اسلامک گیمز سے ٹیم کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں ہونے والی پہلی اسلامک گیمز میں شرکت کے بعد پاکستان کا دستہ جمعہ کو لاہور پہنچا تو سب سے زیادہ پزیرائی ٹینس ٹیم کےکھلاڑیوں کو ہی ملی۔ پاکستان نے اسلامک گیمز میں دس کھیلوں میں شرکت کی اور صرف ٹینس ہی ایسا کھیل تھا کہ جس میں کامیابی ملی۔ پاکستان کسی اور کھیل میں کوئی بھی تمغہ حاصل نہ کر سکا۔ پاکستان نے ٹینس میں تین طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔اور انہی میڈلز کے سبب پاکستان میڈل ٹیلی میں گیارہویں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکا۔ ڈبلز مقابلے میں پاکستان کے سٹار ٹینس کھلاڑی اعصام الحق اور عقیل خان نے انڈونیشیا کے جوڑے کو شکست دے کر دوسرا گولڈ میڈل جیتا۔ سنگلز فائنل میں پاکستان کے اعصام الحق نے کویت کے الغریب کو مات دے کر اپنے ملک کے لیے تیسرا گولڈ میڈل جیتا۔ عقیل خان نے پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ وطن وا پسی پر اعصام الحق نے کہا کہ وہ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ ان کے سبب پہلی اسلامک گیمز میں پاکستان کا جھنڈا سر بلند ہوا ۔انہوں نے کہا کہ اسلامک گیمز میں شرکت کے لیے روانگی سے قبل ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ ٹینس ہی میں میڈلز آئیں گے اور پاکستانی دستے کے پرچم بردار ہونے کے سبب ان پر دہری ذمہ داری تھی۔ اعصام نے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھا سکے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں کے تینوں گولڈ میڈلز جیتنے میں پوری ٹیم اور خصوصاّ عقیل خان کی محنت شامل ہے۔ عقیل خان بھی اس کامیابی پر بہت فخر محسوس کر رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں ٹینس میں کافی اچھی ٹیمیں تھیں اور انہیں ہرانا آسان نہ تھا۔ پاکستان کے ٹینس کے کھلاڑیوں کو اسلامک گیمز کے بعد آرام کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ انتیس اپریل سے لاہور میں چائنہ تپائی کے خلاف ایشیا ایشیانا گروپ ون ڈیوس کپ ٹینس ٹائی شروع ہو رہی ہے۔ یہ ایک اہم ٹائی ہے جس کو جیت کر پاکستان ڈیوس کپ کے ورلڈ گروپ کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کے ان دونوں ٹینس کھلاڑیوں نے تھائی لینڈ کی مضبوط ٹیم سے ڈیوس کپ ٹائی جیتی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||