لندن: خودکش حملےخارج از امکان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کے روز لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیش کرنے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اب اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ یہ دھماکے خودکش حملوں کا نتیجہ نہیں تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ بامفورڈ کا کہنا ہے کہ تفتیش کار اب اس امکان پر کام کر رہے ہیں کہ مشتبہ شدت پسند تینوں زیر زمین ٹرینوں میں بم دھماکے ہونے سے چند منٹ پہلے ہی ٹرینوں سے اتر گئے تھے۔ حکام کے اس نئے بیان کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ تینوں مشتبہ شدت پسند زندہ ہیں اور کمیونٹی میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پولیس حکام بس میں دھماکہ کرنے والے مشتبہ شدت پسند کے دھماکے میں ہلاک ہونے کے امکان کو رد نہیں کر رہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ ملزم نے جان بوجھ کر ایسا کیا یا یہ کوئی خود کش بم حملہ تھا۔ نامہ نگار کے مطابق کنگز کراس اب تفتیش کا مرکزی پوائنٹ بنتا جا رہا ہے جہاں سے بم دھماکوں کا شکار ہونے والی ٹرینیں آٹھ سے دس منٹ بیشتر گزری تھیں۔ اس سے پہلے پولیس نے انکشاف کیا تھا کہ جمعرات کو شہر کے زیر زمین ریلوے نظام میں تینوں دھماکے تقریباً بیک وقت ہوئے تھے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر برائن پیڈک نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تینوں دھماکے پچاس سیکنڈ کے اندر اندر ہوئے۔ زیر زمین ریلوے سے حاصل ہونے والی معلومات سے وہ ابتدائی اندازے غلط ثابت ہو گئے جن کے مطابق دھماکے مختلف اوقات میں ہوئے تھے۔ پولیس نے کہا کہ دھماکے آٹھ بج کر پچاس منٹ پر ہوئے اور شواہد کی روشنی میں خیال ہے کہ یہ ٹائم بم سے کیے گئے۔ برائن پیڈک نے ان اطلاعات کی تردید کہ پولیس کسی ’مخصوص شخص‘ کی تلاش کر رہی ہے۔ دریں اثناء پولیس حملہ آوروں کی تلاش میں اتنے بڑے پیمانے پر خفیہ کیمروں سے حاصل کی گئی تصاویر کا معائنہ کر رہی ہے جس کے ملک کی تاریخ میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ دھماکوں کا سراغ لگانے کے لیے لندن پولیس نے فورنسک اور انٹیلیجنس شہادتیں اکٹھی کرنی شروع کر دی ہیں۔ برطانیہ نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے یورپی ملک ہسپانیہ سے بھی مدد حاصل کر لی ہے اور ہسپانیہ کے دہشت گردی کے ماہرین کی ایک ٹیم لندن پہنچ گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||