BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 July, 2005, 23:22 GMT 04:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بم دھماکوں پر کشمیریوں کی تشویش

News image
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں رہتی ہے
لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدت چار ہزار میل دور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محسوس کی جارہی ہے۔

بم دھماکوں کے بعد رشتہ داروں کے بارے میں معلومات اور انکی خیریت کے بارے میں جاننے کے لئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کو ایک عذاب سےگزرنا پڑا۔

زیادہ تر لوگوں کو کئی گھنٹوں تک اپنے عزیزوں کے بارے میں کوئی خبر ہی نہیں تھی اور کئی لوگوں نے عزیزوں کی خیریت کے لئے منتیں بھی مانگی ۔

مرزا ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ سات جولائی کا دن ان کے لئے قیامت سے کم نہ تھا۔ مرزا جنکا تعلق میرپور سے ہے کے خاندان کے زیادہ تر افراد برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں اور اور ایک بہن وسطی لندن میں بھی رہتے ہیں۔

مرزا ظفر کا کہنا ہے کہ جونہی انہیں بم دھماکوں کی ٹی وی کے ذریعے اطلاع ملی تو ہم بہت پریشان اور بے چین ہوئے۔

’میں نے اپنی بیٹیوں اور بہنوں اور دیگر عزیزوں سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد بھی میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا جسکی باعث میری بے چینی اور تشویش بڑھتی گئی۔‘

ا

News image
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کے کمیونٹی سے تعلقات بہت اچھے ہیں
ن کا کہنا ہے کہ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے اور کیسے ان سے رابطہ کیا جاسکے اور کس طرح ان کی خیریت کا پتہ لگایا جاسکے۔

’ہم نے اپنوں کی خریت کے لئے منتیں مانگیں۔ ہمیں اس وقت سکون ملا جب اس رات گیارہ بجے میری بہن نے لندن سے فون کرکے ہمیں اپنے خیریت کی اطلاع دی۔‘

لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو بم دھماکوں کے چوبیس گھنٹے کی تاخیر کے بعد اپنے عزیزوں کی سے رابطہ ہوا اور بعض ایسے بھی خوش قسمت تھے کہ ان کو بم دھماکوں کے فوراً بعد اپنے عزیزوں سے رابط ہوا۔

برطانیہ مقیم پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد چھ لاکھ ہے ۔ ان میں زیادہ تر برطانیہ کے شمالی شہروں میں رہتے ہیں اور لندن میں رہنے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔

لندن میں بم دھماکوں کے بعد بہت سارے لوگوں کو جن کے خاندان کے لوگ برطانیہ میں رہتے ہیں یہ تشویش پیدا ہوئی ہے کہ برطانیہ میں اس کا رد عمل ہوسکتا ہے اور وہ اپنے خاندان والوں کے لئے فکر مند بھی ہیں ۔

غلام شبیر کا تعلق بھی میرپور سے ہےاور ان کے عزیز برطانیہ کے شہروں برمنگھم اور شیفیلڈ میں رہتے ہیں۔ غلام شبیر کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے لئے مشلکات پیدا ہوئیں اور لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے

ان کا کہنا ہے کہ لندن کے واقعہ کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب میں اضافہ ہوسکتا ہے اور انکے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں کیونہ ان کے خیال میں برطانیہ میں ایسے بھی لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے مسلمانوں کا ھاتھ ہے ۔

لیکن انھوں نے کہا برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کی واپسی ممکن نہیں کیونکہ وہ وہاں عشروں سے رہ رہے ہیں اور وہ اس ماحول میں رچ بس گئے ہیں۔ انکی ایک نسل وہی پیدا ہوکر جوان ہوئی ہے اور تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے انکے گھر ادھر ہیں انکا انکا کاروبار ادھر ہے انکا ملک برطانیہ ہی ہے ان حالات میں وہ کیسے واپس آسکتے ہیں۔

لیکن کچھ لوگوں کا خیال اس کے بلکل برعکس ہے ۔ میرپور سے تعلق رکھنے والے یاسین خان کا کہنا ہے کہ ہمارے عزیزوں کو اکثریتی فرقے سے کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ برطانیہ میں مذہبی آزادی ہے ہمیں برطانوی حکومت پر اعتماد ہے۔ وہاں مذہبی آزادی ہے اور امید ہے کہ لوگ مذہبی رواداری کو قائم رکھیں گے۔

یاسین خان پیشے سے ایک وکیل ہیں انکے بہت سارے عزیز برطانوی شہر اولڈھم میں رہتے ہیں ۔

’ہمارے لوگوں کو سے خطرہ نہیں ہے کیونکہ وہ بھی برطانوی شہری ہیں اور وہ بھی اتنے ہی بے قصوروار ہیں جتنے کے دوسرے ہیں۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عمومی طور پر ان دھماکوں کی مذمت کی جارہی ہے اور اس میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کیا جارہا ہے۔ میرپور سے تعلق رکھنے چوہدری مسعود کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے یہ کاروائی کی وہ مسلمان نہیں ہیں مسلمان بے گناہوں کی جان نہیں لے سکتے ہیں۔ ’میں نہیں جانتا یہ کون لوگ ہیں کیونکہ یہ لوگ نظر نہیں آتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ برطانوی عوام خواہ وہ کسی رنگ نسل اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ان کو مل کر اسکی مذمت کرنی چاہیے اور اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے اور انکی طرف سے فرقوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے عزائم کو ناکام بنانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے لوگوں کو آپس میں اتحاد اور اتفاق قائم رکھ کر دہشت گردوں کو مات دینی چاہیے۔

لیکن اس واقعہ کے بعد شاہد ایساکوئی کشمیری نہیں ہے جو برطانیہ چھوڑ کر واپس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر واپس آنا چاہتا کیونکہ وہ وہاں عشروں سے رہتے ہیں ان کی دو نسلیں وہاں پیدا ہوکر جوان ہوئی ہے چوتھی نسل وہاں پروان چڑھ رہی ہے اور وہ برطانیہ کو ہی اپنا ملک سمجھتے ہیں۔

ایم ایچ ظفر گزشہ پیتس سالوں سے ہیلیفیکس ویسٹ یارکشائر میں رہتے ہیں جبکہ انکے والدین نصف صدی سے وہاں آباد ہیں ۔ مسڑ ظفر آج کل اپنے آبائی گاؤں میرپور میں آئے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میرا گھر ہے میرے بیوں بچے وہاں ہیں میری والدین ادھر ہیں میری دادی کی قبر وہاں ہے۔ میں کام وہاں کرتا ہوں۔ میرا اپنا کاربار بھی ہے۔ میرے بچے وہاں کام کرتے ہیں۔ میں اپنا گھر اور ملک چھوڑ کر کیسے واپس آسکتا ہوں۔ ویسے بھی ہمیں وہاں کوئی خطرہ نہیں ہے میرے ہمسائے گورے ہیں وہ بہت اچھے ہیں ہمیشہ محبت اور ہمدردی سے پیش آتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد