خودکش حملے، مزید لاشیں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر کرکوک میں بم حملے میں کم سے کم بائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں اسّی سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں دس بچے شامل ہیں۔ مقامی پولیس نے بتایا ہے کہ یہ بم دھماکہ ایک بینک کے قریب ہوا جہاں لوگ قطار بنائے کھڑے تھے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیہ یہ دھماکہ ایک خود کش حملے کے نتیجے میں ہوا۔ کرکوک تیل کی صنعت کا ایک اہم مرکز ہے اور عراق کا چالیس فیصد تیل اس علاقے میں ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہاں مختلف نسلی گروہوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔اب شہر کے عربوں، کردوں اور ترکوں میں یہاں کے وسائل کے کنٹرول کے لیے مسلسل جھگڑا رہتا ہے۔ اس علاقے میں اسّی کی دہائی میں ملک کے سابق صدر صدام حسین نے زبردستی عربوں کو بھی بسانے کی کوشش کی تھی۔ اب کرد کرکوک کو عراق کے اندر کرد علاقوں کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ دھماکہ کرد رہنما مسعود برزانی کی عراق میں کرد علاقوں کے صدر کے طور پر حلف برداری سے کچھ دیر پہلے ہوا۔ کرکوک کی حیثیت تبدیل کرنے کا معاملہ عراق کے شیعہ اور سنی عربوں دونوں کے لیے ہی متنازعہ ہے اور اگر امریکی عراق میں استحکام قائم کرنا چاہتے ہیں تو ان کو کرکوک پر توجہ دینی چاہیے۔ ادھر دار الحکومت بغداد کے شمال مغرب میں واقع شہر بقوبہ میں بھی ایک خود کش بم حملہ ہوا ہے جس میں کم سے کم پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ لاشیں برآمد گزشتہ ہفتے کے دوران عراق میں چالیس ایسے افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے ہاتھ پیچھے سے باندھ کر قریب سے گولی ماری گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||