’ہلاک شدگان 50، کوئی گرفتار نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن پولیس کمشنر سر آئن بلیئر نے کہا ہے کہ جمعرات کے دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد پچاس ہو گئی ہے جبکہ اب تک کی تفتیش سے خودکش حملے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کے حملوں میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے اور اندازہ ہے کہ جنہوں نے دھماکے کیے ’وہ یا تو برطانیہ ہی میں کہیں فرار ہو چکے ہیں یا یہاں سے کہیں اور جا چکے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ سرآئن بلیئر نے کہا کہ ان دھماکوں میں پچاس افراد ہلاک اور سات سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل پولیس حکام نے 38 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ سرآئن بلیئر نے کہا کہ مذہبی عمارتوں کی حفاظت کے لیے پولیس مسلمان اور دوسرے مذہبی رہمناؤں سے بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ لندن میں لوگوں نے دھماکوں کے
اسسٹنٹ کمشنر اینڈی ہیمن نے کہا کہ ’فورنسک‘ شواہد اکھٹے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک زیرِ زمین ریلوے لائن جو بہت گہرائی میں واقع ہے وہاں سے تباہ شدہ ٹرین کے ملبے سے فورنسک شواہد حاصل کرنے کا کام شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ہونے والی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان وارداتوں میں استعمال ہونے والے بموں کا وزن پانچ کلو گرام سے کم تھا اور ان میں ’ہائی ایکسپلوسو‘ استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وزیر داخلہ چارلس کلارک نے کہا تھا کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ان وارداتوں میں اسلامی دہشت گرد ملوث تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||