انڈیا سٹے بازوں کا فیورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور انڈیا کے درمیان غیرمعمولی اہمیت کی حامل کرکٹ سیریز کا وقت قریب آتے ہی سٹے باز مافیا بھی متحرک ہوگئی ہے اور انٹرنیٹ پر ریٹ آنا شروع ہوگئے ہیں جس میں بھارت کو فیورٹ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہ کاروبار کرنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ اس بار بہت سختی ہے اور کئی بک میکرز نے بُک نہ چلانے کا اشارہ دیا ہے۔ لیکن ایک رائے یہ بھی تھی کہ بُک ضرور چلے گی لیکن ماضی کی طرح سب کچھ سرعام نہیں ہوگا۔ دوسری جانب بین الاقوامی کرکٹ کونسل آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ نے کرپشن کو روکنے کے لئے اپنے طور پر پیش بندی کرلی ہے۔ عام طور پر کسی کرکٹ سیریز میں ایک ریجنل سکیورٹی منیجر کا تقرر کیا جاتا ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی سیریز کی غیرمعمولی اہمیت اور دونوں ممالک میں سٹے بازی اور شرطیں لگانے کے مخصوص پس منظر کے تحت اینٹی کرپشن یونٹ نے پانچ سکیورٹی منیجرز مقرر کئے ہیں۔ سیریز میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے سکیورٹی منیجر کرنل ( ریٹائرڈ ) نورالدین خواجہ کے علاوہ ایری ڈی بیئر، مارٹن ہاکن اور ایلن پیکاک کی تقرری عمل میں آئی ہے جبکہ ایک اور سکیورٹی منیجر کا تقرر چند روز میں کردیا جائےگا ۔ یہ لوگ سٹیڈیمز اور ہوٹلوں میں کھلاڑیوں اور مشکوک افراد کی حرکات وسکنات پر نظر رکھیں گے۔ پاک بھارت سیریز کے موقع پر ڈریسنگ رومز کے راستوں پر کلوز سرکٹ کیمرے نصب کئے جارہے ہیں اور موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے میچوں کے دوران عام شائقین پرموبائل اسٹیڈیم لے جانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے ۔ پاکستان اور بھارت میں سٹے بازی کے مخصوص ماحول اور کروڑوں روپے کے اس بزنس میں عام فرد کے علاوہ اسٹاک ایکسچنج سے وابستہ کئی افراد کی غیرمعمولی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اینٹی کرپشن یونٹ کے لئے مشکوک افراد کو کھلاڑیوں تک پہنچنے تک روکنا کسی چیلنج سے کم نہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||