BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی معاشرے کا امتحان
لیڈز
مشتبہ بمباروں کی تلاش کے لئے لیڈز میں پولیس کے چھاپے
یہ ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے جس کا برطانوی معاشرے میں کوئی بھی سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

انسداد دہشت گردی کے افسران نے دراصل ان الفاظ کا استعمال اپنے بیان میں نہیں کیا لیکن لندن میں ہونے والے دھماکوں کی ملک گیر تحقیقات اب ان برطانوی خود کش بمباروں پر مرکوز ہے جنکا خیال ہے کہ ان کا عقیدہ ان کے اعمال کو جائز قرار دیتا ہے۔

یہ حقیقت صرف اس لیےایک ڈراؤنا خواب ہی نہیں ہے کہ اس کے سبب برطانوی معاشرے میں تشدد کا اندیشہ ہے بلکہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں برطانیہ کی کثیر القومی آبادی والے معاشرے کا امتحان بھی ہے۔

لندن میں بم حملوں کے کچھ گھنٹوں بعد برطانیہ میں مسلم اور دوسرے عقیدے کے رہنماؤں، سینیئر پولیس چیف اور وزراء نے اس منصوبے پر عمل شروع کردیا جو اس صورت حال کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کا مقصد برطانوی کمیونٹیز کو متحد کرنے کے لیے ایسے بیانات دینا ہے جس سے برطانوی مسلمان اور ایسے لوگوں میں فرق واضح کیا جا سکے جو اپنے مظالم کو جائز قرار دینے کے لیے اپنے عقیدے یا مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔

لیکن یہ انکشاف کہ ان بم حملوں کے مشتبہ ذمہ دار برطانوی ہیں کئی مسلم رہنماؤں کے اندیشوں اور خوف کی تصدیق کرتا ہے۔

کئی مسلم رہنما نئی نسل کی مثال دیتے ہیں جنہوں نے اسلام کے بہترین اصولوں کو یورپی خیالات و نظریات کے امتزاج کے ساتھ برطانوی مسلمانوں کی ایک بہتر اورانوکھی شناخت قائم کی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی کہیں نہ کہیں آہستہ آہستہ ایک غصہ بھی پل رہا تھا جس کی وجہ برطانیہ کے دہشت گردی مخالف متنازعہ قوانین اور عراق جنگ ہے۔

کئی مرتبہ ان خیالات کا اظہار سیاسی سطح پر بھی کیا گیا جس کی مثال حالیہ انتخابات میں ایسٹ اینڈ سے جارج گیلووے کی زبردست کامیابی ہے۔جنہوں نے جنگ مخالف موضوع پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔

برطانیہ
لیڈز میں چھاپوں کا سلسلہ

اس کے علاوہ ایک اور وجہ وہ چھوٹے چھوٹے مذہبی گروپ ہیں جو ادھر ادھر گھوم کر مسلمانوں کو اسلام اور برطانوی معاشرے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔

لیبر مسلم پارلیمنٹ رکن شاہد ملک کا کہنا ہے کہ’ پہلے کچھ لوگوں میں فلسطین کو لیکر برطانیہ کےدوہرے معیار اور خارجہ پالیسی پر نہ انصافی کا جذبہ پایا جاتا تھا‘۔

لیکن انہوں نے بہت کھل کر یہ بات بھی کہی کہ مسلم فرقہ اس بات کو بھی کھل کر تسلیم نہیں کرتا کہ انتہا پسندی واقعی موجود ہے بالکل اسی طرح جس طرح کئی سفید فام نسل پرستی کی بات کو تسلیم نہیں کر سکتے۔

تاہم اس بات کی کئی شہادتیں موجود ہیں کہ انتہا پسندی پھیلانے کا عمل کس طرح کام کرتا ہے۔اس کی ایک مثال 2003 میں تل ابیب کا وہ واقعہ ہے جس میں دو برطانوی نوجوان آصف حنیف اور عمر شریف نے حماس کی جانب سے خود کش حملہ کیا تھا۔اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ دونوں لڑکے یونیورسٹی میں ملے تھے اور خیال ہے کہ وہیں وہ اسلامی اسٹوڈنٹس کی سیاست میں شامل ہو گئے۔جہاں انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اسرائیل کے معاملے میں فلسطین کے ساتھ نہ انصافی ہو رہی ہے۔

اس کےبعد وہ بظاہر تعلیم کے مقصد سے شام پہنچے اور حماس میں شامل ہو گئے۔
ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا کیا گیا کہ مسلمانوں کے ساتھ نہ انصافی ہو رہی ہے۔

تو اب ہوگا کیا ؟اگر یہ بات سامنے آتی ہے کہ لندن میں حملہ کرنے والے بھی اسی طرح کے خیالات کا شکار برطانوی نوجوان تھے اس صورت حال سے نپٹنے میں برطانوی معاشرے کا سخت امتحان ہوگا۔

عمر شریف اور آصف حنیف
اسرائیل میں خود کش حملہ کرنے والے برطانوی نوجوان

مسلم رہنماؤں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد عام برطانوی مسلمانوں کے خلاف نفرت اور بدلے کے جذبات میں اضافہ ہوگا خاص طور پر ان خواتین کو نفرت کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو حجاب پہن کر نکلتی ہیں۔

اس سے بھی زیادہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس رد عمل سے معاشرے میں مزید نا اتفاقی پھیلے گی اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب کھینچنے والے گروپوں کو اس سے فائدہ اٹھانے کامزید موقع ملے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد