BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 July, 2005, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرین پر بم دھماکہ
لندن بم حملے
لندن پر ہونے والے بم حملوں میں کم از کم باون افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔
شمالی لندن سے تعلق رکھنے والی ریچل کنگس کراس سے رسل سکائیر جانے والی ٹرین کے اسی ڈبے میں سفر کر رہی تھیں جس میں بم دھماکہ ہوا۔ یہ ان کی ڈائری ہے۔

12 جولائی، میں کام پر پہنچ گئی
جان میرے ساتھ فنسبری پارک تک آیا۔ سٹیشن پہنچ کر عجیب سے گھبراہٹ ہونے لگی۔ میں بہت مشکل سے اپنے آنسو روکنے میں کامیاب ہوئی۔

جان نے پوچھا ’کیا ٹیکسی لے لیں؟‘ مگر میں نے منع کر دیا۔ میں جانتی تھی کہ جان ہر بار میرے ساتھ نہیں آ سکتا اور میں ٹیوب میں سفر کرنے میں جتنی دیر کروں گی میرا خوف اتنا ہی پکا ہو جائے گا۔

ہم نے جا کر پاس ہی ایک کیفے میں کافی پی۔ میں ٹیوب میں نہیں جانا چاہتی تھی، مگر میں نے ہمت کر کے پلیٹفارم کا رخ کیا۔

میں ٹرین کے پہلے ڈبے میں بیٹھی، بالکل وہیں جہاں میں جمعرات کو تھی۔ ٹرین چلنے لگی تو میں کانپنا شروع ہو گئی۔ جان نے مجھے سہارا دیا۔ ہم کنگس کراس پہنچنے ہی والے تھے کہ ایک آدمی جو پاس ہی میں کھڑا تھا ہماری طرف مڑا اور اس نے کہا ’کیا یہ تیوب پت تمہاری واپسی کا پہلا موقع ہے؟‘

میں نے کہا ’ہاں‘ اور ہم باتیں کرنے لگے۔ اس کا نام ایمن تھا اور وہ بھی جمعرات کو میری ہی ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔

جب میں اوکسفرڈ سرکس پہنچی تو اپنے آنسو نہیں روک پائی۔ کام پر پہنچی تو سبھی نے ہمدردی کا اظہار کیا۔ میرے ساتھی مجھے دیکھ کر خوش تھے۔ زندگی دوبارہ شروع ہوتی نظر آتی ہے۔

12 جولائی، ٹیوب پر واپسی

کام پر واپس جانے کا وقت آ گیا۔ ٹیوب پر سفر کرنے کا۔ میں نے رات اپنے باس کو ٹیکسٹ کر کے بتایا دیا تھا کہ میں ذرا دیر سے پہنچوں گی۔ میں لوگوں سے بھرے ٹیوب میں سفر نہیں کرنا چاہتی۔ اس وقت تو ٹیوب میں بیٹھنے کے خیال سے ہی میں کانپ رہی ہوں۔

میں ایسے جوتے پہن کر جا رہی ہوں جن میں مجھے دوڑنے میں آسانی ہوگی۔ میں بس یہی سوچنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ جب میں یہ سفر مکمل کر لوں گی تو مجھے کتنا خوشی ہوگی۔ اور یہ بھی کہ مجھے اپنی نئی جاب بہت پسند ہے اور میں جلد از جلد کام پر واپس لوٹنا چاہتی ہوں۔

میں نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ میں سفر کے دوران دوسرے مسافروں کی طرف دیکھوں گی اور اگر مجھے گھبراہٹ ہوئی تو حلاف توقع میں ان سے بات بھی کروں گی۔

اور اگر مجھے کوئی ایسا شخص نظر آگیا جو اپنے بیگ کو ایسے ہی چھوڑ رہا ہو تو میں شاید اسے تھپڑ لگا دوں گی۔

11 جولائی، میرا خوف کم ہو رہا ہے

میں اپنے جی پی (یعنی ڈاکٹر) سے مل کر ابھی واپس آئی ہوں۔ مجھے زیادہ صدمہ تو انہیں ہوا جب میں نے انہیں بتایا کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔ بہر حال انہوں نے میرے سینے اور بازو کا معائنہ کیا اور کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔

آج ایک عجیب بات ہوئی۔ مارک نامی ایک شخص جو اسی ٹرین کے اسی ڈبے میں سفر کر رہا تھا جس میں میں تھی، اس نے مجھ سے رابطہ کیا۔ مارک نے میرے بارے میں انٹرنیٹ پر پڑھا تھا۔

مارک نے بھی اپنی کہانی انٹرنیٹ پر شائع کی تھی اور اس طرح ہم دونوں کے درمیان رابطہ ہوا۔ ہمیں یہ پتہ چلا کہ ہم ایک دوسرے کے ہمسایے بھی ہیں۔ جس وقت بم پھٹا اس وقت وہ میرے بالکل سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔

وہ مارک کی ہی آواز تھی جس نے اندھیرے میں مجھے سہارا دیا تھا۔ مارک نے ڈرائور سے بات کرکے مڑ کر مجھ سے کہا تھا ’ڈرائور ہمیں اس ٹرین سے باہر نکالیں گے۔‘

مارک اور میری کہانی بالکل ایک سی ہے۔ انٹرنیٹ کی ہی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے رابطہ کر سکے ہیں۔ میرے بوآئے فرینڈ جان نے کام پر پہنچ کر فون کیا۔ اس کے لیے بھی یہ دن آسان نہیں ہیں۔

میرا خوف اب کچھ کم ہو رہا ہے اور مجھ میں فخر کا جزبہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے اپنے آپ پر فخر ہے، ان تمام لوگوں پر فخر ہے جنہوں نے ہماری مدد کی، مجھے لندن پر فخر ہے، جو میرا آبائی شہر نہ ہوتے ہوئے بھی اب میرا شہر ہے۔

10 جولائی، زندگی معمول پر کب آئے گی؟

میں اب بھی نیوز دیکھ رہی ہوں۔ آج لندن میں ساٹھ سال پہلے ہونے والی جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دس لاکھ پھول برسائے گئے۔

کتنا مشکل ہوتا ان لوگوں کے لیے روز کی بمباری اور خوف کا سامنا کرنا۔ کئی لوگوں نے کہا ہے کہ پچھلے دنوں میں لندن میں ہونے والے حملوں کے بعد اسی جزبے کا اظہار کیا گیا جس نے ساٹھ سال پہلے دوسری جنگ عظیم کے دوران لندن میں رہنے والوں کو اس دور کا سامنا کرنے کی طاقت دی تھی۔

ہم اپنی زندگی جینے کا ڈھنگ کبھی نہیں بدلیں گے۔ ہم نفرت کی فتح کبھی نہیں ہونے دیں گے۔

آگ کی وہ بو میرے ذہن سے کچھ کم ہو گئی ہے۔

میں ایک خوف زدہ، نفرت، شک اور غصے سے بھرے شہر میں نہیں رہنا چاہتی۔ مجھے لندن پر فخر ہے۔ آپ باہر جائیں تو ہر ملک، ہر تہذیب اور ہر مذہب کے لوگ آپ کو ساتھ ساتھ نظر آئیں گے اور مجھے لندن کا یہی کردار سب سے زیادہ پسند ہے۔ لندن ایک زندہ دل شہر ہے۔ لندن سب کا شہر ہے۔

میں چاہتی ہوں کہ زندگی جلد سے جلد معمول پر آ جائے۔ اگر لندن بہادری کے ساتھ دوسری جنگ عظیم کا سامنا کر سکتا تھا تو ان حملوں کا بھی کرے گا۔

میں منگل کو کام پر واپس جا رہی ہوں اور پھر اپنے کچھ دوستوں سے ملوں گی۔ میں آج جلدی سونا چاہتی ہوں اور کل سارا دن آرام کروں گی۔ میرے جسم کے ساتھ ساتھ میرا ذہن بھی بہت تھکا ہوا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ آج شاید مجھے شراب پیئے بغیر ہی نیند آجائے گی۔

10 جولائی، میں زندہ کیوں ہوں؟

جب ہفتے کی شام پولیس واپس چلی گئی تو میں نے اپنے لیے وہسکی کا ایک بڑا پیگ بنایا۔ پولیس میرے وہ جلے، پھٹے کپڑے ساتھ لے گئی جو میں نے دھماکے کے وقت پہنے ہوئے تھے۔

میں نے اپنے پارٹنر جان کو گلے سے لگایا اور ہم اپنے باغ میں دیر تک کھڑے رہے۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ان لوگوں کے بارے میں باتیں کیں جو اب بھی لاپتہ ہیں اور ان لوگوں کے بارے میں جو میرے پیچھے کھڑے تھے اور جو دھماکے کے سب سے قریب تھے۔

میرے ذہن میں پھر وہی چیخیں گونجنے لگیں۔ خون میں لتپت وہ سیاہ فام شخص جسے ایک سفید شخص نےگھسیٹتے ہوئے رسل سکوآئیر پہنچایا۔ وہ سارا راستہ درد سے چلاتا رہا۔

میرے ذہن میں وہ سب لوگ آئے جو شاید میرے پیچھے کھڑے تھے اور جو مارے گئے۔ میں اب بھی یہ نہیں سمجھ پا رہی کہ میں کیوں بچ گئی۔

میں نے گھر سے باہر جانے کا فیصلہ کیا اور اپنے ہونٹوں پر لپسٹک لگائی۔

9 جولائی، کل کتنا عجیب تھا

کل کتنا عجیب دن تھا۔ سارا دن میری طبیعت خراب رہی۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کی وجہ دھواں اور سارا وقت خبریں دیکھتے رہنا تھا۔

میرے کئی دوستوں کے فون اور ٹیکسٹ میسیج آئے اور پھولوں کے کئی گلدستے بھی۔ مجھے پھول بہت پسند ہیں۔ لوگوں کی محبت اور سہارے سے مجھے کتنی مدد ملی ہے میں بیان نہیں کر سکتی۔

میں نے شاید اتنا خوف بھی پہلے کبھی محسوس نہیں کیا۔ مرنے والوں میں میں بھی ہو سکتی تھی۔ سارا دن نیوز دیکھتی رہی۔

بی بی سی اور آئی ٹی وی پر بتایا گیا کہ کنگس کراس پر ہونے والا دھماکہ ٹرین کے پہلے ڈبے میں دروازوں کے قریب تھا۔۔بالکل وہیں جہاں میں کھڑی تھی۔

جب دھماکہ ہوا میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ایک ڈھیر میں جا گری۔ اندھیرے میں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہم ڈرایئور کے ڈبے کے راستے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے اور رسل سکوآئر تک پہنچے، مگر نیوز میں بتایا گیا کہ زیادہ تر لوگ ٹرین کے پچھلے حصے سے نکلے اور کنگس کراس پہنچے۔

جب میں نے یہ سنا کہ بم میرے ہی ڈبے میں تھا تو خود پر قابو رکھ پانا مشکل ہو گیا۔ میں نے بی بی سی کو فون کیا اور ان سے پوچھا کہ انہیں یہ خبر کہاں سے ملی۔ پھر میں نے اینٹی ٹیررسٹ ہاٹ لائن کو فون کیا اور انہیں ایک تفصیلی بیان دیا۔

میرا سر غصے اور حیرت سے چکرا رہا تھا۔ مجھے بار بار وہ لمحے یاد آتے رہے اور پھر ایک عجیب سی تھکان ہونے لگی۔

میں نے وہسکی کے کئی پیگ لگائے۔

میری بہن مجھ سے ملنے آئی۔ اسے دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ہوئی میں بیان نہیں کر سکتی۔ ہم نے ساتھ بیٹھ کر پیتزا کھایا اور مجھے اچانک احساس ہوا کہ میں نے پچھلے چوبیس گھنٹوں سے کچھ نہیں کھایا۔ بس چائے کی بہت ساری پیالیاں پی تھیں۔

بی بی سی پر ہاتھی کے بچوں کے بارے میں ایک پروگرام دیکھا اور ایک پل کے لیے لگا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ سونے کی کوشش کی مگر بار بار اس دھماکہ کی آواز اور لوگوں کی چیخیں اور اس دھویں کی بو مجھے جگاتے رہے۔

میں نے ایک ہربل چائے پی اور لگ بھگ گیارہ بجے سونے کی کوشش کی۔ مجھے اتنی تھکان شاید پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی۔

آج میں بہتر ہوں۔ میری طبیعت بھی بہتر ہے۔ ان دہشت گردوں کو شکست دینے کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ میں کام پر جاؤں، ٹیوب پر سفر کروں۔ وہ سب کروں جو لندن میں رہنے والی ایک عورت کی حیثیت سے میں کرنا چاہتی ہوں۔ باہر جاؤں، لندن کی زندگی کا لطف اٹھاؤں اور خود سے مختلف لوگوں اور تہذیبوں اور مذہبوں سے ڈروں نہیں۔

ہمیں نفرت سے بچ کر رہنا ہوگا اور ان لوگوں سے بھی جو اپنے غصے میں کسی کی نہیں سنتے۔

میں آج اور چائے پی رہی ہوں اور میں نے اپنے خوصورت پھولوں کو گلدانوں میں سجا دیا ہے۔

میرے ناخن اب بھی کالے ہیں۔ میں انہیں اب کاٹ ہی ڈالوں گی۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرے سینے میں اب بھی دھواں بھرا ہوا ہے۔ میں اب بھی کھانس رہی ہوں۔ میری بازو پر لگا زخم اب کچھ بہتر ہے۔

زندگی کچھ معمول پر آتی نظر آ رہی ہے۔ مگر میں سوچ رہی ہوں کہ اس صدمے سے نمٹنے کے لیے کسی سے ملنے جاؤں۔ میں پہلے بھی صدمے کا سامنا کر چکی ہے، اس لیے مجھے کسی حد تک اندازہ ہے کہ آگے کیا ہوگا۔

میں جانتی ہوں کہ اپنی آنکھوں دیکھی کہانی ہسپتال کے باہر کھڑے کچھ صحافیوں کو سنانے سے میری کہانی بہت جلد لوگوں تک پہنچ گئی۔ میں اکثر صدمے کا سامنا اسی طرح کرتی ہوں، اپنے تجربات کو دوسروں کے ساتھ بنانٹ کر۔

کل کچھ اور صحافیوں کے فون آئے۔ ’دی میل آن سنڈے‘ اور ’میٹرو‘ ایک فوٹوگرافر بھیجنا چاہتے تھے۔ میں نے صاف انکار کر دیا۔

میں نے ان سے کہا کہ اپنی کہانی لوگوں تک پہنچانا میرے لیے ضروری تھا مگر اس کے علاوہ میں زیادہ پبلسٹی نہیں چاہتی۔ میں یہ جاننا چہاتی ہوں کہ کیا وہ بم واقعی میرے ڈبے میں تھا اور کیا ان میں سے کوئی زخمی یا ہلاک ہوا جنہیں میں نے کنگس کراس میں ٹرین میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔۔خاص طور پر وہ ہنستی ہوئی سیاہ فام عورت، جس کا مسکراتا ہوا چہرہ اب بھی میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔

اگر بم واقعی اتنا قریب تھا تو میں زندہ کیوں ہوں؟ میں ڈبلیو ایچ اوڈن کی اس نظم کے بارے میں سوچ رہی ہوں جس میں وہ برائی کی عمومیت کا ذکر کرتے ہیں۔

8 جولائی، زندگی کا کاروبار نہیں رکتا

میں آج کام پر نہیں جا رہی کیونکہ مجھے آرام کی ضرورت ہے مگر پیر کو میں ایک بار پھر ٹیوب پر سفر کروں گی۔

ہاں یہ سچ ہے کہ میں شاید خوف محسوس کروں گی اور شاید بم دھماکے کے وہ خوف ناک پل مجھے پھر یاد آئیں گے مگر جیسے کہ میں کل کسی سے کہہ رہی تھی، جب ہم اس زمین دوز ٹرین میں پھنسے ہوئے تھے ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم بچ سکتے ہیں۔

میں پھر سفر کروں گی۔ میرے پاس اور کوئی چارا بھی تو نہیں ہے۔ آج ٹیوب پر سفر کرنے والے کئی لوگ یہ سوچ کر پریشان ہو رہے ہوں گے کہ نہ جانے کیا ہوگا اور کیا وہ اس کا سامنا کر سکیں گے۔ مگر میں جانتی ہوں میں نے سامنا کیا، ہم سب نے سامنا کیا۔ یہ احساس مجھے مضبوط بناتا ہے۔

میں خوف زدہ ہوں مگر مجھے غصہ بھی ہے اور اس وقت سے گزرنے کے لیے اپنے غصے کا استعمال کر رہی ہوں۔ مجھے ان سب پر غصہ ہے جنہوں نے ان حملوں کا منصوبہ بنایا اور یہ دھماکے کیے۔

میں شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں پولیس افسروں کا، سی آئی ڈی کی فورنسک ٹیم کا، ٹرین ڈرایئور کا، یونورسٹی کالیج ہسپتال کے تمام کارکنوں کا اور نرس فیتھ کا جو چھٹی ہونے کے باوجود لوگوں کی مدد کرنے آئی تھیں۔

آپ سب ’ونڈرفل‘ تھے۔ میرا خیال رکھنے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے میرے زخموں کو سیا، میرا ایکس رے کیا، مجھے دلاسہ دیا اور میرا خیال رکھا۔ اور میرے جیسے سینکڑوں لوگوں کا۔ بہت بہت شکریہ۔

جو کچھ ہوا اس کے بارے میں بات کرنے سے اب میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔ میری بازو میں اب بھی درد ہے اور میں شاید اب بھی کسی حد تک صدمے میں ہوں مگر آج میں نوے فیصد بہتر محسوس کر رہی ہوں۔

کل سارا دن مجھے اس دھویں کی بو ستاتی رہی۔ میں خوب کھانسی اور اپنی ناک صاف کی تو احساس ہوا کہ وہ اندر سے اب تک کالی تھی۔ کم سے کم یہ یقین ہو گیا کہ میں پاگل نہیں ہو رہی ہوں۔ وہ بو سچ تھی۔

بموں اور حملہ آوروں کے باوجود میں پیر کو ضرور کام پر جاؤں گی۔ کل مجھے لندن پر فخر تھا۔ آج بھی ہے۔ ہم نفرت اور خوف سے ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہیں۔

آج میں اپنے باغ میں بیٹھ کر پھولوں کو مہکتے دیکھوں گی، محسوس کروں گی۔ مجھے اپنی خوش قسمتی کا احساس ہے۔

جہاں تک میرا سوال ہے میں تو میں یہ چاہتی ہوں کہ سب کچھ ایک بات پھر معمول پر آجائے۔

7 جولائی، 0840 کی ٹرین

میں کام پر جانے کے لیے ایک بھری ہوئی ٹرین میں سوار تھی۔ 0840 کو میں نے فنسبری پارک سے پیکڈلی لائن کی ٹرین پکڑی۔

عام طور پر میں ٹرین کے درمیانی حصہ پر سوار ہوتی ہوں مگر اس دن ٹرین اتنی بھری ہوئی تھی کہ میں ٹرین کے اگلے حصہ میں سوار ہو گئی۔ میں ٹرین کے پہلے ڈبے میں تھی، ڈرایئور کے ڈبے کے بالکل پیچھے، دروازوں کے پاس۔ ٹرین لوگوں سے پوری طرح بھری ہوئی تھی۔

ٹرین کنگس کراس پہنچی تو اور زیادہ لوگ سوار ہو گئے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں اتنی بھری ہوئی ٹرین پر پہلے کبھی سوار نہیں ہوئی تھی۔ 0855 کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

چاروں طرف اندھیرا چھا گیا اور ٹرین کے ڈبے میں دھواں بھر گیا۔ ایک پل کے لیے مجھے لگا کہ میری آنکھیں چلی گئی ہیں۔ اندھیرا اتنا گھنا تھا کہ مجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مجھے لگا کہ بس میری جان نکلنے والی ہے۔ دھواں اتنا تھا کہ میری سانس گھٹ رہی تھی۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میں ڈوب رہی ہوں۔

پھر کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں سے کچھ ہوا اندر آئی اور ایمرجینسی لائٹس کی روشنی سے اندھیرا کچھ کم ہوا۔ ابتدائی خاموشی کے بعد لوگوں کی چیخیں شروع ہو گئیں۔

ہم نے گھبراہٹ کو روکنے کے لیے ایک دوسرے سے بات کرنا شروع کی۔ ہر طرف درد سے بھری آوازیں اور لوگوں کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ ڈرایئور نے ہمیں بتایا کہ وہ ٹرین کو کچھ آگے لے جانے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ ہمیں باہر نکال سکیں۔

اسی طرح تقریباً آدھا گھنٹہ گزر گیا۔ ہم سبھی کا دم گھٹ رہا تھا مگر ہم جانتے تھے کہ خود پر قابو رکھنا نہایت ہی اہم تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کو سہارا دینے کی کوشش کی۔ مجھے یاد ہے میں نے کہا ’اگر آج کسی کے باس نے دیر سے آنے کے لیے ڈانٹا تو ہمیں پتہ ہے اسے کیا جواب دینا ہے، ہے نہ؟!‘

لوگ ہنسے اور ہم یہی کہتے رہے کہ بس اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ آزادی نزدیک ہے۔ میں جانتی تھی کہ اگر ہم لوگ زیادہ گھبرا گئے اور گر گئے تو کسی کا بھی بچنا مشکل تھا۔

ہم آہستہ آہستے چلتے ہوئے آخر رسل سکوائر پہنچ گئے۔ پھر میں ایک لفٹ میں تھی اور پھر سٹیشن میں۔ میرے چاروں طرف کالے چہروں والے لوگ کھڑے تھے اور پھر کسی نے مجھے پانی کی بوتل پکڑائی۔ میرا منہہ بالکل سوکھ گیا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے پھیپھڑوں میں دھول اور مٹی بھری ہوئی ہو۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ میری بازو زخمی تھی اور زخم اتنا گہرا تھا کہ مجھے اپنی بازو کی ہڈی نظر آ رہی تھی۔

میں جانتی تھی کہ مجھے اپنے زخم کو صاف کرنا پڑے گا اور خون بہہ رہا تھا۔ اس لیے میں نے اپنی بازو اپنے سر کے اوپر اٹھا لی اور زور زور سے سانس لینے لگی۔ مگر مجھے یہ بھی احساس تھا کہ مجھے ایمبولنس کی ضرورت نہیں۔

میں ٹیوب سٹیشن سے باہر نکلی۔ سب پریشان حال گھوم رہے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ میں نے اپنی ایک دوست کو فون کیا اور اس نے مجھے یونورسٹی کالیج ہسپتال پہنچایا۔ گاڑی میں میں بےہوش ہونے لگی۔ میں بس گھر جانا چاہتی تھی۔

میری طبیعت بگڑ رہی تھی اور میں یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ کئی لوگوں کی حالت مجھ سے بری ہوگی۔ مجھے زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی۔ میں بچ جانے کے لیے خود کو قصوروار محسوس کر رہی تھی۔

ہسپتال میں سب نے میرا بہت خیال رکھا۔ میرے آنسو بہت مشکل سے رکے۔ میں چار گھنٹے تک ہسپتال میں تھی۔ میں ایمرجنسی اہلکاروں کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں وہ کم ہوگا۔ میرے زخم کو انہوں نے سی دیا لیکن وہ مجھے گھر جانے کی اجازت اس لیے نہیں دے رہے تھے کیونکہ میں کچھ سن نہیں پا رہی تھ اور انہیں ڈر تھا کہ میری بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔

ایکس رے سے پتا چلا کہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ آخر کار میں ہسپتال سے نکلی اور اپنے بوائے فرینڈ سے ملی۔ تب تک بسیں اور ٹرینیں بند ہو چکی تھیں اس لیے ہم چلتے چلتے کیمڈن تک پہنچے۔ اپنے ساتھی کا چہرا دیکھ کر میں تھرتھرانے لگی۔ میں اب بھی زندہ تھی۔

پب میں پتہ چلا کہ اور بم دھماکے ہوئے ہیں۔ میں صدمے کی سے کیفیت میں مبتلہ ہو گئی۔ میں شاید اب بھی صدمے میں ہوں۔

گھر پہنچنے میں اور دو گھنٹے لگے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ بہت جلد مجھے اس سب کا احساس ہو گا جو ہم سب نے کھویا ہے مگر فی الحال میں خوش ہوں کہ میں اب بھی زندہ ہوں۔


نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کے لئے قارئین کا ہے۔ آپ بھی اگر کسی موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66لندن دھماکے
’دہشت گردی کی کوئی قوم نہیں‘
66صوفی اور اسلام
جدید دور میں صوفی اسلام کا کردار
66میری عراق ڈائری
عراقی خاتون نائب وزیر ثقافت کی ڈائری۔۔۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد