لندن بم دھماکوں کا عراق سے تعلق؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج برطانیہ میں بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا عراق کے خلاف جنگ سے لندن میں دہشت گرد حملوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔لیکن ابھی صرف کچھ ہی سیاست دان کھلے عام یہ سوال پوچھنے کے لئے تیار ہیں۔ عراق جنگ کے مخالف جارج گیلو وے کی جانب سے لندن پر حملوں کو عراق جنگ کی قیمت قرار دئے جانے پر شدید تنقید اور مذمت کا سامنا رہا۔ اس کے علاوہ لیبر کے کچھ ممبران پارلیمنٹ نے بھی عراق اور ان دھماکوں کو محتاط انداز میں جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لبرل ڈیموکریٹ چارلس کینڈی نےجو عراق جنگ کے مخالف تھے ان دھماکوں اور عراق جنگ میں کسی طرح کے تعلق سے انکار کیا۔ تاہم ان کاہنا تھا’ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اتحادی افواج کی جانب سے عراق پر قبضے سے شدت پسندی میں اضافہ ہوگا اور بیرون ممالک عناصرکو پُر تشدد بنیاد پرستی پھیلانے کا موقع ملے گا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد عراق کے تنازعہ کو لوگوں کی ناراضگی میں اضافہ کرنے اور نوجوانوں کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ سکوٹش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما ایلکس سالمن کی جانب سے پوچھےجانے والے اس سوال نے ایک بحث شروع کر دی ہے۔ مسٹر سالمن نے اطالوی وزیر اعظم سلویو برلوسکونی کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ امریکہ ، برطانیہ اور اٹلی کو دہشت گرد حملوں کا خطرہ زیادہ ہے کیونکہ ان ممالک کے رہنما عراق جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ مسٹر سالمن کا کہنا تھا کہ ان کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ عراق جنگ سے دہشت گردی کو فروغ ملا ہے۔ لیکن کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکے گا ’ہم نے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا‘ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب یہ بھی واضح نہ ہو کہ یہ حملے کس نے کئے اور ان حملوں کا مقصد کیا تھا۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے ان کے خیال میں یہ بمبار اسلامی انتہا پسند تھے اور عراق جنگ کے نتیجے میں برطانیہ کو اس طرح کے حملوں کی وارننگ پہلے ہی دی جا چکی تھیں۔ فروری 2003 میں عراق جنگ سے پہلے پارلیمان میں اس موضوع پر ہونے والی بحث میں سابق لیبر وزیر فرینک ڈوبسن نے کہا تھا ’انہیں خدشہ ہے کہ عراق میں فوجی کاروائی دہشت گردوں کی بھرتی کی اہم وجہ بن سکتی ہے۔‘ اسی بحث میں لبرل ڈیموکریٹ سائمن ہیوز نے بھی کچھ ایسی ہی دلیل دی تھی کہ عراق میں امریکہ اور برطانیہ کی کاروائی دہشت گردی میں اضافہ کر سکتی ہے۔ خارجی امور سے متعلق ممبران پارلیمنٹ کی کمیٹی نے جنگ شروع ہونے کے بعد جولائی 2003 میں کہا تھا کہ عراق پر القاعدہ کا موقف کچھ گمراہ جوجوانوں کو دہشت گرد کاروائیوں کی جانب راغب کر سکتا ہے۔ عراق کے مسُلے پر استعفی دینے والی سابق لیبر وزیر کلئیر شارٹ نے کمیٹی کے سامنے کہا تھا کہ عراق پر حملے کے نتیجے میں القاعدہ نے ’بڑی تعداد میں‘ لوگوں کو بھرتی کیا ہے۔ اس کے بعد اگلے سال فروری میں ہی اسی کمیٹی نے کہا تھا کہ عراق کے وجہ سے برطانوی شہریوں اور برطانوی تنصیبات پر جلدی ہی حملوں کے امکانات ہیں۔
ان تمام باتوں کا جواب میں وزیر اعظم نے 11 ستمبر کے حملوں کا حوالہ دیا ان کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے حملے عراق جنگ سے پہلے ہوئے تھے اور یہ کہ دہشت گردوں کو اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ کون جنگ کے حق میں ہے اور اس کے خلاف۔ مسٹر بلئیر کا خیال ہے کہ شدت پسندوں نے دراصل پہلے ہی مغرب کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تھا۔ مسٹر بلئیر کی دلیل تھی کہ ان کے پاس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا خواہ اس میں کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||