عراق پر خفیہ میمو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزارت دفاع کے ایک خفیہ ’میمو‘ یعنی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ اگلے سال تک عراق میں اپنی فوجیں کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس دستاویز میں افواج کی کمی سے عراق کی صورتحال میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر ہے۔ صحافیوں کو لیک کیے گئے اس میمو کی تصدیق برطانوی وزیر دفاع جان ریڈ نے کر دی ہے۔ میمو پر وزیر دفاع کے ہی دستخط موجود ہیں۔ وزیر کا کہنا ہے کہ اس دستاویز کو پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع و خارجہ امور کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس میں ممکنات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ میمو میں یہ واضح ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت عراق میں اپنے کردار کو کم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ توقعات مسائل شیڈول کے مطابق برطانوی فوج اکتوبر میں دو صوبوں کا کنٹرول عراقیوں کے حوالے کرے گی اور بصرہ سمیت مزید دو صوبوں کا کنٹرول اپریل میں حوالے کرے گی۔ امریکی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھی اگلے سال حوالے کرنے کے ارادے کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم یہ وہی علاقے ہیں جہاں مزاحمتکار سر گرم ہیں اور تشدد کے واقعات جاری ہیں۔ اس دستاویز میں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکی فوج میں اس فیصلے پر اتفاق نہیں پایا جاتا۔ پینٹاگون اور امریکی مرکزی کمانڈ چاہتے ہیں کہ فوج کی تعداد میں نمایاں کمی کی جائے لیکن علاقے میں تعینات کمانڈروں کا کہنا ہے یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ دباؤ سیاسی ضرورت یہ ہے کہ عراقی ہی عراق کو سنبھالیں۔ اخراجات کے اعتبار سے صورتحال یہ ہے کہ اگر برطانیہ نے عراق میں تعینات فوج میں کمی کر کے صرف تین ہزار فوجی وہاں چھوڑے تو اس سے اسے پچاس کروڑ پاؤنڈ کی بچت ہوگی۔ جہاں تک نفری کا سوال ہے اگر برطانیہ عراق میں فوج میں کمی کرے گا تو پھر وہ اگر چاہے افغانستان میں زیادہ فوج تتعینات کر سکے گا۔ خطرات ان کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے ہوگا کیونکہ غیر ملکی افواج کی واپسی کے منصوبے کے تحت عراقی صوبو ں کو محتلف گروپوں کے حوالے کیا جائے گا اور اس سے عراق کی یکجہتی کو خطرہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||