BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 May, 2004, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معافی مانگتا ہوں: ڈونلڈ رمزفیلڈ
News image
دفاع کے ڈیپارٹمنٹ کے کردار پر آزادنہ انکوائری ہوگی۔
امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراقی قیدیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعے پر امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے عراقی قیدیوں اور ان کے رشتہ داروں سے ’تہہ دِل‘ سے معافی مانگی ہے۔

امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ وزیر دفاع کانگریس کے سامنے پیش ہوکر اس سارے معاملے میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کے کردار پر آزادانہ انکوائری کے درخواست کریں گے۔

صدر بش نے پہلے ہی کہا ہے کہ عراقی قیدیوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک پر وہ معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے جمعرات کو ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ مسٹر رمزفیلڈ کو انہیں اس بارے میں پہلے ہی مطلع کر دینا چاہیئے تھا۔

اس واقعے کے بعد مسٹر رمزفیلڈ کے استعفٰی کے لئے بھی مطالبات کئے جارہے ہیں لیکن صدر بش نے کہا ہے کہ وہ ان کی کابینہ کے اہم رکن ہیں اور وہ کام کرتے رہیں گے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ مسٹر رمزفیلڈ کے جارحانہ انداز کی وجہ سے دارلحکومت میں ان کے ناقدین میں خاصہ اضافہ ہوا ہے اور جب وہ کانگریس کے کمیٹی کے سامنے پیش ہونگے تو ان کے ساتھ خاصی سختی برتی جا سکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر مسٹر رمزفیلڈ اس واقعے پر شرمساری کا اظہار نہ کر پائے تو انہیں خاصی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

مسٹر رمزفیلڈ کی کانگریس کے سامنے یہ پیشی ایک ایسے وقت پر ہورہی ہے جب ملک میں ایک تازہ سروے کے مطابق باسٹھ فیصد امریکی موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد