BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 July, 2005, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہلاک شدگان 50، کوئی گرفتار نہیں‘
پولیس کو خود کش حملوں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے
پولیس کو خود کش حملوں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے
لندن پولیس کمشنر سر آئن بلیئر نے کہا ہے کہ جمعرات کے دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد پچاس ہو گئی ہے جبکہ اب تک کی تفتیش سے خودکش حملے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

انہوں نے بتایا کے حملوں میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے اور اندازہ ہے کہ جنہوں نے دھماکے کیے ’وہ یا تو برطانیہ ہی میں کہیں فرار ہو چکے ہیں یا یہاں سے کہیں اور جا چکے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

سرآئن بلیئر نے کہا کہ ان دھماکوں میں پچاس افراد ہلاک اور سات سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل پولیس حکام نے 38 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔

سرآئن بلیئر نے کہا کہ مذہبی عمارتوں کی حفاظت کے لیے پولیس مسلمان اور دوسرے مذہبی رہمناؤں سے بات چیت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ لندن میں لوگوں نے دھماکوں کے
کسی کمیونٹی کے خلاف غصے اور نفرت کا اظہار نہیں کیا ہے اور انہیں لندن میں دھماکوں کے بعد صرف دو چھوٹے چھوٹے واقعات پیش آنے کی اطلاع ملی ہے۔

News image
ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں پھول رکھے گئے ہیں

اسسٹنٹ کمشنر اینڈی ہیمن نے کہا کہ ’فورنسک‘ شواہد اکھٹے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک زیرِ زمین ریلوے لائن جو بہت گہرائی میں واقع ہے وہاں سے تباہ شدہ ٹرین کے ملبے سے فورنسک شواہد حاصل کرنے کا کام شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ہونے والی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان وارداتوں میں استعمال ہونے والے بموں کا وزن پانچ کلو گرام سے کم تھا اور ان میں ’ہائی ایکسپلوسو‘ استعمال کیا گیا تھا۔

اس سے قبل وزیر داخلہ چارلس کلارک نے کہا تھا کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ان وارداتوں میں اسلامی دہشت گرد ملوث تھے۔

66میں نے کیا دیکھا۔۔
دھماکوں میں بچنے والے لوگوں کے تاثرات
اخبار کیا کہتے ہیں
لندن بم حملے اخبارات کی شہ سرخیوں میں
66لندن میں دھماکے
ٹرانسپورٹ نظام نشانے پر: تصویروں میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد