ٹینس ریکٹ چند ہاتھوں میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ٹینس کبھی عوام کا کھیل نہیں رہا۔عام طور پر صاحب ثروت افراد پرائیوٹ کلبوں اور جمخانوں میں وقت گزاری یا اپنی فٹنس کا خیال رکھنے کے لیے ریکٹ تھامے کورٹ میں دکھائی دیتے ہیں یا پھر ان کلبوں کے کوچز کے بچے خاندانی پس منظر میں اپنے بڑوں کی خواہشات کی تکمیل کے لیے اس کھیل کو اپناتے ہیں۔ پاکستان ٹینس میں فیملیز کا کردار بہت اہم رہا ہے ستر کے عشرے میں رحیم برادران نے بہت شہرت پائی جن میں ہارون رحیم بین الاقوامی سطح پر ایک ورلڈ کلاس کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے ملک سے باہر صف اول کے کھلاڑیوں کے مقابلے پر عمدہ کارکردگی دکھائی۔ ان کے بھائیوں عثمان رحیم اور نعیم رحیم نے بھی اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ اس خاندان کی دوسری نسل جس میں مریم رحیم اور حلیمہ رحیم قابل ذکر ہیں اسوقت ٹینس کورٹ میں موجود ہے۔ رحیم فیملی کے بعد دوسری فیملی حق برادران کی ہے۔ اسلام الحق، انعام الحق اور حمید الحق نے بھی پاکستان کے لیے اچھے نتائج دیے ہیں۔ جہاں تک کوچز کے بچوں کا تعلق ہے تو ان میں محمد خالق، محمد خالد اور الطاف حسین اور شاہد حسین کے نام سامنے آتے ہیں جن کے والد کوچز ہیں ، پاکستان کے موجودہ نمبر ایک کھلاڑی عقیل خان بھی مقامی کوچ جمیل خان کے بیٹے ہیں۔ پاکستان میں ٹینس عوام کا کھیل کیوں نہیں بن سکا ؟ سابق نمبر ایک انعام الحق اس بارے میں کہتے ہیں کہ ایک نوجوان جو ٹینس کھیلنا چاہتا ہے اسے کھیلنے کے مواقع میسر نہیں ہے۔ ایسے کورٹس کی کمی ہے جہاں عام آدمی کی رسائی ہو۔ اسلام آباد میں پاکستان ٹینس فیڈریشن کمپلیکس بنارہی ہے جس میں حکومت کا تعاون بھی شامل ہے۔ اس کمپلیکس میں کوچز بھی موجود ہیں امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انعام الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے باصلاحیت کھلاڑی ہیں لیکن فیڈریشن ہر ایک کو اسپانسر نہیں کرسکتی اس سلسلے میں نجی اداروں کو بھی آگےآنا ہوگا تاکہ وہ ملک سے باہر ہونے والے ٹورنامنٹس میں حصہ لے سکیں۔ فی الحال اعصام الحق اور عقیل خان ہی ملک سے باہر ہونے والے مقابلوں میں حصہ لے سکے ہیں۔ موجودہ سیٹلائٹ ٹورنامنٹس میں عاصم شفیق، شہزاد خان اور نومی قمر نے بھی رینکنگ پوائنٹس حاصل کیے ہیں لیکن وہ پاکستان سے باہر کھیلنے کے مواقع ملنے کی صورت میں ہی ان پوائنٹس کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ پاکستان نمبر ایک عقیل خان کے خیال میں اسپانسرشپ کی اشد ضرورت ہے۔ موجودہ پرفارمنس نے ان کی سوچ میں تبدیلی پیدا کی ہے اور انہوں نے ملک سے باہر ہونے والےٹورنامنٹس میں شرکت کے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے جو کچھ عرصہ قبل تک صرف ملکی سطح کے ٹورنامنٹس تک محدود تھی۔ وجہ ظاہر ہے کہ اسپانسر کا نہ ہونا تھی لیکن اب کچھ اسپانسر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے۔ عقیل خان کا کہنا ہے کہ بھارت میں قومی سطح کے ٹورنامنٹس کم لیکن انٹرنیشنل ٹورنامنٹس زیادہ ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان میں ٹینس کے ایک خاص سطح تک محدود رہنے میں پاکستان ٹینس فیڈریشن بھی ذمہ دار ہے جس سے وہ وسائل کی کمی کا بہانہ کرکے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر ٹورنامنٹس کی تعداد کم سے کم ہوتی چلی گئی ہے جبکہ کھیل بڑا یا کھلاڑی ؟ کے مصداق ڈیوس کپ میں اعصام الحق کی عدم شرکت کے معاملے میں بھی وہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی آئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو گروپ ایک سے گروپ دو میں تنزلی کے خطرے کا سامنا ہے۔ اس ماہ پاکستان کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہو رہا ہے جیت کی صورت میں پاکستان ڈیوس کپ کے گروپ ایک میں رہے گا لیکن شکست کی صورت میں اسے گروپ دو میں جانا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||