’مشتبہ بمبار پاکستانی نژاد تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی تفتیش کاروں کے مطابق جمعرات کو لندن میں ہونے والے حملے خود کش تھے اور چار حملہ آوروں میں سے تین پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے۔ برطانوی تفتیش کاروں کے مطابق جمعرات کو لندن میں ہونے والے حملے خود کش تھے اور تمام حملہ آور برطانوی شہری تھے۔ برطانیہ کی انسداد دہشت گردی کی پولیس نے منگل کے روز لیڈز میں چھاپے مار کر ایک شخص کوگرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے لندن کے نواحی علاقے لوٹن میں ایک کار کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے بارے میں شبہ تھا کہ ان میں بارودی سامان پڑا ہوا تھا۔ یہ کار لوٹن ریلوے سٹیشن کی پارکنگ میں کھڑی کی گئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ تین حملہ آور لیڈز سے لوٹن تک ٹرین میں آئے جہاں ان کو چوتھا حملہ آور ملا۔ چاروں حملہ آور تھیمز لنک ٹرین کے ذریعے لندن کے کنگ کراس سٹیشن پر پہنچے جہاں سے انہوں نے شہر کے مختلف حصوں میں پھیل کر دھماکے کیے جن میں باون لوگ ہلاک اور سات سو زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس نے کنگ کراس سٹیشن پر لگائے گئے کیمروں سے لی گئی ویڈیو کے تجزیے کے بعد پتہ چلایا ہے کہ چاروں حملہ آور ساڑھے آٹھ بجے کنگ کراس کے ریلوے سٹیشن پر دیکھے گئے اور اگلے بیس منٹوں میں کنگ کراس، آل گیٹ اور ایجور روڈ کے سٹیشنوں پر حملے کیے۔ بس پر حملہ نو بج کر سینتالیس منٹ پر کیا گیا۔ پولیس کے مطابق تمام حملہ آوروں نے کندھے سے لٹکانے والے بیگ اٹھا رکھے تھے۔حملہ آوروں میں ایک کی عمر انیس سال بتائی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق نہ صرف برطانیہ میں بلکہ مغربی یورپ میں پہلے خود کش حملے تھے۔ اس سے پہلے برطانوی شہری خود کش حملوں میں ملوث رہے ہیں لیکن برطانیہ میں یہ اپنی نوعیت پہلی کارروائی ہے۔ حکام نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ یہ بمبار اکیلے کام نہیں کررہے تھے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کو ترغیب دینے والا حملہ سے پہلے ہی شاید برطانیہ چھوڑ چکا تھا۔ سیکورٹی حکام کا یہ بھی خیال ہے کہ مشتبہ بمباروں کے کریڈٹ کارڈز سمیت ذاتی اشیاء دھماکوں کی جگہ سے برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس ابھی چوتھے حملہ آور کے بارے مزید معلومات اکھٹی کر رہی ہے۔ پولیس نے منگل کے روز یارکشائر کے علاقے سے ایک مشتبہ بمبار کا ایک رشتہ دار بھی گرفتار کیا ہے جسے پوچھ گچھ کے لیے لندن لایا گیا ہے۔ منگل کے روز یارکشائر میں لیڈز کے شہر میں کئے جانے والے چھاپوں میں دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق برآمد ہونے والا مواد ’خاصی بڑی مقدار‘ میں تھا۔ بی بی سی کے داخلی امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سیکورٹی ذرائع کو شبہ ہے کہ چاروں بمبار دھماکوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ میٹروپولیٹن پولیس کی انسداد دہشت گردی کی برانچ کے سربراہ پیٹر کلارک کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے۔ برطانوی مسلم کونسل کے سر اقبال سکرانی نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پچھلے ہفتے لندن میں ہونے والے بم دھماکوں میں ہمارے نوجوان ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اس طرح کے تشدد کی کاروائیاں کی اجازت نہیں دیتا۔ اقبال سکرانی نے کہا کہ برطانوی مسلمان کے لیے یہ دکھ اور حیرانی کی بات ہے کہ ان کے نوجوان اس طرح کے حملوں میں ملوث ہوئے ہیں۔ پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر اینڈی ہیمین نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ یہ دھماکے جرائم پیشہ اور انتہا پسند افراد کا کام ہیں اور یہ کہ کسی بھی کمیونٹی کو ان دھماکوں کی وجہ سے بدنام نہیں کیا جانا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||