صدر بش،عراقی وزیرِ اعظم: ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے قائم مقام وزیرِ اعظم ابراہیم جعفری امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں اور انھوں نے واشنگنٹن میں امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی رائے عامہ کا عراق میں انتظامیہ کی قابلیت پر اعتماد بہت کم ہے۔ کانگرس میں امریکی فوجوں کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ امریکی فوجوں پر فلوجہ کے حالیہ حملے کے بعد اس مطالبے میں شدت آئی ہے۔ عراق کے قائم مقام وزیرِ اعظم نے امریکی فوجیوں کی قربانیوں کی تعریف کی۔ عراقی وزیرِ اعظم اور صدر بش نے عہد کیا کہ مزاحمت پر قابو پایا جائےگا۔ وزیرِاعظم جعفری نے کہا کہ یہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہیں ہے۔ صدر بش نے کہا کہ ان کا پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ صدر بش کے خیال میں دشمنوں کا ارادہ ہے کہ وہ عراق میں ایک جمہوری حکومت کے قائم ہونے سے قبل امریکیوں کو عراق سے نکال دیں مگر ان کو کامیابی نہیں ہو گی۔ صدر بش نے فوجوں کی واپسی کی معیاد مقرر کرنے سے گریز کیا ہے ۔انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امریکی فوجیں عراق میں اس وقت تک رہیں گی جب تک ان کی ضرورت ہے۔ صدر بش کا بیان نائب صدر ڈِک چینی کے بیان سے مختلف ہیں۔ چینی نے کہا تھا کہ مزاحمت اپنے آخری مراحل میں ہے جبکہ صدر بش نے کہا ہے کہ اس ’ظالم اور پر تشدد‘ مزاحمت سے نپٹنا آسان نہیں ہو گا۔ امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان ابی زیدنے سینٹ کی فوجی معاملات کی کمیٹی کے سامنے کہا ہے کہ اب پہلے کی نسبت زیادہ غیر ملکی مزاحمت کار عراق میں داخل ہو رہے ہیں۔ عراقی وزیرِاعظم جعفری اور صدر بش کے درمیان ملاقات نئے عراقی آئین پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ عراقی آئین پندرہ اگست تک تشکیل پانا ہے۔ جعفری کا کہنا ہے کہ وہ پر امید ہیں کہ نیا عراقی آئین مقررہ مدت میں تشکیل پا جائے گا۔ واشنگٹن میں امریکی اہلکار آئین کی تیاریوں کی رفتار سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||