یورپ میں حفاظتی انتظامات سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ کے ممالک نے لندن میں ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور اپنے ملکوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔ فرانس، ہسپانیہ، ہالینڈ اور اٹلی نے قومی سطح پر حفاظتی انتظامات کا درجہ بڑھا دیا ہے جبکہ بیلجیم نے ہنگامی حالت سے نمٹنے کی تیاری میں اضافہ کیا ہے۔ یورپی یونین کے انصاف کے کمشنر نے یورپی یونین کے ممالک سے برطانیہ کو امداد کی پیش کرنے کے لیے کہا ہے۔ یورپ میں ہوائی اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر حفاظتی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔
ہسپانیہ جہاں پر گزشتہ سال گیارہ مارچ کو ایک حملے میں ایک سو اکیانوے افراد ہلاک ہو گئے تھے انسداد دہشت گردی الرٹ کو سب سے زیادہ درجہ تک بڑھا دیا گیا ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم نے ریڈ الرٹ کا اعلان کیا جو دوسرے انتہائی درجے کے انتظامات ہیں۔ لندن اور پیرس کے درمیان ریل گاڑی پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے حفاظتی انتظامات خاص طور پر سخت کیے گئے ہیں۔ ہالینڈ کے وزیر اعظم نے کہا کہ سرحدوں اور برطانوی تنصیبات کے ارد گرد سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے حفاظتی انتظامات کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ یورپی یونین کے ممالک نے لندن میں حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ فرانس کی سینیٹ نے حملوں کا شکار ہونے والوں کے احترام میں اپنی کارروائی معطل کر دی جبکہ یورپی پارلیمان نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ یورپی پارلیمان کے صدر نے برطانوی لوگوں کے نام ایک پیغام میں کہا کہ ’ہم سب آپ کے ساتھ ہیں اور ہم کبھی بھی ظلم اور دہشت گردی کو امن اور جمہوریت کی اقدار کو شکست نہیں دینے دیں گے‘۔ یورپی یونین کے انصاف کے کمشنر نے کہا کہ لندن میں ہونے والے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی نے ایک بار پھر یورپ کے دل پرحملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں فوری طور پر خفیہ اداروں اور پولیس کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہونا چاہیے اور انگلینڈ کو ضروری امداد دی جانی چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||