 |  چاروں حملہ آور تھیمز لنک ٹرین کے ذریعے لندن کے کنگ کراس سٹیشن پر پہنچے |
برطانوی تفتیش کاروں کے مطابق جمعرات کو لندن میں ہونے والے بم دھماکے خود کش حملے تھے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ چار حملہ آوروں میں سے تین پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے۔ برطانیہ کی انسداد دہشت گردی کی پولیس نے منگل کے روز لیڈز میں چھاپے مار کر ایک شخص کوگرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے لندن کے نواحی علاقے لوٹن میں ایک کار کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے بارے میں شبہ تھا کہ ان میں بارودی مواد پڑا ہوا تھا۔ چاروں حملہ آور تھیمز لنک ٹرین کے ذریعے لندن کے کنگ کراس سٹیشن پر پہنچے جہاں سے انہوں نے شہر کے مختلف حصوں میں پھیل کر دھماکے کیے جن میں باون لوگ ہلاک اور سات سو زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق نہ صرف برطانیہ میں بلکہ مغربی یورپ میں یہ پہلے خود کش حملے ہیں۔ اس سے پہلے برطانوی شہری خود کش حملوں میں ملوث رہے ہیں لیکن برطانیہ میں یہ اپنی نوعیت پہلی کارروائی ہے۔ ان تمام خبروں پر آپ کا کیا رد عمل ہے؟ برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ خود برطانیہ میں عام برطانوی مسلمانوں کے خلاف کس طرح کا اور کتنا رد عمل ہو سکتا ہے؟ اور مسلم کمیونٹی کو برطانیہ میں انتہا پسندی روکنے کے لیے کس طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے؟ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو ہمارا نمبر ہے: 00447786202200 اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
جاوید اقبال ملک، چکوال: یقینی طور پر یہ ایک انتہائی افسوسناک صورتحال ہے اور اس پر دل بہت اداس ہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد پوری دنیا کی صورت حال مکمل طور پر چینج ہوچکی ہے، انگلینڈ کو اس سے پہلے ورلڈ کا محفوظ ترین کنٹری تصور کیا جاتا تھا، مگر اب تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ عثمان اکرم، لاہور: ایسا لگتا ہے کہ سوسائیڈ ٹیرورسٹ کے لئے دنیا کا کوئی کونا محفوظ نہیں ہے، وہ جہاں چاہیں جاسکتے ہیں، بس یہ ایکسٹریمِسٹ تمام مسلمانوں کو ڈبوئیں گے۔ عبداللہ لغاری، دبئی: لندن میں ہونے والے سات بم بلاسٹ میں پچاس سے زیادہ لوگ مارے گئے اور اب صرف چار ملزمان کی نشان دہی کی گئی ہے اور وہ بھی پاکستانی نژاد برطانوی سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہے کہ آیا وہ لوگ مجرم ہیں بھی کہ نہیں۔ قمر جاوید، فیصل آباد: یہ پاکستان کے خلاف کوئی نئی چال ہے۔ دنیا میں کیا ہم پاکستانی رہ گئے ہیں دہشت گردی کے لئے؟ یہ صلیبی جنگوں کا آغاز ہے۔ مسلمانوں کے خلاف کارروائی ہے، سازش ہے۔ اقبال درویش سندھی، سندھ: ہم سندھی اور بلوچی جانتے ہیں کہ یہ آئی ایس آئی کی کارروائی ہے مغرب کے خلاف۔ مغرب اور آئی ایس آئی، طالبان اور القاعدہ ایک دوسرے کے خلاف لڑرہے ہیں ڈِکٹیٹر ضیاء کی موت کے وقت سے۔ اب صرف دو ہی سوپر پاور ہیں: امریکہ اور پاکستان۔ دونوں بظاہر ’دوست‘ ہیں ایک دوسرے کے لئے لیکن حقیقت میں دونوں ایک دوسرے کے خلاف لڑرہے ہیں۔ محمد احمد، لاہور: یہ یقینا ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا کہ بےگناہ لوگ مارے گئے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: ان تمام خبروں پر پہلا ردعمل تو یہی ہے کہ ظاہر ہے کہ دہشت گردی کوئی اچھی چیز تو ہے نہیں کہ ہم اس سے خوش ہوں، ظاہر ہے قابل مذمت بات ہے۔ لیکن اس وقت دکھ صرف اس بات پر ہے کہ سب انسان ایک سے ہی ہوتے ہیں، لہو کا رنگ بھی ایک ہی ہوتا ہے تو ہم سب میں یہ تفریق کیوں؟ عطا حق، امریکہ: میری عمر ستاسی سال سے اوپر ہے، میں پاکستان سے چار بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ آیا۔ مجھے اس واقعے پر کافی صدمہ پہنچا ہے۔ محمد فیصل جمال، چکوال: یہ انسانیت کے لئے کافی صدمے کی بات ہے۔ یہ اتنی ہی مذمت کی بات ہے جتنا امریکی اور برطانوی فوجوں کی عراق، کشمیر اور دوسرے ممالک میں ہے۔ جب بھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی اس طرح کے واقعے ہوں گے۔ پہلے آپ مسلمان کے خلاف ناانصافی کا خاتمہ کریں۔ علی ساجد رضوی، لاس اینجلس: بڑے شرم کی بات ہے کہ مسلمان ہوتے ہوئے ہم کہیں بھی محفوظ نہیں، چاہے وہ اپنا ملک ہو یا یورپ یا امریکہ۔ محمد ناظر، ہڈرسفیلڈ، انگلینڈ: یہ جو کچھ بھی ہوا ہے انتہائی غلط ہوا ہے۔ اسلام شدید مذمت کرتا ہے ایسے واقعات کی۔ ہم سب برطانوی مسلمان حکومت کو اپنے ٹاؤن کا یقین دلاتے ہیں۔ میری تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح پرورش کریں اور ان کے سامنے اپنا بہترین کردار اور اخلاق پیش کریں۔ وسیم رفیع، لاہور: وجہ کچھ بھی ہو لیکن اسلام میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ کسی بےگناہ کی جان لی جائے۔ یہ سب جہاد نہیں ہے بلکہ فساد ہے۔ اور جو لوگ ان میں مارے گئے ہیں وہ مسلم نہ صحیح کسی ماں کے بچے تھے، کسی کے بہن بھائی تھے اور کسی کے ماں باپ تھے، ان کا خون ان جھوٹا جہاد کرنے والوں کی گردن پر ہوگا۔ محمد جمیل، دبئی: ناانصافی اس طرح کے واقعات کو جنم دیتی ہے اور جب تک اصل وجہ دور نہیں ہوگی اس طرح ہوتا رہے گا۔ کچھ بھی ہو مارے بےگناہ لوگ جاتے ہیں۔ عاطف بٹ، بارسلونا: جو کچھ بھی ہوا اچھا نہیں ہوا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی ذمہ دار برِٹش گورنمنٹ بھی ہے۔ اور عراق اور افغانستان اور کشمیر اور فلسطین میں اتنے لوگ روزانہ مر رہے ہیں وہ بھی تو بےگناہ ہیں۔ پھر ان کو بچانے کے لئے اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے ہیں؟ یہ قدرت کا قانون ہے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ یہ کوئی انوکھا کام نہیں ہوا۔ سیف اللہ، امریکہ: مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ بمبار اپنی آئڈینٹیٹی کارڈ جیب میں کیوں رکھ ہوئے تھے۔ یہ کنسپائریسی لگتی ہے۔ عمر صدوزئی، ڈی آئی خان: میرے خیال میں یہ ایک ماسٹرمائنڈ کا کام ہے جو چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو یورپ سے ایکسپیل کردیا جائے۔ اس طرح کی کارروائی کسی بھی حال میں مسلمانوں کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔ اس کا فائدہ صرف مسلمانوں کے دشمنوں کو ہے۔۔۔۔۔ صمد علی، امریکہ: جس نے یہ سب کچھ کیا ہے اس کے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی ہوگی۔ تم یہ سب کرکے سیدھا جنت میں جاؤگے۔ عبدالحنان چودھری، فیصل آباد: کیا ورلڈ میں سارے کے سارے دہشت گرد مسلمان ہیں؟ کوئی شخص ویسے اپنی جان کی بازی نہیں لگادیتا، بالخصوص برطانیہ میں۔ اس کے پیچھے کچھ اسباب ہوتے ہیں اور آپ اور میں ایسے کیوں نہیں کرتے؟ امین اللہ شاہ، پاکستان: پٹھو حکمرانوں کی بدولت دنیا کے تمام مسلمانوں کی اس وقت حیثیت گھڑے والی مچھلی سے زیادہ نہیں، جب چاہے امریکہ، برطانیہ، اسرائیل نوالہ بنالیں۔۔۔۔ شاد خان، ہانگ کانگ: لندن دھماکوں کے بعد مسٹر ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ہم بدل جائیں لیکن وہ نہیں بدلیں گے۔ خالد، آسٹریلیا: دہشت گردی جہاں بھی ہو قابل مذمت ہے۔ بے گناہ انسانوں کا خون بہانا کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔ لیکن اس سب کی وجہ مغرب کا دوہرا معیار ہے۔ جب تک ناانصافیاں ہوتی رہیں گی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مغرب والے پازٹو سوچ کے ساتھ مسائل کے حل کی کوشش کریں نہ کہ مزید ناانصافیاں ہوں۔ انصاف شیخ، ممبئی: جی نہیں برطانیہ کے مسلمان جاہل نہیں، یہ سب جانتے ہیں۔ یہ سب حکومت کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے۔ یہ عراق میں جنگ کا نتیجہ ہے۔ میں حملوں کی حمایت نہیں کر رہا ہوں مگر انصاف کی بات کہہ رہا ہوں۔ جعفر صدیق مومن، امریکہ: میری نظر میں حملے کرنے والے انسان نہیں بلکہ جانوی سے بھی بدتر ہیں۔ یہ لوگ اسلام کے نام پر حملے کرتے ہیں جبکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ سید رحمان، کینیڈا: یہ تو نیوٹن کا تیسرا قانون ہے۔۔ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے۔۔اور کیا امید کی جا سکتی ہے؟ شفیع علی، ٹوکیو، جاپان: بے گناہ لوگ جہاں بھی مارے جائیں، وہ قابل مذمت ہے۔ افغانستان، عراق، بوسنیا، کشمیر، چیچنیا، سب جگہ بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ لیکن اس حادثے کے بعد برطانیہ میں رہنے والے زیادہ تر بےحس مسلمان بیدار ہوں گے اور برطانوی حکومت بھی اپنے دوہرے معیاروں پر ضرور نظر ڈالے گی۔ احمد معین، برازیل: یہ انسانیت کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ ایسے لوگوں کا انسانیت کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ عمران جلالی، سعودی عرب: آج کل جو حالات ہیں ان میں تو الزامات کا سلسلہ کچھ یوں ہوتا ہے : نمبر ایک - ذمہ دار القاعدہ، نمبر دو - مسلمان بنیاد پرست خود کش لوگ ملوث۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومت یہ کیوں نہیں سوچتی کہ دہشت گردی کی وجہ کیا ہے؟ انسان چاہے خودکش حملے میں اپنے آپ کوہلاک کر ڈالے یا دوسرے کو مار ڈالے، مرنے اور مارنے کا شوق لے کر کوئی پیدا نہیں ہوتا۔ ابو عمر، دبئی: ریاستی دہشت گردی انفرادی دہشت گردی کو جنم دیتی ہے۔ کیا عراق، فلسطین اور افغانستان میں مرنے والوں کے خون سے امریکی اور برطانوی عوام کے بھی ہاتھ رنگے ہوئے نہیں ہیں؟ اظفر خان، کینیڈا: میں کافی وقت سے مغرب میں رہتا ہوں۔ میرا یہاں رہنا اس بات کی عکاسی ہے کہ یہاں کا معاشرہ مجھے اچھا لگتا ہے۔ اس لیے اس معاشرے کی تباہی کا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہاں کی اچھائیوں میں قانون کی حکمرانی سب سے اہم ہے۔ تعصب اور برے لوگ تو ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ اسد فاروقی، کینیڈا: خودکش حملوں میں پاکستانیوں کا شامل ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے لیکن اس چیز کو پاکستانی معاشرے سے ختم کرنا ہوگا اور مسجد، امام بارگاہ صرف نماز اور مجلس حسین کے لیے استعمال کی جانی چاہیئے، کوئی تعلیمی مدارس نہیں ہونے چاہیئے۔ سادیہ سید، پیرس، فرانس: یہ اچھا نہیں ہوا۔ اس سے یورپ میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ ہمیں اپنے بچوں کو صحیح تربیت دینی ہوگی۔ عالم گیر بیگ، سویڈن: ان گرفتاریوں کے بعد پوری دنیا میں پاکستانیوں کا امیج مزید خراب ہو گا۔ یہ انتہا پسند سب مسلمانوں کو یورپ سے نکلوا کر ہی دم لیں گے۔ ان لوگوں کو برطانیہ سے نکال دین، خود ہی امن ہو جائے گا۔ بابر خان، راولپنڈی، پاکستان: جب تک امریکہ اور برطانیہ ان وجوہات کو ختم نہیں کرتے، جن کی وجہ سے کوئی شخص اپنی زندگی داو پر لگا دیتا ہے۔ اس وقت تک ایسے حملے نہیں رک سکتے۔ اپنی زندگی کس کو پیاری نہیں ہوتی؟ سجاد احمد، قطر: ٹونی بلیئر اور جارج بش اگر واقعی انسانیت کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں تو وہ یقیناً اپنی دہشت گردی اب بند کر دیں گے جسے انہوں نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا نام دے رکھا ہے۔ انگریز قوم کی عسکریت واقعی سمجھدار ہوتی ہے اس لیے برطانوی مسلمانوں کے خلاف غیر انسانی شدت پسندی کی امید نہیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ قوم کی غیرت کے نام پر کچھ لوگ کوئی غیر انسانی حرکت کریں۔۔۔ عاصف سلیم مٹھا، برطانیہ: ان دھماکوں میں صاف صاف لگتا ہے کہ کسی مسلم دشمن کی سازش ہے اور برطانوی پولیس کمشنر کا پہلے ہی بیان آ گیا تھا کہ لوکل برطانوی ہو سکتے ہیں بلکہ ان کا بیان سو فیصد لوکل مسلمانوں پر تھا۔ ان کو یہ ثبوت عوام کو دکھانے چاہیئے اور مسلمان ممبران پارلیمان کو خود انکوائیری بورڈ میں شامل ہونا چاہیئے۔ محمد حمید الحق، کراچی، پاکستان: اس طرح کے حملے سے کسی بھی مذہب یا فرقے کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف وہ ہی کر سکتا ہے جس کا ضمیر مر گیا ہو۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔ نہ یہ جہاد ہے نہ شہادت۔ غلام فرید شیخ، سندھ، پاکستان: ایک تو یہ امریکی ظلم پر رد عمل ہے جو مسلمانوں پر ہو رہا ہے۔ میں تو پوری دنیا سے یہی کہوں گا کہ اب یہ خون کی ہولی بند ہونی چاہیئے۔ |