BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 July, 2005, 23:47 GMT 04:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم تنظیموں کا اظہار مذمت
News image
سکارف اوڑھنے والی خواتین کو چوکنا رہنے کو کہا گیا ہے
برطانیہ کی مسلمان تنظیموں نے لندن میں ہونے والے بم حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مسلم رہنماؤں نے ساتھ ہی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ملک کی مسلم آبادی لندن حملوں کے ردِ عمل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مسلم کونسل آف برٹین کے سیکریٹری جنرل سر اقبال سکرانی نے کہا کہ وہ لندن کے ٹرانسپورٹ نظام پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

’ہمیں ان حملوں سے شدید دکھ پہنچا ہے اور ہم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان کے ساتھ دلی طور پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ دھماکوں کے ذمہ دار دہشت گرد بُرے عناصر ہیں جو برطانوی قوم کا حوصلہ پسند کرنا اور اس میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

سراقبال سکرانی نے کہا کہ پوری برطانوی قوم کو اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے مل کر دھماکوں کے ذمہ دار عناصر کو ڈھونڈنا چاہیے۔

مسلم ایسوسی ایشن آف بریٹن کے صدر احمد شیخ نے کہا ہے کہ لندن میں ہونے والے حملوں کے بعد برطانیہ کی مسلم آبادی نسبتاً کم محفوظ ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف پر سکارف لینے والی خواتین کو خاص طور پر خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ہوہشیار رہیں۔

انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجدوں اور اسلامی سکولوں کے لیے حفاظت کے نظام کو مزید موثر بنائے۔

مسلم نیوز کے اڈیٹر احمد وارثی نے کہا ہے کہ لندن میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں پہلے ہی دھماکوں سے متعلق دھمکی آمیز ای میل مل چکی ہے۔

’ہمیں خدشہ ہے کہ مسلمان برادری خاص طور پر مسجدوں، کمیونٹی سنٹروں اور سکارف اوڑھنے والی مسلم خواتین پر حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد