BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیڈز کےمسلمان تشویش کا شکار

محمد رفیق لیڈز سٹی کونسل کے ایک کونسلر
لیڈز کے لوگ اس حقیقت پر حیران پریشان ہیں
لیڈز کے مسلمانوں میں اگر ایک طرف اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ لندن کے چاروں مشتبہ بم حملہ آوروں کا تعلق شمالی انگلستان کے ایک ہی علاقے سے تھا تو دوسری جانب ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس سارے معاملے کی وضاحت کیسے پیش کریں۔

بیسٹن اور ہولبیک کے محلوں میں میری بہت سارے لوگوں سے ملاقات ہوئی لیکن اس سوال کے جواب میں کہ چاروں مشتبہ حملہ آوروں کے برتاؤ سے کہیں، کسی طرح کا، کوئی شک ہواتو جواب ہمیشہ ہی یہی رہا نہیں ،کوئی نہیں، کچھ بھی نہیں۔

محمد رفیق لیڈز سٹی کونسل کے ایک کونسلر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور خصوصاً شہزاد تنویر بہت اچھے اخلاق اور برتاؤ کا لڑکا تھا اور لوگ اسی وجہ سے حیرت میں مبتلا ہیں۔

چاروں مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت کے بعد ایک بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ تقریباً چاروں کے گھر والوں خصوصاً والدین کو اپنی اولادوں کے معمولات اور مصروفیات کا کچھ اندازہ ہی نہیں تھا۔

بیسٹن کے ایک مقامی مسلم سماجی رہنما محمد اقبال کا کہنا تھا کہ ان لڑکوں کے والدین کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کی اولادیں کیا کررہی ہیں اس لئے وہ لوگ حیران رہ گئے۔

اس روئیے کی عکاسی یوں بھی ہوتی ہے کہ مسلم بزرگوں اور نوجوانوں میں پیدا ہونے والی خلیج کا الزام بھی بین الاقوامی تعلقات کی طرح بیرونی قوتوں پر ڈالا جارہا ہے۔

بیسٹن میں ہارڈی اسٹریٹ کی مسجد کمیٹی کے سیکریٹری محمد سرور خان بھی یہی سمجھتے ہیں۔

ایک مشتبہ حملہ آور اسی مسجد میں محلے کے نوجوانوں کو کراٹے کی تربیت دیتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ محلے میں لوگوں کی امید تھی کہ یہ پڑھے لکھے لوگ دوسروں کے لیے روشن مثال بنیں گے اور برادری کے کام آئیں گے لیکن کسی نے باہر سے آکر ان لڑکوں کا ذہن ہی پلٹ دیا۔

چاروں مبینہ حملہ آوروں کا تعلق جن علاقوں سے بتایا جارہا ہے وہاں ملی جلی آبادی ہے اور مختلف لسانی گروہوں کے درمیان عمومی طور پر تعلقات خوشگوار رہے ہیں۔

لیکن ساتھ ہی یہ انگلستان کے وہ علاقے بھی ہیں جہاں مختلف سماجی عوامل کی بناء پر سفید فام نسل پرست گروہ آہستہ آہستہ قوت حاصل کررہے ہیں۔

محمد رفیق کو بھی یہی خدشہ ہے کہ لیڈز اور لندن بم حملوں کا باہمی تعلق نسل پرست انتہا پسندوں کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔

اور شائد یہی وہ خدشہ بھی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لیڈز بلکہ آس پاس کے شہروں مثلاً بریڈفورڈ وغیرہ میں مسلمان دیگر نسلی اور لسانی گروہوں کے ساتھ مل کر ہم آہنگی اور اتحاد برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد