BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 July, 2005, 20:59 GMT 01:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکوں کے بعد، لندن دوسرے دن

لندن
ایجوئر روڈ پر بھی لوگوں کی آمد رفت جاری تھی لیکن لوگ بجھے ہوئے تھے
پولیس گاڑیوں کے سائرنوں کی آواز سے اگرچہ یہ لگتا تھا کہ اب بھی وہ ان مقامات کی طرف دوڑی جا رہی ہیں جہاں گزشتہ روز دھماکے ہوئے تھے لیکن لندن میں جمعہ کا دن خاصا مختلف تھا۔ جمعرات کے بعد یہ آوازیں غیرمانوس نہیں تھیں کیونکہ شہر میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات تھے۔

اہم مقامات، تمام زیرزمین اور ٹرین اسٹیشنوں پر پولیس تعینات تھی اور بعض مقامات کو بم کے شبہے میں خالی کرانے کے واقعات بھی ہوئے۔ تاہم اس سب کے باوجود حکام نے اس بات کی بھرپور کوشش کی تھی کہ دھماکوں سے گزرے ہوئے برطانوی دارالحکومت میں زندگی کو زیادہ سے زیادہ معمول پر واپس لایا جاسکے۔

شہر میں کچھ کچھ خوف کا احساس تھا اور رونق عام دنوں سے بہت کم تھی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ خود حکومت نے لوگوں کو بنا کسی انتہائی اشد ضرورت گھروں پر ہی رہنے کا مشورہ دیا تھا۔

لندن کا مشہور زیرزمین ٹرانسپورٹ نظام جس کو ٹیوب بھی کہا جاتا ہے، جزوی طور پر بحال کردیا ہو چکا تھا اور زیرزمین ٹرینیں کافی تعداد میں چلنے لگی تھیں۔ ویسے یہ اور بات ہے کہ ان میں رش معمول سے خاصا کم تھا۔

ایک بم حملے کا نشانہ بننے والے کنگس کراس اسٹیشن کے سوا تقریباً تمام ہی ریلوے اسٹیشن کھلے رہے گو ایک اسٹیشن لیورپول اسٹریٹ کو ایک مشتبہ پیکٹ ملنے کے بعد عارضی طور پر خالی کرایا گیا۔ بعد میں یہ پیکٹ بے ضرر ثابت ہوا۔

شہر میں بسیں بھی نسبتاً کم تعداد میں تھیں۔ جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے تو لوگوں نے اب تک نہ تو کوئی افراتفری دکھائی ہے اور نہ ہی کسی طرح کے غیرمعمولی خوف و ہراس کا مظاہرہ کیا ہے۔

لندن میں بہت سے لوگ آج اپنے دفاتر میں بھی معمول کے مطابق آئے تاکہ شہر کی صورتحال کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

لندن کے یہ مختلف شہریوں کا کہنا تھا کہ خوفزدہ ہونے سے تو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ ایک کا کہنا تھا کہ اس کو یہ احساس ہورہا تھا کہ اگر وہ آج دفتر نہ گیا تو پیر کو صورتحال مزید خراب بھی ہوسکتی ہے اور اس کو نوکری سے برطرف بھی کیا جا سکتا ہے۔

News image
امدادی اداروں نے لنفن میں مثالی خدمات انجام دیں

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ آج لوگ کم نروس تھے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کا احساس ہورہا تھا۔

ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ عموماً اس کی دکان پر صبح سات بجے سے رش ہوجاتا تھا مگر آج صورتحال معمول کے مقابلے میں خاصی خاموش ہے۔

ایک اور خاتون کا کہنا لندن میں اس طرح کا واقعہ نہ پہلی بار پیش آیا ہے اور نہ ہی آخری بار اس لیے ہم اس کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

ایک اور آدمی نے کہا کہ وہ چاہتا ہے صورت ِحال جلد ازجلد معمول پر آجائے اور اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ ہم دہشت گردوں سے نہ ہاریں۔ ایک شخص کا تو کہنا تھا اس نے آج احتیاطاً دفتر آنے کے لیے خاصا وقت رکھا تھا اور وہ اپنے سفر سے بہت مطمئن تھے۔

دوسری جانب آج جمعہ بھی تھا اور اس موقع پر لندن میں آباد مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد نے جمعے کے اجتماعات میں بھی محتاط انداز میں شرکت کی کیونکہ بعض حلقوں نے گزشتہ روز کے حملوں کے بعد برطانوی مسلم برادری کے خلاف ردعمل کا بھی خدشہ ظاہر کیا تھا۔

گو لندن میں تو کسی بہت سنگین واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی لیکن برٹش مسلم سیفٹی فورم نامی ایک مسلم تنظیم کے سربراہ آزاد علی نے بتایا کہ ملک کے دوسرے حصوں میں بعض مقامات پر پرتشدد حملوں کی اطلاعات ضرور ملی ہیں۔

News image
لوگ خوفزدہ نہیں تھے لیکن ان کے چہرے بجھے ہوئے اور حیرت زدہ ضرور تھے

آزاد علی کہہ رہے ہیں کہ لیڈز میں ایک مسجد پر پٹرول بم کا حملہ ہوا ہے، تین لوگوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں دو حملے لندن سے باہر ہوئے ہیں۔

مساجد اور اسلامی مراکز کو سینکڑوں کی تعداد میں نفرت انگیز اور دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی ہیں جبکہ مساجد کے باہر نوٹس بورڈ پر بھی دھمکیاں لکھی گئی ہیں۔

لندن میں مسلمانوں کو دھکے اور گالیاں دی گئی اور ان پر تھوکا گیا ہے۔ اور یہ وہ تمام واقعات ہیں جن کی اطلاع پولیس کو دی گئی ہیں۔

66لندن: کہاں کیا ہوا
لندن میں کس جگہ کیا ہوا: نقشے پر کلک کریں
عینی شاہدوں کی زبانی
لندن دھماکوں میں عینی شاہدوں نے کیا دیکھا۔
66میں نے کیا دیکھا۔۔
دھماکوں میں بچنے والے لوگوں کے تاثرات
اخبار کیا کہتے ہیں
لندن بم حملے اخبارات کی شہ سرخیوں میں
66تحقیقات کیسے کیسے؟
تفتیش میں برطانوی پولیس کیا کیا کر رہی ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد