لیڈز میں خوف کے سائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کا دن بظاہر عام دنوں جیسا ہی ہے لیکن لیڈز کے باسیوں کے لیے یقیناً یہ دن بہت مختلف ہوگا۔ علی الصبح جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، اس وقت اخبارات اسٹالوں پر پہنچ چکے ہیں اور کام کے ایک اور مصروف دن کی گہما گہمی بس شروع ہی ہوا چاہتی ہے۔ لیکن گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے واقعات جس تیزی سے پیش آئے، لیڈز کے باسیوں کو اس کا اندازہ شائد صرف بدھ کے اخبارات سے ہی ہو پائے گا۔ منگل کے دن علی الصبح مغربی یارکشائر کی پولیس کی بھاری نفری نے لندن میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کے صدر دفاتر سے ملنے سراغوں کی روشنی میں لیڈز شہر کے چار محلوں میں ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا۔ کارروائی کا محور بتایا جاتا ہے کہ بیسٹن، برلی، ڈیوسبری اور ہائیڈ پارک روڈ کے چھ مکانات تھے۔ ان چاروں محلوں میں کئی باتیں مشترک دکھائی دیتی ہیں۔ چاروں ہی ویسے تو ملی جلی آبادی کے علاقے ہیں لیکن ان سب میں سب بڑی آبادی ایشیائی باشندوں اور ان میں بھی پاکستانی نژاد لوگوں کی ہے۔ اسی طرح چاروں علاقے نسبتاً کم آمدنی والے نچلے متوسط طبقوں کی آبادیاں ہیں جہاں بیروزگاری کی شرح بھی خاصی بلند بتائی جاتی ہے۔ اور بعض لوگوں کے مطابق ان چاروں علاقوں میں ایک مزید اور شائد بدقسمت قدر مشترک یہ بھی ہے کہ چاروں علاقے ماضی میں کسی نہ کسی طرح لسانی کشیدگی کی زد میں رہے ہیں۔ ابتداء میں اس کارروائی میں صرف پولیس کے عام دستے شامل تھے لیکن جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، چھاپوں کے دوران ملنے والے شواہداور علامات کی بناء پر نہ صرف مسلح پولیس کے خصوصی کمانڈو دستے طلب کیے گئے بلکہ آخر میں فوج سے بھی مدد طلب کرلی گئی۔ شام ہوتے ہوتے اگر ایک طرف لیڈز کے لوگوں میں ایک تشویش آمیز تجسس اور خاموشی تھی تو دوسری جانب لندن میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کے صدر دفاتر میں ایک ہیجانی کیفیت سی پائی جاتی تھی۔ شائد خود لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے اعلٰی حکام بھی اتنی بڑی کامیابیوں کی امید میں نہیں تھے۔ شام ڈھلنے تک بقول پولیس، سات جولائی کے لندن کے بم دھماکوں کے چار ذمہ دار حملہ آوروں کی شناخت کا تعین ہوچکا تھا بلکہ انہی دھماکوں میں ان میں سے تین کی موت کا بھی یقین ظاہر کیا جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق برلی سے مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک کے قریبی رشتہ دار کو بھی حراست میں لیکر مزید تفتیش کے لیے لندن لایا گیا ہے جبکہ ہائیڈ پارک روڈ کے ایک گھر سے دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا بھی دعوٰی کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے لندن کے بم دھماکوں کی گتھی کو بڑی حد تک سلجھا لیا ہے اور اب بس دو اہم باتیں باقی ہیں کہ چوتھے مبینہ حملہ آور کے زندہ یا مردہ ہونے کا تعین کیا جائے اور ساتھ ہی ان دھماکوں کے پس پردہ کرداروں کو گرفتار کیا جائے۔ یقیناً برطانوی پولیس محض پانچ روز کے اندر لندن کے بم دھماکوں کا معمہ حل کر لینے پر بہت خوش ہوگی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بدھ کا دن لیڈز کے لوگوں کے لیے خصوصاً ان گنت تفکرات لیکر طلوع ہوگا۔ مغربی انگلستان سفید فام نسل پرستوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے جو ویسے تو تمام ہی غیرسفید فام تارکین وطن کے سخت خلاف ہیں، لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے مسلمان خصوصاً پاکستانی تارکین وطن ان کی توپوں کا خاص نشانہ ہیں۔ بیسٹن اور تین دیگر علاقوں میں پولیس نے ابھی تک اپنے اہداف کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور اس ناکہ بندی کے اطراف صبح کے انتہائی سویرے بھی بعض عالمی نشریاتی اداروں کے صحافی موجود تھے گو باقی ہرطرف خاموشی تھی اور کم ازکم بظاہر ان محلوں کے مکین بھی سو رہے تھے۔ لیکن بیسٹن کے ہی ایک دکاندار نثار حسین کے مطابق چار مبینہ حملہ آوروں میں سے تین کا تعلق پاکستانیوں سے نکلنا لازمی طور پر سفید فام انتہا پسندوں کو پروپیگنڈے کا زبردست موقع فراہم کردے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||