BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 03:22 GMT 08:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشت گرد پڑوسی‘

News image
بیسٹن میں مختلف مذہب اور برادریوں کے رہنماؤں کے مشترکہ اجلاس کا
لیڈز میں ایک مقامی اخبار کی سرخی تھی’ دہشت گرد پڑوس میں‘۔ یہ سرخی میں نے ہولبیک کے ایک مقامی مسلم رہائشی یعقوب لودھی کے ہاتھ میں پکڑے اخبار میں دیکھی تھی۔

پولیس کے مطابق مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک حسیب حسین بیسٹن کے اسی علاقے کا رہنے والا تھا۔ میں نے جب اپنے تعارف کے بعد یعقوب لودھی سے بات کرنے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا ’ آپ لوگوں (ذرائع ابلاغ) نے تو ہر گورے (سفید فام مقامی برطانوی) کے پڑوس میں رہنے والے ہر مسلم اور پاکستانی کو دہشت گرد بنادیا ہے۔ اب بات کرنے کو کیا رہ گیا۔

مشتبہ حملہ آوروں کے گھروں کے آس پاس کے پاکستانی اور مسلم رہائشی سب کے سب ہی یعقوب لودھی لگ رہے ہیں اور آس پاس کے حالات سے بالکل نظریں چرانا چاہتے ہیں کہ شاید اس سے حالات بدل جائیں۔

لیڈز میں تینوں مبینہ حملہ آوروں کے گھروں کے آس پاس رہنے والوں خصوصاً ایشیائی مسلمانوں سے گفتگو کی کوشش میں یہ تاثر ہر بار ہی پختہ ہوتا گیا کہ وہ حالات سے نظریں چرانا چاہتے ہیں۔

بیسٹن کا رہنے والا شہزاد تنویر ہو یا ہولبیک کا حسیب حسین یا پھر ڈیوسبری کا صادق خان، سب کے پڑوسیوں اور جاننے والوں میں فکر مندی کے ساتھ بات نہ کرنے کی خواہش واضح تھی۔

مجھے صاف محسوس ہوا کہ شاید بات نہ کرنے کے پس پشت یہ خدشہ کارفرما ہے کہ گفتگو کرنے والے کو بھی مبینہ خودکش حملہ آوروں کے ساتھ نتھی کیا جارہا ہے۔

شہزاد تنویر کی سڑک کولون روڈ کے برابر والی سڑک پرگلزار خاتون کی کریانہ کی دکان ہے۔ لگ بھگ پچاس برس کی اس سیدھی سادھی خاتون سے سلام کے بعد جب میں نے ریڈیو کے لیے گفتگو ریکارڈ کرنے کی کوشش کی تو وہ کاؤنٹر کے پیچھے دروازے سے اندر چلی گئیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ بھی ریکارڈ نے کرنے کی ضمانت پر وہ بے تکلفی سے آدھے گھنٹے تک باتیں کرتی رہیں اور حیرت ظاہر کرتی رہیں کہ کس طرح بالکل عام لڑکے اس طرح کی کارروائی کرسکتے ہیں۔

ایک صاحب جو روانی سے انگریزی بھی بول سکتے تھے اور بدھ کو مقامی برادری کے مشترکہ اجلاس میں بھی شریک تھے۔ جب ان سے میں نے اپنے تعارف کے بعد صرف ان کا نام جاننا چاہا تو پہلے تو انہوں نے بات ٹالنا چاہی لیکن میرے دوبارہ پوچھنے پر ایک خاصے بڑے وقفے کے بعد کافی سوچتے ہوئے صرف اتنا کہا ’ میرا نام قریشی ہے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنا نام درست نہیں بتارہے۔

ایک مشتبہ حملہ آور شہزاد تنویر کے گھر سے چند منٹوں کی مسافت پر واقع ہارڈی اسٹریٹ کی مسجد میں پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک صدیق خان بیسٹن کے لڑکوں کو کراٹے کی تربیت دیا کرتے تھے۔ اس مسجد کے سامنے کچھ لوگ کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک نے فوراً ہی آگے بڑھ کر تصویر کھینچنے سے روکا۔

’ ساری دنیا کے ذرائع ابلاغ ہماری مسجد کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ہم صدیق خان یا شہزاد تنویر کے ساتھ نہیں تھے۔ لیکن اس طرح کی تصویریں جب اخباروں میں چھپیں گی تو ہم تو نسل پرستوں کی نظروں میں آجائیں گے‘

تاہم کچھ دیر بعد اسی مسجد کی کمیٹی کے سیکریٹری محمد سرور خان کا کہنا تھا کہ ان کو تینوں مبینہ حملہ آوروں کے لیڈز سے تعلق پر انتہائی دکھ ہے لیکن جمعرات سات جولائی سے پہلے ان لوگوں سے ملنے والا کوئی بھی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے نوجوان اس طرح کی واردات بھی کرسکتے ہیں۔

News image
لیلیٰ کے مطابق روزانہ ساری دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی تصاویر دیکھ نوجوانوں کو ورغلائے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں

مجھے شہزاد تنویر کی ہی گلی میں ایک عرب نژاد خاتون لیلیٰ حیدر بھی ملیں جو اپنے بچے کے ساتھ تھیں۔گو لیلیٰ حیدر نے بڑے پرجوش طریقے سے لندن کے بم حملوں کی مذمت بھی کی لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا روزانہ ساری دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی تصاویر دیکھ نوجوانوں کو ورغلائے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لیلیٰ حیدر بھی اپنی جوشیلی گفتگو کے باوجود گفتگو ریکارڈ کرانے پر تیار نہ تھیں اور وہ بمشکل اپنی تصویر کھنچوانے پر رضامند ہوئیں۔

بیسٹن کی شہرت دو روز پہلے تک لیڈز کے ایک مفلوک الحال اور نسبتاً خطرناک محلے کی سی تھی جس کے بارے لیڈز کے باہر بہت تھوڑے لوگوں کو ہی علم تھا۔ لیکن لندن کے بم دھماکوں سے اس کے نئے جڑے تعلق نے یکایک اس کو ساری دنیا میں مشہور کردیا ہے۔

ہوسکتا کہ تمام تر منفی وجوہات کی بناء پر اچانک ملنے والی اس شہرت سے نالاں بیسٹن کے مکین جلد از جلد خود کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کرلینا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد