امریکی فوجیوں کی سرزنش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے چھ فوجی اہلکاروں کو عراقی جنگی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی پر سخت سرزنش کی ہے۔ امریکی فوج میں یہ سخت ترین تحریری کارروائی کہلاتی ہے۔ اتحادی فوج کے ذرائع کے مطابق اس سے ان فوجیوں کے فوج سے ہٹائے جانے کا راستہ صاف ہوجائے گا۔ ان کے علاوہ دیگر چھ امریکی فوجیوں کے خلاف ایک اور تفتیش جاری ہے۔ تقریباً بیس عراقی جنگی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا یہ واقعہ بغداد کی بدنام جیل ابو غریب میں گزشتہ برس نومبر اور دسمبر میں پیش آیا۔ اس سلسلے میں تحقیقات تو جنوری ہی سے شروع کردی گئی تھیں تاہم اس کی تفصیلات گزشتہ ہفتے منظر عام پر آئیں جب ایک امریکی ٹی وی چینل نے عراقی قیدیوں کو مظالم کا نشانہ بنتے دکھایا۔ اس کے بعد یہ خبر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں آئی۔ ابو غریب جیل میں مزید چھ فوجیوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ ایک اور پیش رفت میں یوں معلوم ہو رہا ہے کہ عراقی فوجیوں کی بریگیڈ کو کمانڈ کرنے کے لئے نیا کمانڈر تعینات کیا جا رہا ہے۔ یہ فلوجہ میں امریکی مرینز کی جگہ سنبھالے گا۔ محمد لطیف عراق کی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں کرنل رہ چکے ہیں جنہیں صدام حسن نے ملک بدر کردیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||