’لندن دھماکوں میں ایک بمبار مارا گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پولیس نے کہا ہے کہ جمعرات کو ٹرین اور بس پر ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم ایک مشتبہ بمبار ہلاک ہوگیا تھا۔ پولیس کے مطابق اب تک ملنے والے ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ آلگیٹ میں ٹرین پر ہونے والے دھماکے میں خود بمبار بھی مارا گیا تھا۔ اس سے پہلے پولیس نے کہا تھا کہ اسے یقین ہے کہ لندن کے دھماکوں میں چار بمبار ملوث تھے جو سب کے سب ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس کو یہ بھی یقین ہے چاروں کے چاروں بمبار برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ پولیس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کنگ کراس سٹیشن کی سی سی ٹی وی فلم میں چاروں مشتبہ افراد کو دیکھا ہے جو صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے اس سٹیشن پر آئے۔ان کے یہاں آنے کے کچھ منٹ بعد لندن میں دھماکے ہوئے تھے۔ ان چاروں میں سے تین کا تعلق مغربی یارکشائر سے تھا۔ پولیس کے مطابق ٹرینوں میں جہاں جہاں دھماکے ہوئے تھے وہاں انہیں ایسی ذاتی دستاویز ملی ہیں جن پر مشتبہ افراد کے نام تھے۔ پولیس نے مغربی یارکشائر سے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار بھی کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے چاروں مشتبہ افراد کی شناخت کر لی ہے جنہوں نے جمعرات کی صبح لندن کا سفر کیا تھا۔ ان میں سے تین کا تعلق مغربی یارکشائر سے تھا۔ یارکشائر میں ان چار بمباروں میں سے ایک کے اہلِ خانہ نے پولیس میں بمبار کے گمشدہ ہونے کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔ لندن بمبار کی شناخت کے بعد پولیس نے لیڈز اور لوٹن میں چھاپے مارے اور کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے مگر تا حال ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ سکیورٹی سروسز سے ملنے والی اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ لندن کے بم دھماکوں میں چار بمبار ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کو شبہہ ہے کہ لندن انڈر گراؤنڈ میں تین خود کش بمبار سوار تھے البتہ انہیں ابھی تک یہ یقین نہیں ہے کہ ٹیویسٹاک سکوائر میں بس پر ہونے والے دھماکے میں خودکش بمبار ملوث تھا یا نہیں۔ ادھر پولیس نے لیڈز اور اس کے نواح میں واقع چھ مختلف گھروں کی تلاشی لی ہے اور لوٹن میں پولیس نے ایک کار کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کا پولیس کے بقول لندن کے حملوں سے تعلق ہے۔ برلی میں واقع جس گھر کا دروازہ دھماکے سے توڑنے کے بعد پولیس اندر گئی وہ خالی تھا۔ پولیس نے لوٹن میں واقع ایک سٹیشن کے کار پارک میں کھڑی ایک کار میں تین دھماکے کیے ہیں اور اسے شبہہ ہے کہ اس کار کا لندن کے دھماکوں سے تعلق ہے۔ یہ سٹیشن اب بند کر دیا گیا ہے اور پولیس کہتی ہے کہ اسے کئی گھنٹے تک بند رکھا جائے گا۔ دھماکے کرنے سے پہلے پولیس نے کار پارک اور سٹیشن کو خالی کرا لیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||