نفرت کے بم اور لندن کا عزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر میرے خاندان کی کوئی بڑی بوڑھی یہاں ہوتی تو یہ ضرور کہتی کہ لندن کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ ایک دن پہلے ہی حیرت انگیز طور پر لندن کا اولمپک کی دوڑ جیتنا اور پورے لندن میں خوشی کے نعرے اور نعروں کی گونج اور پھر چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی لندن کا ایک مرتبہ پھر لرزنا اور لوگوں کی چیخیں۔ یہ اس خوبصورت شہر کو نظر لگنا نہیں تو اور کیا ہے۔ ایک ہنستا ہنساتا لندن ایک دم سوگوار ہو گیا۔ جمعرات کو لندن میں ہونے والے چار خوفناک دھماکوں میں تقریباً پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہو گئے۔ تین دھماکے ٹیوب سٹیشنوں کے اندر اور ایک مسافروں سے بھری بس میں ہوا۔ بس کی حالت بتاتی ہے کہ دھماکہ کتنا خوفناک تھا۔ ٹرینوں کو ہم ابھی نہیں دیکھ سکے کیونکہ وہ ابھی سرنگوں کے اندر ہی ہیں اور ماہرین ابھی تک تفتیش کر رہے ہیں۔ کچھ سالوں سے لندن دہشت گرد حملے کے خوف کے سائے میں رہ رہا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والے افراد کئی مرتبہ کہہ چکے تھے کہ لندن پر حملہ ہو سکتا ہے۔ کب؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا اور نہ ہی شاید کبھی کسی کے پاس ہوتا ہے۔
لندن پر ہونے والے حملہ گیارہ ستمبر کو ہونے والے نیویارک پر حملے سے مشابہت رکھتا تھا یا سپین کے شہر میڈرڈ کے ٹرین پر ہونے والے حملے سے، اتنا خطرناک تھا یا کم، یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن لندن کے باسی اس کے لیے شاید تیار سے لگتے تھے۔ جس طرح حملے کے بعد ایجنسیوں اور عوام نے ردِ عمل ظاہر کیا اس سے لگتا تھا کہ یہ حملہ لندن کے لاشعور میں موجود تھا۔ اگرچہ نیویارک میں لندن سے بہت زیادہ جانیں ضائع ہوئیں لیکن یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے اس وقت ہوئے تھے جب کہ ابھی وہاں زیادہ لوگ نہیں آئے تھے۔ لیکن لندن کو تو اس وقت ٹارگٹ بنایا گیا جب ٹرینیوں اور بسیں کام پر جانے والے مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہوتیں ہیں۔ اس طرح یہ پیغام بھی دیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنا حملہ آووروں کے لیے کوئی بعید نہیں ہے۔ تقریباً پچاس افراد کی موت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کا صدمہ بھی کوئی کم صدمہ نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی خدا کا شکر کرنا چاہیئے کہ کہ اگر کنگز کراس جیسے سٹیشن پر یا مسافروں سے بھری بند سرنگ میں موجود ٹرین کو اڑانے کے لیے اگر کوئی زیادہ وزنی بم استعمال کیا جاتا تو نتیجہ کیا ہو سکتا تھا۔
لندن نے جنگ تو دیکھی ہے اور ہلاکتیں بھی لیکن جنگ کے علاوہ اس شہر میں کبھی اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں نہیں ہوئیں اور نہ ہی کبھی اس نے دہشت گردی کا ایسا گھناؤنا روپ دیکھا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے دنیا بھی ایک ایسی جنگ میں مبتلا ہے جسکا کوئی باقاعدہ روپ نہیں ہے۔ جنگ جب تک گھر سے باہر رہے اس میں استعمال ہونے والے گولوں کی تپش اس طرح محسوس نہیں ہوتی جس طرح گھر سے باہر رہنے والوں کو محسوس ہو رہی ہوتی ہے لیکن اگر یہ گھر کے اندر آ جائے تو ہر چیز جھلس جاتی ہے۔ لندن میں ایسا لگا کہ ایک دن کے لیے ہر چیز جھلس گئی اور وہ سب چیخیں اور آہیں جن کے متعلق امن پسند اور جنگ کے مخالفین دونوں ہی کئی سالوں سے خبردار کر رہے تھے ایک دن سرنگ سے نکل آئیں اور ہوا میں بکھر گئیں۔ بالکل ٹیوسٹاک سکوائر پر ’بکھرنے‘ والی والی سرخ بس کی طرح۔ یہ کون لوگ تھے؟ کیا دہشت گرد کی کوئی شکل ہوتی ہے؟ یہ کوئی بھی نہیں ہے اور یہ ہر ایک ہے۔ دہشت گرد امریکہ میں بھی اتنا ہی خوفناک ہے جتنا کہ افغانستان میں، عراق میں اتنا ہی بھیانک ہے جتنا کہ میڈرڈ میں اور لندن میں بھی اتنا ہی قبیح ہے جتنا لاہور میں۔ اب اگر لاہور کا ذکر آیا ہے تو بتاؤں مجھے لندن سے کتنا پیار ہے؟ جواب صرف یہ ہے کہ یہ مجھے لاہور جیسا لگتا ہے۔ اس کی فضا میں ایک کشش ہے جو اس کی مماثلت لاہور سے کرتی ہے۔ لاہور ایک گھر ہے اور لندن بھی۔ یہ امریکہ یا نیویارک کی طرح نہیں ہے۔ یہ بھی ایک گھر کی طرح ہے جہاں سب ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ چاہے وہ محلے میں موجود قطار اندر قطار گھر ہوں یا ٹیوب میں کندھے سے کندھا ملا کر جاتے ہوئے لوگ۔ جمعرات کو ان افراد کو جدا کرنے کی کوشش تو ضرور کی گئی ہے لیکن وہ بم اتنے طاقتور نہیں تھے کہ گھر میں رہنے والےان لوگوں کو الگ کر سکتے۔ نفرت کے بم جسموں کو تو شاید نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن روحوں کے لیے وہ ابھی اتنے طاقتور نہیں ہوئے۔ لندن زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||