’امریکہ عراق جنگ میں ہار نہیں رہا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو عراق کی جنگ ہار نہیں رہا ہے اور عراق سے فوج کی واپسی کی کوئی تاریخ مقرر کر کے اسے واپس بلانا ایک غلطی ہوگی۔ رمزفیلڈ نےسینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ امریکہ نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ عراق میں اپنا مشن مکمل کرے گا اور ہم اسے مکمل کر کے ہی لوٹیں گے۔ کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے خلیج میں امریکی کمانڈر جنرل جان ابی زید نے یہ بتایا کہ غیر ملکی جنگجوؤں کی عراق میں داخل ہونے کی تعداد گزشتہ چھ ماہ میں زیادہ ہوئی ہے۔ یہ کارروائی اس وقت ہو رہی ہے جب کہ خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی عوام میں عراق جنگ کی حمایت کم ہونا شروع ہو چکی ہے۔ حال ہی میں عراق میں ہونے والے بم دھماکوں میں تقریباً تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایک سروے کے مطابق 51 فی صد امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ دو سال پہلے عراق پر حملہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ جنرل ابی زید نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ خود کش حملہ کرنے والے زیادہ تر تیونس، مراکش اور الجیریا سے شام کے راستے عراق میں داخل ہو رہے ہیں اور ان میں سے بعض کا تعلق سعودی عرب اور اردن سے بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ شام ان خود کش حملہ کرنے والوں کی مدد کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کہ شام کی حکومت اس بات کو نہیں مانتی ہے مگر یہ بات بحث بحث طلب نہیں ہے البتہ اس پر بحث کی جا سکتی ہے کہ شام ان کی مدد کر رہا ہے یا چشم پوشی سے کام لے رہا ہے۔ وزیر دفاع رمزفیلڈ نے کہا ہے کہ اس جنگ کے ختم ہونے کے لیے کوئی پشگوئی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی جنگ کے جلد ختم ہونے کی فی الحال کوئی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ ختم کرنے کی کوئی تاریخ طے کر دی جائے تو اس سے شدت پسندوں کو تقویت حاصل ہوگی۔ رمزفیلڈ نے کہا کہ یہ سفر ابھی جاری ہے اور اس میں پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا اور انتہائی صبر سے کام لینا ہوگا۔ وزیر دفاع نے عراق میں ہونے والے انتخابات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عراق کے معاشی حالات میں بہتری ہوئی ہے اور یہ عراق کی ترقی کے لیے ایک اچھا قدم ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈورڈ کینیڈی نے کہا ہے کہ رمزفیلڈ کی گزشتہ تمام پشگویاں غلط ثابت ہوئی ہیں اور وہ انہیں بار بار اس عہدے سے دست بردار ہونے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ اس وقت عراق میں ایک لاکھ پیتیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||