معافی مانگتا ہوں: ڈونلڈ رمزفیلڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراقی قیدیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعے پر امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے عراقی قیدیوں اور ان کے رشتہ داروں سے ’تہہ دِل‘ سے معافی مانگی ہے۔ امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ وزیر دفاع کانگریس کے سامنے پیش ہوکر اس سارے معاملے میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کے کردار پر آزادانہ انکوائری کے درخواست کریں گے۔ صدر بش نے پہلے ہی کہا ہے کہ عراقی قیدیوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک پر وہ معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے جمعرات کو ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ مسٹر رمزفیلڈ کو انہیں اس بارے میں پہلے ہی مطلع کر دینا چاہیئے تھا۔ اس واقعے کے بعد مسٹر رمزفیلڈ کے استعفٰی کے لئے بھی مطالبات کئے جارہے ہیں لیکن صدر بش نے کہا ہے کہ وہ ان کی کابینہ کے اہم رکن ہیں اور وہ کام کرتے رہیں گے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ مسٹر رمزفیلڈ کے جارحانہ انداز کی وجہ سے دارلحکومت میں ان کے ناقدین میں خاصہ اضافہ ہوا ہے اور جب وہ کانگریس کے کمیٹی کے سامنے پیش ہونگے تو ان کے ساتھ خاصی سختی برتی جا سکتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر مسٹر رمزفیلڈ اس واقعے پر شرمساری کا اظہار نہ کر پائے تو انہیں خاصی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مسٹر رمزفیلڈ کی کانگریس کے سامنے یہ پیشی ایک ایسے وقت پر ہورہی ہے جب ملک میں ایک تازہ سروے کے مطابق باسٹھ فیصد امریکی موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||