لندن دھماکے: 38 ہلاک، 700 زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے کئی ریلوے سٹیشنوں اور ایک بس دھماکے میں اب تک38 ہلاکتوں اور 700 زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ دھماکے مرکزی لندن میں جمعرات کی صبح زیرِ زمین ٹرین سٹیشنوں اور ایک مسافر بس میں ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد لندن کے ٹرانسپورٹ نظام کو نشانہ بنانا تھا۔ پولیس نے متنبہ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے تعداد بڑھ سکتی ہے۔ اس سے پہلے لندن پولیس کے ایک اعلی اہلکار ڈپٹی اسٹنٹ کمشنر برائن پیڈک نے تینتیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر صرف دو افراد کی ہلاکتوں کی خبر دی گئی تھی لیکن دھماکوں کی شدت کے پیش نظر خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مرنے والے کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ عینی شاہد ابتداء ہی سے اطلاعات دے رہے تھے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔ پہلا دھماکہ لیور پول سٹریٹ سٹیشن کے قریب ایک سرنگ میں ہوا اور اس دھماکے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ دوسرا دھماکہ رسل سکوائر کے زیرِ زمین ریلوے سٹیشن پر ہوا اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اکیس بتائی گئی ہے۔ لندن ایمبولینس سروس کے ایک اہلکار رسل سمتھ نے کہا ہے کہ ان کے عملے نے پینتالیس زخمیوں کو طبی امداد مہیا کی جن کو شدید زخم آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تین سو سے زیادہ ایسے افراد کو بھی طبی امداد مہیا کی گئی جو معمولی زخمی ہوئے تھے۔ ان دھماکوں کی اطلاع کے بعد لندن کےزیرِ زمین ریلوے نظام اور مرکزی لندن میں بسوں کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیاہے۔
یہ دھماکے صبح دفتری اوقات شروع ہونے سے قبل ہوئے جس دوران ریلوے سٹیشنوں پر مرکزی لندن میں واقع دفاتر میں آنے والوں کا شدید رش ہوتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عرب ذرائع نے کہا ہے وہ یہ بات تقریباً یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ لندن میں ہونے والے دھماکے القاعدہ نے کیے ہیں۔ برطانوی دارالعوام میں حکومتی پارٹی کے لیڈراور سابق وزیر دفاع جیف ہون کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ برطانوی معاشرے اور جمہوریت میں خلل ڈالنے والوں پر یہ واضع کر دے کہ حکومت ان کی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں۔ ایک عینی شاہد نے جو کہ اسی ٹرین میں سفر کر رہا تھا جس میں ایجوئر روڈ کے قریب دھماکہ ہوا کہا ہے کہ اس نے دھماکے کے بعد کئی لاشوں کو گاڑی میں پھنسے ہوئے دیکھا۔
ایک دوسرے عینی شاہد کے مطابق اُس نے رسل سکوائر کے قریب بس دھماکے کے بعد کئی زخمی اور ہلاک لوگوں کو دیکھا ہے۔ ریلوے نظام کے بند ہوجانے کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بہت سی ٹرینیں زیر زمین سرنگوں میں رک گئیں اور ان میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی شدید پریشانی اٹھانی پڑی۔ عینی شاہدوں نے بتایا کہ پورے شہر میں سڑکوں پر پولیس کی گاڑیاں گشت کرتی نظر آ رہی تھیں اور اس کے علاور پولیس کے ہیلی کاپٹر بھی فضا میں موجود تھے۔ متعدد جگہوں پر فوجیوں کو بھی حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی مدد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس دھماکے کے بعد حکام نے مرکزی لندن آنے والے لوگوں کو روک دیا اور انہیں واپس جانے کی ہدایت کرتے رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||