BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 July, 2005, 08:41 GMT 13:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن دھماکے: 38 ہلاک، 700 زخمی
زخمی
زخمیوں کی تعداد سات سو سے زائد بتائی جا رہی ہے
لندن کے کئی ریلوے سٹیشنوں اور ایک بس دھماکے میں اب تک38 ہلاکتوں اور 700 زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ دھماکے مرکزی لندن میں جمعرات کی صبح زیرِ زمین ٹرین سٹیشنوں اور ایک مسافر بس میں ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد لندن کے ٹرانسپورٹ نظام کو نشانہ بنانا تھا۔

پولیس نے متنبہ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے تعداد بڑھ سکتی ہے۔ اس سے پہلے لندن پولیس کے ایک اعلی اہلکار ڈپٹی اسٹنٹ کمشنر برائن پیڈک نے تینتیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر صرف دو افراد کی ہلاکتوں کی خبر دی گئی تھی لیکن دھماکوں کی شدت کے پیش نظر خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مرنے والے کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ عینی شاہد ابتداء ہی سے اطلاعات دے رہے تھے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔

پہلا دھماکہ لیور پول سٹریٹ سٹیشن کے قریب ایک سرنگ میں ہوا اور اس دھماکے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ دوسرا دھماکہ رسل سکوائر کے زیرِ زمین ریلوے سٹیشن پر ہوا اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اکیس بتائی گئی ہے۔

 دھماکے کی آواز سن کر جب ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بس کا اوپر والا حصہ اڑ چکا تھا۔
امریکی سیاح
ایجوئر روڈ پر تیسرا دھماکہ ہوا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ چوتھا دھماکہ ٹیوزسٹاک سکوائر پر ایک دو منزلہ یا ڈبل ڈیکر مسافر بس میں ہوا۔ اس دھماکے سے بس کی چھت اُڑ گئی۔ پولیس نے اس دھماکے میں بھی لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے لیکن ابھی تک تعداد نہیں بتائی۔

لندن ایمبولینس سروس کے ایک اہلکار رسل سمتھ نے کہا ہے کہ ان کے عملے نے پینتالیس زخمیوں کو طبی امداد مہیا کی جن کو شدید زخم آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ تین سو سے زیادہ ایسے افراد کو بھی طبی امداد مہیا کی گئی جو معمولی زخمی ہوئے تھے۔

ان دھماکوں کی اطلاع کے بعد لندن کےزیرِ زمین ریلوے نظام اور مرکزی لندن میں بسوں کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیاہے۔

News image
دھماکے کہاں کہاں ہوئے

یہ دھماکے صبح دفتری اوقات شروع ہونے سے قبل ہوئے جس دوران ریلوے سٹیشنوں پر مرکزی لندن میں واقع دفاتر میں آنے والوں کا شدید رش ہوتا ہے۔
وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ان دھماکوں کو دہشت گردی کی واردات قرار دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عرب ذرائع نے کہا ہے وہ یہ بات تقریباً یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ لندن میں ہونے والے دھماکے القاعدہ نے کیے ہیں۔

برطانوی دارالعوام میں حکومتی پارٹی کے لیڈراور سابق وزیر دفاع جیف ہون کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ برطانوی معاشرے اور جمہوریت میں خلل ڈالنے والوں پر یہ واضع کر دے کہ حکومت ان کی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں۔

ایک عینی شاہد نے جو کہ اسی ٹرین میں سفر کر رہا تھا جس میں ایجوئر روڈ کے قریب دھماکہ ہوا کہا ہے کہ اس نے دھماکے کے بعد کئی لاشوں کو گاڑی میں پھنسے ہوئے دیکھا۔

News image

ایک دوسرے عینی شاہد کے مطابق اُس نے رسل سکوائر کے قریب بس دھماکے کے بعد کئی زخمی اور ہلاک لوگوں کو دیکھا ہے۔

ریلوے نظام کے بند ہوجانے کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بہت سی ٹرینیں زیر زمین سرنگوں میں رک گئیں اور ان میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی شدید پریشانی اٹھانی پڑی۔

عینی شاہدوں نے بتایا کہ پورے شہر میں سڑکوں پر پولیس کی گاڑیاں گشت کرتی نظر آ رہی تھیں اور اس کے علاور پولیس کے ہیلی کاپٹر بھی فضا میں موجود تھے۔

متعدد جگہوں پر فوجیوں کو بھی حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی مدد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

اس دھماکے کے بعد حکام نے مرکزی لندن آنے والے لوگوں کو روک دیا اور انہیں واپس جانے کی ہدایت کرتے رہے۔

66لندن: کہاں کیا ہوا
لندن میں کس جگہ کیا ہوا: نقشے پر کلک کریں
عینی شاہدوں کی زبانی
لندن دھماکوں میں عینی شاہدوں نے کیا دیکھا۔
66لندن دھماکے
آپ نے کیا دیکھا، ہمیں لکھئیے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد