دہشت گردی کی کوئی قوم نہیں، کوئی مذہب نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلجھے دماغ سے سوچنے والا کوئی بھی شخص دوسرے کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ نہیں سکتا۔ آج جو لوگ بھی کسی بھی طرح کی دہشت گردی میں ملوث ہیں وہ انسانیت کے سب سے برے دشمن ہیں۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں، کوئی قوم نہیں، کوئی ریس نہیں۔ لندن کے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے لئے میرا دل اسی طرح خون کے آنسو بہاتا ہے جیسے ان لوگوں کے لئے جو آپریشن عراقی فریڈم اور افغانستان میں آپریشن اینڈیورِنگ فریڈم میں مارے جاتے ہیں۔ جب دو ہاتھیاں لڑتی ہیں تو سبزہ کچل جاتا ہے۔ سرد جنگ سے دہشت گردی مخالف جنگ تک صرف معصوم لوگ ہی مارے گئے۔ جن لوگوں نے اپنے مقاصد کے لئے یہ جنگ لڑی وہ فائدے میں رہے۔ یہ بہت آسان ہے معصوم لوگوں کے قتل کی ذمہ داری کسی تنظیم یا گروپ پر تھوپ دی جائے لیکن تاریخ انسانیت کے قتل عام میں ملوث کرداروں کو نہیں بھول سکتی۔ تمام بدی کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا عقلمندی نہیں ہے۔ ہم چند افراد کے گناہ کی وجہ سے کسی مذہب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ اسی طرح ہم جارج بش کے اقدامات کے لئے تمام کرسچین لوگوں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ ڈیڑھ بلین مسلمانوں کو دہشت گرد نہیں قرار دیا جاسکتا۔ حقیقی مسلمان دہشت گردی سے نفرت کرتا ہے۔ اگر گیارہ ستمبر اور سات جولائی کے حملوں کے لئے القاعدہ ذمہ دار ہے، تو اسامہ اور الزرقاوی کو کس نے منتخب کیا کہ وہ اسلام کی نمائندگی کریں؟ القاعدہ کیا ہے؟ سوویت یونین کے خلاف جہاد کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ان لوگوں کو پیسے دیے اور تربیت بھی۔ سرد جنگ کے دوران جمہوریت پسند ان ممالک نے پاکستان میں بدترین ڈِکٹیٹر کی حمایت کی۔ پاکستان میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ٹریننگ کیمپ بنائے گئے تھے تاکہ کمیونِزم کے خلاف طالب علموں کی تربیت کی جاسکے۔ یہ وقت تھا جب اسامہ اور دوسرے جہادیوں کو چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے لایا گیا تھا۔ تمام جمہوری اور اعتدال فورسز نے اس وقت وارننگ دی تھی کہ اس اقدام کے نتائج خطرناک ہوں گے۔ لیکن جنہوں نے جہادی کلچر کی مخالفت کی وہ بری طرح کچل دیے گئے۔ ہزاروں لوگ قید کردیے گئے، تشدد کا شکار بنے، ہلاک کردیے گئے۔ لیکن ڈِکٹیٹر کو امریکہ کی پوری حمایت مہیا تھی کیوں کہ وہ ان کے مفاد کے لئے کام کررہا تھا۔ سوویت یونین کے خلاف امریکہ کی جہاد کے دوران پاکستان کے بسوں، اسکولوں اور سنیما گھروں میں بم دھماکے عام بات تھے۔ میں وہ دن نہیں بھول سکتا جب ایک بس میں ہونے والے دھماکے سے میں اپنے بیسٹ فرینڈ کی درجنوں ہڈیوں کو اکٹھا کررہا تھا۔ تمام جمہوری ادارے تباہ ہوگئے اور جہادی کلچر کو فروغ دیا گیا۔ ہم نے جو بیج بوئی ہے اس کا پھل کاٹ رہے ہیں۔ آج بھی حالات بدلے نہیں ہیں۔ اسلامی ملکوں کو دیکھیں، ڈِکٹیٹر، بادشاہ، شہزادے وغیرہ حکمرانی کررہے ہیں ان لوگوں کی مدد سے جو آزادی اور جمہوریت کے لئے لڑرہے ہیں۔ بنیادی حقوق کچل دیے گئے ہیں، انصاف کے لئے جو آواز اٹھاتے ہیں انہیں بدترین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آزادی بندوق اور بموں کے ذریعے نہیں آسکتی۔ کٹھ پتلیوں کے ذریعے جمہوریت نہیں لائی جاسکتی۔ ذاتی مفاد کے لئے آمروں کی حمایت بندکردیں، ان کی حمایت کریں جو انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے لڑرہے ہیں، دوسرے لوگوں کے وسائل اور دولت پر قبضہ کرنا چھوڑ دیں، دنیا میں امن ہوگا۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||