برطانیہ میں پھر انتہائی ’الرٹ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں ہونے والے دھماکوں کے بعد سکیورٹی اداروں کی چوکسی کی حالت کو انتہائی اونچی سطح پر کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار گورڈن کوریرہ کے مطابق برطانیہ میں مئی میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد چوکسی کی صورت حال کو نچلی سطح پر لایا گیا تھا جس سے یہ عندیہ ملتا تھا کہ برطانیہ میں فوری دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ نامہ نگار کے مطابق اب چوکسی کی حالت کو بڑھانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکورٹی اداروں کو مزید حملوں کا خدشہ ہے۔ نامہ نگار نے پولیس کے حوالے سے کہا ہے کہ لندن بم حملوں میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیر مواد ’ہوم میڈ‘ یا مقامی سطح پر تیار کیا جانے والا نہیں تھا لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس دھماکہ خیر مواد کو استعمال کرنے والے برطانوی تھے یا باہر سے آئے تھے۔ تاہم میٹروپولیٹن پولیس کے سابق کمشنر لارڈ سٹیونز نے اتوار کو شائع ہونے والے اپنے ایک اخباری کالم میں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ لندن بم دھماکوں کے ملزم یقینی طور پر برطانوی نژاد تھے۔ سر سٹیونز کا کہنا ہے کہ برطانوی میں تین ہزار ایسے افراد موجود ہیں جو گزشتہ برسوں میں افغانستان میں قائم کیمپوں میں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ ’حکام کو یقین ہے کہ افغانستان میں تربیت حاصل کرنے والے یہ افراد خود یا ان سے تربیت حاصل کرنے والے لندن بم دھماکوں کے ذمہ دار ہے۔‘ دوسری طرف برطانوی حکومت نے حالیہ دھماکوں سے متاثر ہونے والوں اور اس میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی دیکھ بھال اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے ایک خاتون وزیر کو تعینات کر دیا ہے۔ وزیر محترمہ ٹیسا جاویل نے کہا ہے کہ ایک خصوصی مرکز قائم کیا جارہا ہے جس میں ہلاک شدگان کے پس ماندگان کو عملی اور ذہنی مسائل پر قابو پانے میں مدد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز ذہنی کرب اور اذیت سے دو چار افراد کے لئے ایک پناہ گاہ ہوگا۔ ان دھماکوں میں 49 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے لیکن ابتک ان کے ناموں کی فہرست جاری نہیں کی گئی ہے۔ ادھر بیس سے زیادہ افراد جنکا تعلق مختلف قومیتوں سے ہے لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کے مطابق بعض لاشیں اتنی مسخ ہوگئی ہیں کہ ان کی شناخت میں کئی دن بلکہ ہفتے لگ سکتے ہیں۔اس مقصد کے لئے پولیس اور مختلف ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن بھی قائم کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک شدت پسند گروپ ابو حفص المصری بریگیڈ کے اس دعوے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے کہ یہ دھماکے اس نے کرائے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||