BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 July, 2005, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن دھماکے ایک ہی وقت پر ہوئے
پولیس
’حملوں کی تفتیش سست رفتار اور دھیان سے کیا جانے والا کام ہے جو انتہائی مشکل صورتحال میں جاری ہے‘
لندن میں پولیس نے کہا ہے کہ جمعرات کو شہر کے زیر زمین ریلوے نظام میں تینوں دھماکے تقریباً بیک وقت ہوئے تھے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر برائن پیڈک نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تینوں دھماکے پچاس سیکنڈ کے اندر اندر ہوئے۔

زیر زمین ریلوے سے حاصل ہونے والی معلومات سے وہ ابتدائی اندازے غلط ثابت ہو گئے جن کے مطابق دھماکے مختلف اوقات میں ہوئے تھے۔

پولیس نے کہا کہ دھماکوں کا شکار ہونے والوں کی تلاش رات بھر جاری رہے گی۔ پولیس نے کہا کہ ابھی تک یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ کنگز کراس سٹیشن کے نیچے ریلوے سرنگ میں کتنے افراد کی لاشیں پھنسی ہوئی ہیں۔

پولیس کے ڈپٹی چیف کانسٹیبل اینڈی ٹراٹر نے کہا کہ ’یہ سست رفتار اور دھیان سے کیا جانے والا کام ہے جو انتہائی مشکل صورتحال میں مکمل ہوگا‘۔

بم دھماکوں میں انچاس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پچیس افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پولیس نے کہا کہ دھماکے آٹھ بج کر پچاس منٹ پر ہوئے اور شواہد کی روشنی میں خیال ہے کہ یہ ٹائم بم سے کیے گئے۔

برائن پیڈک نے ان اطلاعات کی تردید کہ پولیس کسی ’مخصوص شخص‘ کی تلاش کر رہی ہے۔

برطانیہ کہ وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ صرف حفاظتی انتظامات کی مدد سے دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے نظریاتی جدو جہد کی ضرورت ہے۔

دریں اثناء پولیس حملہ آوروں کی تلاش میں اتنے بڑے پیمانے پر خفیہ کیمروں سے حاصل کی گئی تصاویر کا معائنہ کر رہی ہے جس کے ملک کی تاریخ میں کم ہی مثال ملتی ہے۔

دھماکوں کا سراغ لگانے کے لیے لندن پولیس نے فورنسک اور انٹیلیجنس شہادتیں اکھٹی کرنی شروع کر دی ہیں۔

برطانیہ نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے یورپی ملک ہسپانیہ سے بھی مدد حاصل کر لی ہے اور ہسپانیہ کے دہشت گردی کے ماہرین کی ایک ٹیم لندن پہنچ رہی ہے۔

66لندن: کہاں کیا ہوا
لندن میں کس جگہ کیا ہوا: نقشے پر کلک کریں
66میں نے کیا دیکھا۔۔
دھماکوں میں بچنے والے لوگوں کے تاثرات
66لندن میں دھماکے
ٹرانسپورٹ نظام نشانے پر: تصویروں میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد