لیڈز میں پولیس کارروائی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں جعمرات کو بم دھماکے کرنے والوں کی تلاش میں پولیس نے منگل کو چھ مختلف گھروں کی تلاشی لی اور لیڈز میں ایک گھرمیں داخل ہونے کے لیے پولیس کو خود دھماکہ کرنا پڑا۔ یہ دھماکہ برطانوی فوج کے بم ڈسپوزل سکواڈ کے ماہرین نے کیا۔ دھماکے سے پہلے چھ سو کے قریب افراد کو علاقے سے باہر نکالا گیا۔ برلی میں واقع جس گھر تک پولیس رسائی حاصل کرنا چاہتی تھی وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ یہ گھر ان چھ گھروں میں سے ایک ہے جہاں پولیس نے تلاشی لی ہے۔ پولیس نے لوٹن کے علاقے میں ایک کار بھی قبضے میں لے لی ہے۔ ابھی تک پولیس نے کسی کو گرفتار نہیں کیا تاہم مختلف مقامات پر پولیس تلاش دھماکہ خیز مواد کی تلاش میں ہے۔ برلی میں پولیس نے جن جگہوں کو خالی کرایا ان میں گھروں کے علاوہ ایک مسجد، صحت کا ایک مرکز اور ضیعفوں کی رہائش گاہ بھی شامل ہیں۔ لیڈز کے نواحی علاقوں بیسٹن اور ہالبیک کی ناکہ بندی کی اطلاع ہے جبکہ لیڈز ہی میں ڈیوزبری کی ایک گلی کے چاروں طرف بھی پولیس موجود ہے۔ انسپکٹر ہمزورتھ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کی سربراہی میٹروپولیٹن پولیس کے وہ افسران کر رہے ہیں جن کا تعلق انسدادِ دہشت گردی کے شعبے سے ہے۔ اس ٹیم کو ویسٹ یارکشائر پولیس اور فوج کے بم ڈسپوزل سکواڈ کی مدد حاصل ہے۔ انسپکٹر ہمزورتھ نے بتایا کہ جس گھر میں پولیس نے خود دھماکہ کیا تاکہ اسے اندر جانے کا راستہ مل سکے، وہاں دھماکہ خیز مواد اور کچھ دوسری چیزوں کی تلاش تھی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو کمپیوٹرز کی بھی تلاش ہے۔ لیڈز میں تلاش کا آُغاز صبح ساڑھے چھ بجے ہوا اور علاقے کے ایک رہائشی ناتھن کلارک نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے لوگ اس پر صدمے کی حالت میں ہیں۔ ’ہر کوئی حیران ہے کہ اس کے دروازے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔‘ اس سے پیشتر کمشنر سر آئن بلیئر نے اس بات کی تصدیق کی کہ لیڈز اور نواحی علاقوں میں جو کارروائی ہو رہی ہے اس کا براہِ راست تعلق لندن میں ہونے والے بم دھماکوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن اور نیویارک ایسے شہر ہیں جو دہشت گردوں کا اہم ترین نشانہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ ایک اور دھماکہ ہو سکتا ہے لیکن کب ہوگا یہ کسی کو معلوم نہیں۔‘ یارکشائر میں پولیس کارروائی سے پیشتر انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت پولیس نے وارنٹ حاصل کیے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس نے لندن میں جو معلومات اکھٹی کی ہیں لیڈز میں ہونے والی تلاشیاں انہیں معلومات کی اگلی کڑی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||