 |  ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے |
لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ وہ ابھی یقینی طور پر یہ نہیں کہا سکتے کہ شہر میں ہونے والے دھماکوں میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کسی گروہ کا ہاتھ ہے۔ ان اطلاعات پر کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کسی گروہ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے پولیس کے حکام نے کہا کہ ابھی وہ ان دعووں کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے۔ لندن میں سیکیورٹی کے انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس کے حکام نے کہا وہ ان دھماکوں کی تفتیش دہشت گردی کی وارداتوں کے طور پر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وارداتوں کی تفتیش’کھلے ذہن اور کھلی آنکھوں‘سے کرنا چاہتے ہیں۔ لندن پولیس نے کہاکہ دھماکوں سے پہلے شہر میں سیکیورٹی کی انتظامات ٹھیک تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے پہلے انہیں کوئی دھمکی یا پیشگئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ |