BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 July, 2005, 12:20 GMT 17:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن کا 7 / 7: صرف دھماکے یا دہشت گردی

News image
پاکستانی اخبارت نے دھماکوں کی پر زور مذمت کی ہے
جس طرح دنیا بھر میں امریکہ میں گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے واقعات کو نائن الیون کہا گیا اسی طرح پاکستانی روزنامہ نوائے وقت نے سات جولائی کو لندن میں ہونے والے واقعات پر سرخی جمائی ہے۔ ’نائن الیون کے بعد سیون سیون‘

اخبار نے اپنی روایتی انداز سے ہٹ کر اپنی سرخی کو رنگدار بنایا ہے جس میں سات کے ہندسے کو سرخ رنگ سے نمایاں کیا گیا ہے۔ اردو اخباروں میں لندن کے دھماکوں کی خبر شہ سرخی سے اور بہت سی ذیلی خبروں کے ساتھ پہلے صفحہ پر شائع کی گئی ہے۔انگریزی اخباروں نے بم دھماکے کی جگہوں کے نقشے بھی شائع کیے ہیں۔

اردو اور انگریزی اخباروں نے اس خبر کو مختلف انداز سے دیکھا ہے۔ اردو اخباروں نے سرخیوں میں صرف دھماکوں کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور انہیں دہشت گردی کہنے سے گریز کیا ہے۔ مثلاً روزنامہ جنگ کہتا ہے لندن میں چار دھماکے، پینتالیس افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی۔

دوسری طرف انگریزی اخبار ڈان اور ڈیلی ٹائمز نے اپنی سرخیوں میں دھماکوں کے لیے دہشت اور دہشت گردی کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ڈان کہتا ہے کہ دہشت گرد دھماکوں سے لندن سناٹے میں آگیا جبکہ ڈیلی ٹائمز کی سرخی ہے دہشت گردوں نے لندن پر بم چلادیے جس سے سینتیس لوگ ہلاک ہوگئے۔

نوائے وقت نےاس واقعہ پر ایک ادارتی نوٹ بھی تحریر کیا ہے جس کا عنوان ہے ’لندن میں پراسرار دھماکے‘۔ اخبار کا مؤقف ہے کہ امریکہ اور یورپ القاعدہ اور دہشت گردوں سے اتنے خوف زدہ ہوچکے ہیں کہ وہ کسی بھی حادثہ کو القاعدہ یا مسلمان دہشت گردوں سے منسوب کررہے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ شاید امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی طرح لندن میں بھی دھماکوں کا اہتمام کردیا ہے تاکہ انہیں القاعدہ کے ذمہ لگا کر یورپی ممالک کو بھی مسلمانوں اور پاکستانیوں سے خوف زدہ کیا جاسکے۔ اخبار کہتا ہے کہ یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں اور مسلمانوں کو ہوشیار اور خبردار رہنا چاہیے کہ مسلمان دشمن بڑے منظم انداز میں ان کا پیچھا کررہے ہیں۔

نوائے وقت کا مؤقف عام گفتگو میں بھی سننے میں آرہا ہے جہاں لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ القاعدہ نے لندن میں حملہ کیوں کیا جبکہ اسے معلوم ہے کہ لندن میں عراق جنگ اور امریکی پالیسیوں کی زبردست مخالفت موجود تھی اور ان دھماکوں سے یورپ کے عام لوگوں کی رائے مسلمانوں کے خلاف ہوسکتی ہے۔

بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ دھماکے اسرائیل کی سازش بھی ہوسکتی ہے تاکہ یورپ میں مسلمانوں کے بارے میں مخالف رائے عامہ بنائی جاسکے۔

اخباروں نے ایسی خبریں بھی شائع کی ہیں کہ ان دھماکوں کے بعد لندن میں مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز ان دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین نے دھماکے کرنے والوں کو پوری انسانیت کا مجرم کہا ہے۔

پاکستان میں حزب اختلاف کے سیاستدانوں کے تبصرے بھی چھپے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے راجہ ظفرالحق کا بیان شائع ہوا ہے کہ انصاف قائم کیے بغیر تشدد ختم نہیں ہوگا۔

متحدہ مجلس عمل کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مغرب اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ برطانیہ بلا تحقیق کسی پر الزام نہ لگائے اور دنیا میں کوئی مذہب بے گناہ شہری مارنے کی اجازت نہیں دیتا گویا۔

انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے ان دھماکوں پر میراندا حسین کا ایک تبصرہ شائع کیا ہے جس میں کالم نگار نے کہا ہے کہ اگر یہ دھماکے واقعی القاعدہ نے کیے ہیں تو اس صورت میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ جس طریقہ سے لڑی جارہی ہے اس حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ تبصرہ نگار کا موقف ہے کہ القاعدہ اور مغرب کے درمیان لڑی جانے والی جنگ سیاسی غلبہ کی جنگ ہے نہ کہ مذہبی غلبہ کی لڑائی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد