لندن، یورپ میں دو منٹ کی خاموشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن دھماکوں کے ایک ہفتے بعد پورے یورپ میں لاکھوں افراد نے جمعرات کے روز دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے برطانیہ کے لوگوں کے دکھ میں شرکت کی۔ ان دھماکوں میں کم از کم52 افراد ہلاک اور 700 زخمی ہوئے ہیں۔ برطانوی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے لندن میں بسیں اور کاریں ٹھہر گئیں اورہلاک شدگان کی یاد میں دو منٹ خاموشی اختیار کی گئی۔ لوگوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر آ کر کھڑے ہوں۔ اسی موقع پر بالی میں موم بتیاں جلا کر دعا کی گئی اور 2002 میں بالی بم دھماکوں کے ہلاک شدگان کو یاد کیا گا۔ لندن کے میئر کین لیونگسٹن نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ دہشت گردوں کے خلاف پر عزم یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لیے وہ اپنے گھروں ، دفاتر اور دوکانوں سے باہر آکر کھڑے ہوں۔ تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ اب انہوں نے ان چاروں لوگوں کی شناخت کر لی ہے جو یہ حملے کرتے ہوئے مارے گئے۔ پولیس کو اس پانچویں شحص کی تلاش ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ان دھماکوں میں ہلاک نہیں ہوا اور جس نے ان حملوں کی سازش تیار کی تھی۔ فارینسک ماہرین آئیلسبری میں ایک مکان کا جائزہ لے رہے ہیں جس پر انسداد دہشت گردی کے افسران نے بدھ کو چھاپہ مارا تھا لیکن اب تک نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور نہ ہی کوئی دھماکہ خیز سامان برآمد ہوا ہے۔ لندن کے میئر کا کہنا ہے ’لندن گزشتہ جمعرات کے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کو یاد کرے گا اور ان لوگوں کے جرات مندانہ مدفعت کا اظہار کیا جائے گا جنہوں نے دہشت کے ذریعے ہمارے شہر کے کردار کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے‘۔ اس تقریب کا اہتمام گریٹر لندن اٹھارٹی نے کئی مذہبی گروپوں اور ٹریڈ یونین کانگریس کے ساتھ ملکر کیا تھا۔ برٹش ائیر پورٹ اتھارٹی نے بھی کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کے دو منٹ کی خاموشی کے دوران کوئی پرواز نہ ہو اور ہوائی اڈے کے ٹرمنلز پر بھی مکمل خاموشی اختیار کی جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||