مسلم تنظیموں کا اظہار مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی مسلمان تنظیموں نے لندن میں ہونے والے بم حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مسلم رہنماؤں نے ساتھ ہی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ملک کی مسلم آبادی لندن حملوں کے ردِ عمل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مسلم کونسل آف برٹین کے سیکریٹری جنرل سر اقبال سکرانی نے کہا کہ وہ لندن کے ٹرانسپورٹ نظام پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ’ہمیں ان حملوں سے شدید دکھ پہنچا ہے اور ہم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان کے ساتھ دلی طور پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ دھماکوں کے ذمہ دار دہشت گرد بُرے عناصر ہیں جو برطانوی قوم کا حوصلہ پسند کرنا اور اس میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ سراقبال سکرانی نے کہا کہ پوری برطانوی قوم کو اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے مل کر دھماکوں کے ذمہ دار عناصر کو ڈھونڈنا چاہیے۔ مسلم ایسوسی ایشن آف بریٹن کے صدر احمد شیخ نے کہا ہے کہ لندن میں ہونے والے حملوں کے بعد برطانیہ کی مسلم آبادی نسبتاً کم محفوظ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف پر سکارف لینے والی خواتین کو خاص طور پر خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ہوہشیار رہیں۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجدوں اور اسلامی سکولوں کے لیے حفاظت کے نظام کو مزید موثر بنائے۔ مسلم نیوز کے اڈیٹر احمد وارثی نے کہا ہے کہ لندن میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پہلے ہی دھماکوں سے متعلق دھمکی آمیز ای میل مل چکی ہے۔ ’ہمیں خدشہ ہے کہ مسلمان برادری خاص طور پر مسجدوں، کمیونٹی سنٹروں اور سکارف اوڑھنے والی مسلم خواتین پر حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||