بم دھماکوں کی سائنسی تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد ملزمان کی شناخت اورگرفتاری کیلیے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ جس میں جدید سائنسی طریقوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ لندن کی پولیس تفتیش اور تحقیقات میں دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن وہ ان دھماکوں کے سلسلے میں کیا کر رہی ہے؟ یہ واقعی سب کے لیے دلچسپی کا معاملہ ہے۔ پولیس نے ٹرین کے ڈبوں کے شیشے، فرش، چھت اور اردگرد موجود خون کے دھبوں، دھماکوں کا نشانہ بننے والے انسانوں کے کٹے ہوئے اعضاء، دھماکے دار مادے ، ادھر ادھر گرے ہوئے بالوں کپڑوں کے چیتھڑوں اور جوتوں اور دوسری تمام اشیاء کے تجزیے اورڈی این اے ٹیسٹ کرے گی۔ اس کے علاوہ پولیس ان تمام علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی یعنی کلوز سرکٹ کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھے گی۔ لندن کے تمام انڈر گراؤنڈ سٹیشنوں اور بیشتر سڑکوں پر یہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں اور چوبیس گھنٹے تمام سرگرمیوں کی ریکارڈنگ کرتے رہتے ہیں۔ پولیس ان تمام کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھے گی اور یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ کہاں سے کون کون سوار ہوا اور اس میں مشتبہ افراد کون کون سے ہو سکتے ہیں۔ بم حملوں کے بعد یہ تفتیش واقعی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہاں کی پولیس، خفیہ ادارے ایم فائیو، ایم آئی سکس اور انسداد دہشت گردی سکواڈ اپنی تمام تر مہارت اور جدید سائنسی ایجادات سے بھی استفادہ کر رہا ہے۔ لندن پولیس کے ہیڈ کوارٹرز کو سکاٹ لینڈ یارڈ کہتے ہیں اور دنیا بھر میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ جس معاملے میں ہاتھ ڈالتی ہے اسے حل کر کے ہی چھوڑتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جن مقامات پر بم حملے ہوئے ہیں انہیں اطراف سے بند کر فورنزک انوسٹی گیشن کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جائے وقوعہ پر جو کچھ بھی ہے اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس وہ تمام ریکاڈنگ سنے گی جو مشتبہ افراد نے موبائل اور عام ٹیلیفونوں پر کی ہو گی اور جسے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ای میلز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ پولیس کو امید ہے کہ وہ ان تمام طریقوں کو استعمال کر کے ملزموں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||