BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 July, 2005, 19:37 GMT 00:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بم دھماکوں کی سائنسی تحقیقات
لندن
فورنزک تحقیقات کا ایک ماہر پولیس اہلکار نمونے جمع کر رہا ہے
لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد ملزمان کی شناخت اورگرفتاری کیلیے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ جس میں جدید سائنسی طریقوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔

لندن کی پولیس تفتیش اور تحقیقات میں دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن وہ ان دھماکوں کے سلسلے میں کیا کر رہی ہے؟ یہ واقعی سب کے لیے دلچسپی کا معاملہ ہے۔

پولیس نے ٹرین کے ڈبوں کے شیشے، فرش، چھت اور اردگرد موجود خون کے دھبوں، دھماکوں کا نشانہ بننے والے انسانوں کے کٹے ہوئے اعضاء، دھماکے دار مادے ، ادھر ادھر گرے ہوئے بالوں کپڑوں کے چیتھڑوں اور جوتوں اور دوسری تمام اشیاء کے تجزیے اورڈی این اے ٹیسٹ کرے گی۔

اس کے علاوہ پولیس ان تمام علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی یعنی کلوز سرکٹ کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھے گی۔ لندن کے تمام انڈر گراؤنڈ سٹیشنوں اور بیشتر سڑکوں پر یہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں اور چوبیس گھنٹے تمام سرگرمیوں کی ریکارڈنگ کرتے رہتے ہیں۔ پولیس ان تمام کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھے گی اور یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ کہاں سے کون کون سوار ہوا اور اس میں مشتبہ افراد کون کون سے ہو سکتے ہیں۔

بم حملوں کے بعد یہ تفتیش واقعی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہاں کی پولیس، خفیہ ادارے ایم فائیو، ایم آئی سکس اور انسداد دہشت گردی سکواڈ اپنی تمام تر مہارت اور جدید سائنسی ایجادات سے بھی استفادہ کر رہا ہے۔

لندن پولیس کے ہیڈ کوارٹرز کو سکاٹ لینڈ یارڈ کہتے ہیں اور دنیا بھر میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ جس معاملے میں ہاتھ ڈالتی ہے اسے حل کر کے ہی چھوڑتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جن مقامات پر بم حملے ہوئے ہیں انہیں اطراف سے بند کر فورنزک انوسٹی گیشن کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جائے وقوعہ پر جو کچھ بھی ہے اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

اس کے علاوہ پولیس وہ تمام ریکاڈنگ سنے گی جو مشتبہ افراد نے موبائل اور عام ٹیلیفونوں پر کی ہو گی اور جسے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ای میلز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ پولیس کو امید ہے کہ وہ ان تمام طریقوں کو استعمال کر کے ملزموں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

66میں نے کیا دیکھا۔۔
دھماکوں میں بچنے والے لوگوں کے تاثرات
اخبار کیا کہتے ہیں
لندن بم حملے اخبارات کی شہ سرخیوں میں
66لندن: کہاں کیا ہوا
لندن میں کس جگہ پر کیا ہوا: نقشے پر کلک کریں
عینی شاہدوں کی زبانی
لندن دھماکوں میں عینی شاہدوں نے کیا دیکھا۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد