BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پر خفیہ میمو
بصرہ میں برطانوی فوجی
برطانیہ عراق میں اپنی افواج کی تعداد میں نمایا کمی کرنا چاہتا ہے
برطانوی وزارت دفاع کے ایک خفیہ ’میمو‘ یعنی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ اگلے سال تک عراق میں اپنی فوجیں کم کرنا چاہتے ہیں۔

اس دستاویز میں افواج کی کمی سے عراق کی صورتحال میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر ہے۔

صحافیوں کو لیک کیے گئے اس میمو کی تصدیق برطانوی وزیر دفاع جان ریڈ نے کر دی ہے۔ میمو پر وزیر دفاع کے ہی دستخط موجود ہیں۔

وزیر کا کہنا ہے کہ اس دستاویز کو پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع و خارجہ امور کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس میں ممکنات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

میمو میں یہ واضح ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت عراق میں اپنے کردار کو کم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

توقعات
میمو میں اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگلے سال تک برطانیہ کے ساڑھے آٹھ ہزار فوجیوں میں کمی کر کے صرف تین ہزار فوجیوں کو عراق میں تعنات کیا جائے گا۔ اس صورتحال کے تحت امریکی فوجوں کی تعداد بھی ایک لاکھ چہتھر ہزار سے کم کر کے ساٹھ ہزار کی جائے گی۔

مسائل
تاہم اس میں کئی مسائل کی وضاحت کی گئی ہے جن میں سر فہرست عراقیوں کو سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری سونپنا شامل ہے۔ اس فیصلے کا انحصار عراقی سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت کے معیار اور تیاری پر ہوگا۔

شیڈول کے مطابق برطانوی فوج اکتوبر میں دو صوبوں کا کنٹرول عراقیوں کے حوالے کرے گی اور بصرہ سمیت مزید دو صوبوں کا کنٹرول اپریل میں حوالے کرے گی۔

امریکی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھی اگلے سال حوالے کرنے کے ارادے کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم یہ وہی علاقے ہیں جہاں مزاحمتکار سر گرم ہیں اور تشدد کے واقعات جاری ہیں۔

اس دستاویز میں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکی فوج میں اس فیصلے پر اتفاق نہیں پایا جاتا۔ پینٹاگون اور امریکی مرکزی کمانڈ چاہتے ہیں کہ فوج کی تعداد میں نمایاں کمی کی جائے لیکن علاقے میں تعینات کمانڈروں کا کہنا ہے یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دباؤ
برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں پر تین قسم کے دباؤ ہیں جن کی وجہ سے وہ عراق میں اپنا کردار کم کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں سیاست، اخراجات اور نفری شامل ہیں۔

سیاسی ضرورت یہ ہے کہ عراقی ہی عراق کو سنبھالیں۔

اخراجات کے اعتبار سے صورتحال یہ ہے کہ اگر برطانیہ نے عراق میں تعینات فوج میں کمی کر کے صرف تین ہزار فوجی وہاں چھوڑے تو اس سے اسے پچاس کروڑ پاؤنڈ کی بچت ہوگی۔

جہاں تک نفری کا سوال ہے اگر برطانیہ عراق میں فوج میں کمی کرے گا تو پھر وہ اگر چاہے افغانستان میں زیادہ فوج تتعینات کر سکے گا۔

خطرات
میمو میں تجویز شدہ منصوبے کے بارے میں ناقدین کہتے ہیں کہ اس میں بہت خطرے لاحق ہیں۔ مشیگن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر خوان کول کہتے ہیں کہ اس سے عراق ٹوٹ سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ نئی عراقی فوج ملک کا کنٹرول سنبھالنے میں نا کام رہےگی اور شمال میں کُرد، جنوب میں شعیہ اور مرکز میں مخلوط اتحاد اقتدار میں آجا ئیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے ہوگا کیونکہ غیر ملکی افواج کی واپسی کے منصوبے کے تحت عراقی صوبو ں کو محتلف گروپوں کے حوالے کیا جائے گا اور اس سے عراق کی یکجہتی کو خطرہ ہوگا۔

66بش جعفری ملاقات
بش اور جعفری ملاقات میں کیا زیرِبحث آیا؟
66عراق کا ایک دن
عراق میں رہنے والوں کی کہانیاں۔۔
66میرے ننھے فرشتے۔۔۔
عراق میں بچوں کی ایک نرس کی کہانی۔۔۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد