لندن دھماکے: ملزموں کی تلاش شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز لندن میں ہونے والے بم حملوں کے ذمہ دار عناصر کو گرفتار کرنے کے لیے ایک بہت بڑا انٹیلیجنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ لندن کی سڑکوں پر پولیس پٹرول گاڑیاں بڑی تعداد میں گشت کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ تین میٹرو ٹرینوں اور ایک بس میں ہونے والے ان بم دھماکوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک اور سات سو زائد زخمی ہوئے تھے۔ زخمی ہونے والوں میں سے پچپن کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے بم حملے ان کارروائیوں سے مشابہت رکھتے ہیں جن کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ پولیس نے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ مشتبہ اشیاء سے ہوشیار رہیں۔ جمعرات کے روز ہونے والے بم حملوں میں ابتدائی طور پر صرف دو افراد کی ہلاکتوں کی خبر دی گئی تھی لیکن دھماکوں کی شدت کو دیکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مرنے والے کی تعداد کہیں زیادہ ہوگی۔ عینی شاہد ابتداء ہی سے اطلاعات دے رہے تھے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایجوئر روڈ پر تیسرا دھماکہ ہوا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ چوتھا دھماکہ ٹیوزسٹاک سکوائر پر ایک دو منزلہ یا ڈبل ڈیکر مسافر بس میں ہوا۔ اس دھماکے سے بس کی چھت اُڑ گئی۔ پولیس نے اس دھماکے میں بھی لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے لیکن ابھی تک تعداد نہیں بتائی۔ لندن ایمبولینس سروس کے ایک اہلکار رسل سمتھ نے کہا ہے کہ ان کے عملے نے پینتالیس زخمیوں کو طبی امداد مہیا کی جن کو شدید زخم آئے تھے۔
ان دھماکوں کی اطلاع کے بعد لندن کےزیرِ زمین ریلوے نظام اور مرکزی لندن میں بسوں کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیاہے۔ یہ دھماکے صبح دفتری اوقات شروع ہونے سے قبل ہوئے جس دوران ریلوے سٹیشنوں پر مرکزی لندن میں واقع دفاتر میں آنے والوں کا شدید رش ہوتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عرب ذرائع نے کہا ہے وہ یہ بات تقریباً یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ لندن میں ہونے والے دھماکے القاعدہ نے کیے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||