانصافی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا تھا ’اگر پوری ٹیم سازش میں شریک نہیں ہے تو میچ فکسنگ ممکن نہیں ہے۔ صرف ایک شخص بددیانتی نہیں کرسکتا۔‘ میچ فکسنگ کے معاملے میں اجے شرما پر بھی عمر بھر کے لئے پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ منوج پربھاکر اور اجے جڈیجا پر پانچ برس کی پابندی لگائی گئی تھی۔ جڈیجا نے بھی اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اور اس سال جنوری میں ان پر عائد پابندی ہٹا لی گئی۔ انہوں نے مقامی سطح پر دوبارہ کھیلنا بھی شروع کر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |