برطانیہ کو آگاہ کیا تھا: شیرپاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے برطانیہ میں الیکشن سے قبل برطانوی حکام کو ٹھوس معلومات فراہم کی تھیں کہ برطانیہ میں لندن بم دھماکوں کی طرز پر دہشت گردی کی کارروائی ہونے جا رہی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی اطلاع پر برطانیہ سمیت کئی ملکوں میں گرفتاریاں کی گئیں تھیں اور دہشت گردی کی کارروائی کو قبل از وقت روک لیا گیا تھا۔ تاہم وزیر داخلہ نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ لندن بم دھماکوں کی تفتیش میں تعاون کر رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی حکام کے پاس جو بھی معلومات ہوئیں وہ برطانوی حکام کو فراہم کی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ وہ ان معلومات کو ابھی عام نہیں کر سکتے جو پاکستانی حکام کے پاس ہیں۔ وزیر داخلہ نے ایک برطانوی شہری ذیشان صدیقی کی گرفتاری کی تردید یا تصدیق کرنے سے انکار کیا جس کے بارے میں پاکستانی میڈیا میں رپورٹیں شائع ہوئی ہیں جن میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کا تعلق لندن بم دھماکوں سے ہو سکتا ہے۔ آفتاب شیر پاؤ کا کہنا ہے پاکستانی حکومت ان بم دھماکوں کی مذمت کرتی ہے اور اسے ایک غیر انسانی فصل سمجھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے غیر انسانی فعل کو کسی مذہب یا ملک کے ساتھ جوڑنا صحیح نہیں ہے۔ وزیر داخلہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ لندن بم دھماکوں کے ایک مبینہ ملزم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ گذشتہ برس پاکستان کے شہر لاہور آیا تھا تو انھوں نے کہا کہ پاکستانی حکام اس بات کی بھی تفتیش کریں گے۔ انھوں نے برطانیہ میں ایک پاکستانی کی ہلاکت اور مساجد پر حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے مگر ابھی بھی ملک میں دہشت گرد کچھ جگہ موجود ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||