ہارے بھی تو بازی مات نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے کرکٹ میچ کے دوران شائقین کے جنون نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنے والا ایک مہینہ اسی کی نظر ہو گا۔ پاکستان اور بھارت تو یوں بھی ہر معاملے میں ایک دوسرے کے روائتی حریف سمجھے جاتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ کرکٹ کے میدان میں ان دونوں کے درمیان میچ بھی کانٹے دار ہوتے ہیں ۔ سنیچر کے میچ کے دوران تو اقبال ٹاؤن کے خواجہ سعد نے اپنے دل کے مریض والد کے ٹی وی دیکھنے پر اس لیے پابندی عائد کر دی کہ اتنا تناؤ ان کی صحت کے لیے مناسب نہیں ہے۔ تاہم میچ کی ہر دم بدلتی صورتحال کا تجزیہ جواریوں سےبہتر شائد کوئی اور نہیں کر سکتا۔ اگرچہ بھارتی ٹیم پاکستان کی اے ٹیم سے پریکٹس میچ میں ہار چکی تھی لیکن اس کے باوجود کراچی ون ڈے میچ کے لیے بک میکروں نے بھارت کو فیورٹ قرار دے رکھا تھا۔ یہ تجزیہ درست بھی ثابت ہوا۔
کھیل شروع ہونے سے قبل بھارت کی جیت کا ریٹ ایک روپیہ بیس پیسے نکالا گیا جبکہ پاکستان کا ریٹ اسی پیسے تھا۔ لاہور کے ایک بک میکر استاد رفیق کا کہنا ہے کہ میچ کی بدلتی صورتحال کے ساتھ جواری کی سوچ اور جیت ہار کے بارے میں تـجزیہ بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔اور اسی لحاظ سے شرط کے نرخ بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ سنیچر کو ہونے والے میچ کے دوران بھی یہی ہوا۔ جب بھارت کی اننگز مکمل ہوگئی اوراس نے پاکستان کو جیت کے لیے ساڑھے تین سو رنز کا ایک ایسا ٹارگٹ دیا جو ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں دوسری اننگز کھیلنے والی کسی ٹیم نے عبور نہیں کیا تو اس کی جیت کے امکانات اس قدر روشن ہوچکے تھے کہ اس پر ایک روپیہ لگانے والے کو صرف تیس پیسے کا ریٹ دیا گیا۔ لاہور کے ایک سینئر اخبار نویس صرف شوق اور کھیل میں دلچسپی کو دوآتشہ کرنے کے لیے اکثر چھوٹی موٹی رقم داؤ پر لگاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے میچ شروع ہونے پر تو بھارت کی جیت پر رقم لگائی تھی لیکن جب پاکستان کا ریٹ تیس پیسے رہ گیا یعنی پاکستان کے جیتنے پر انہیں تیس پیسے کے بدلے ایک روپیہ ملنا تھا تو انہوں نے واپس پاکستان کی جیت پر اتنی رقم لگائی کہ کامیابی پر ان کی میچ شروع ہونے سے قبل داؤ پر لگائی جانے والی رقم پوری ہوجاتی اور اگر بھارت جیت جاتا تو بھاری رقم ان کو مل جاتی۔ یعنی پٹ بھی اپنی اور چت بھی اپنی۔ حساب کتاب کے تیز جواری ایسے فن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں ۔ جب آٹھویں اوور میں پاکستان کی دوسری وکٹ گری اس وقت پاکستان کی جیت کے امکانات معدوم ہوچکے تھے اور اس کا نرخ گر کر صرف دس پیسے پر آگیا تھا۔ اس وقت کوئی داؤ لگاتا تو پاکستان کے جیتنے کی صورت میں صرف دس ہزار روپے کے عوض ایک لاکھ روپے ملتے۔ استاد شفیق بتاتے ہیں کہ اس وقت تھوڑی دیر کے لیے پاکستان کے شائقین کی مایوسی انتہا کو تھی اور نرخ اتنا کم کہ انہیں بک ہی بند کرنا پڑی۔
لیکن پھر جیسے جیسے انضمام اور یوسف یوحنا نے سکور کرنا شروع کیا پاکستان کی جیت کا نرخ بہتر ہونا شروع ہو گیا یعنی جیت کی صورت میں ملنے ولی رقم کی شرح گھٹتی گئی اور جب انضمام نے سنچری اور یوسف نے نصف سنچری مکمل کرلی تو دونوں ٹیموں کے ریٹ برابر ہوگئے اور پھر دس پانچ پیسے کے فرق کے ساتھ نرخ مسلسل اوپر نیچے ہوتا رہا۔ آخری اوور تک یہ اتار چڑھاؤ شائقین کے ذہنی تناؤ میں بھی اضافہ کرتا گیا حتٰی کہ آخری اوور آ گیا اور اس کے ساتھ ہی بک میکروں نے اپنی بکس بند کردیں اور جواری زبانی شرطوں پر آگئے۔ یعنی تـجزیے بند اور اندازے شروع ۔ ایک ٹیم کو جیتنا تھا اور ایک کو ہارنا ہی تھا لیکن ایک اچھے میچ نے سیریز کی شروعات کردی ہے اور یہ بھی بتا دیا کہ اب لاہور میں کاروبار حیات کو ہر میچ کے روز ایسے ہی جھٹکے لگیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||