BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 July, 2005, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو متوفین کی شناخت کا اعلان
لندن بم دھماکوں میں مرنے والے
پولیس نے ملنے والی لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا ہے
لندن بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 52 ہو گئی ہے اور مرنے والی دو خواتین کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن نے اکیاون سالہ گلیڈس ونڈووا کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ گلیڈس ٹیوسٹاک سکوائر میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئیں۔

ہلاک ہونے والی دوسری خاتون کا نام سوزین لیوی بتایا گیا ہے۔ ترپن سالہ سوزین کا تعلق ہرٹفورڈ شائر کے علاقے کفلی سے تھا۔

مسز لیوی جو کہ کنگز کراس سٹیشن پر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئیں اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ لندن آئیں تھیں جہاں وہ اپنے اپنے کام پر جانے کے لیے الگ الگ روانہ ہوئے تھے۔

سوزین لیوی کے خاوند ہیری کا کہنا ہے کہ ’لیوی ایک بہت پیار کرنے والی بیوی اور ماں تھی۔ ہم اس نقصان پر بہت غمزدہ ہیں اور ہماری ہمدردیاں ان دیگر خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اس حادثے سے متاثر ہوئے ہیں‘۔

اس وقت جب کہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ مسلسل معلومات مہیا کیے جانے کی اپیل کر رہے ہیں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ملنے والی لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ذرائع کو یقین ہے کہ لاشوں کے ساتھ موجود شناختی اشیا اور ان کے رشتہ داروں کی مدد سے 49 لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے ملنے والے نہایت مثبت ردعمل کی وجہ سے ان کی تحقیقات کو بہت مدد ملی ہے ۔

لندن کے سٹی ہال میں ایک تعزیتی کتاب بھی رکھ دی گئی ہے جس پر سب سے پہلے لندن کے میئر کین لیونگسٹن نے اپنے تاثرات قلمبند کیے۔

کنگز کراس سٹیشن پر ایک یادگاری باغ بھی کول دیا گیا ہے جہاں مرنے والوں کی یاد میں پیغام اور گلدستے رکھے جا رہے ہیں۔

لندن کے باسیوں سے کی جانے والی اس اپیل کے بعد کہ وہ معمول کی زندگی کی جانب لوٹ آئیں پیر کو پبلک ٹرانسپورٹ پر معمول کے مطابق رش دیکھنے میں آیا۔

بہت سے افراد نے دھماکوں کے بعد پہلے دن اپنے کام کا رخ کیا۔ ایک ہسپتال میں کام کرنے والی ٹریسا ویب کا کہنا تھا کہ ’میں تمام وقت فکر مند رہی لیکن آپ زندگی کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد