’ہم نے سب کچھ کھو دیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں بم دھماکوں میں ملوث ایک مشتبہ بمبار کے اہلِ خانہ نے کہا ہے کہ وہ اس خبر سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لندن دھماکوں میں ملوث مشتبہ بمبار شہزاد تنویر کے انکل بشیر احمد نے کہا ہے کہ ان کے خاندان کے لئے یہ بات تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ شہزاد ان دھماکوں میں ملوث تھا۔ شہزاد حال ہی میں مذہبی تعلیم کے لئے پاکستان گیا تھا۔ ’یہ (شہزاد) کا نہیں بلکہ اُس کے پیچھے کارفرما طاقتوں کا کام ہے۔‘ برطانوی پولیس اب تفتیش کا رخ لندن دھماکوں کے پیچھے کارفرما ماسٹر مائنڈز کی طرف کررہی ہے۔ جب بشیر صاحب سے پوچھا گیا کہ انہں اس وقت کیسا محسوس ہوا جب پولیس نے انہیں بتایا کہ شہزاد اصل میں دھماکے کرنے والوں میں ملوث ہوسکتا ہے تو مسٹر بشیر نے روتے ہوئے کہا ’ہم نے سب کچھ کھو دیا۔‘ مسٹر بشیر نے کہا کہ شہزاد اس سال کے شروع میں دو ماہ کے لئے مذہبی تعلیم کے لئے پاکستان گیا تھا۔ دہشت گردی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ لندن دھماکوں کے تینوں بمباروں کے پیچھے ایک ایسا ’ہاتھ‘ موجود تھا جو انہوں کنٹرول کررہا تھا۔ اسی اثناء میں برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایسے نئے قوانین کی ضرورت ہے جو لندن بم دھماکوں کے پیچھے کارفرما نظریات کا تدارک کرسکیں۔ انہوں نے رکن پارلیمان کو یہ بھی بتایا کہ ایسے قوانین کو تشکیل کے لئے بات چیت شروع کی جائے گی جن کے تحت ایسے لوگوں کو ملک بدر کیا جاسکے جو نفرت پھیلاتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||