لندن: زندگی معمول پر واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں جمعرات کو دھماکوں کے بعد زندگی معمول پر آ رہی ہے، لوگ کام پر واپس آ رہے ہیں اور شہر میں ذرائع نقل و حمل بحال کر دیئے گئے ہیں۔پولیس نے جمعرات کو شہر میں لگائے گئے ناکے ہٹا لیے ہیں۔ لندن میں جمعرات کو زیر زمین ٹرینوں اور ایک بس میں ہونے والے دھماکے دوسری جنگ عظیم کے بعد شہر پر سب سے بڑا حملہ تھا۔ مسافروں کو بتایا جا رہا ہے کہ ان کو سفر میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دریں اثناء لندن کے سینٹ پال کیتھیڈرل میں دن بھر دعا کی جائے گی۔ لندن کے بشپ رچرڈ چارٹرز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اسلام اور خدا کے خلاف تھے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ تمام شہری اس موقع پر اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کریں گے۔ پولیس نے مسافروں کو ہوشیار رہنے کے لیے کہا ہے۔ پولیس ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ آیا دھماکوں میں خودکش حملہ آور ملوث تھے۔ برطانوی حکومت نے مسلمان شدت پسندوں پر ذمہ داری عائد کی ہے۔ وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ ان حملوں کے طریقۂ کار کو دیکھتے ہوئے القاعدہ پر شبہ ہوتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||