BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 July, 2005, 11:42 GMT 16:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ: یارکشائر میں چھاپے
پولیس
ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے
برطانوی پولیس نے گزشتہ جمعرات کو لندن بم دھماکوں میں ملوث افراد کی تلاش میں شمالی انگلنڈ میں پانچ مکانوں پر چھاپے مارے ہیں۔

لندن پولیس کے سربراہ سرائین بلیئر نے کہا ہے کہ یارکشائر میں مارے جانے والے ان چھاپوں کا تعلق براہ راست لندن میں ہونے والے دہشت گردی کی وارداتوں
سے ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ یہ چھاپے لندن کی زیر زمین ٹرینوں اور بس میں ہونے والے چار دھماکے کے بعد جمع کئے جانے والے شواہد کی روشنی میں مارے گئے ہیں۔

ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو اور لاشوں کے برآمد کیے جانے کے بعد باؤن ہوگئی ہے۔

دریں اثناء ان دھماکوں کے بعد کئی جگہوں پر مساجد اور مسلمانوں پر حملوں کے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔ کئی جگہوں پر سکھوں کے گردواروں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

برطانوی اخبار ’انڈپنڈنٹ‘ کے مطابق نوٹنگھم میں پولیس ایک اڑتالیس سالہ پاکستانی کی موت کی تحقیقات کر رہی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ قتل بھی لندن میں دھماکوں کے بعد مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اس کے علاوہ بریک ہیڈ اور مشرقی لندن کے علاقے مائل اینڈ کے علاقے میں مساجد پر پیٹرول بم پھینکے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

66میرپور میں تشویش
لندن بم دھماکوں کی شدت دور تک محسوس کی گئی
لندن بم حملے
میں اسی ٹرین میں سوار تھی: آر
66حملے کے بعد
لندن والے اپنی معمول کی زندگی پر واپس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد