BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 06 May, 2005, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹونی بلیئر کی تیسری جیت: آپ کیا کہتے ہیں؟
ٹونی بلیئر کئی ایک خلاف جنگ امیدواروں کے جیتنے کے باوجود انتخابات جیت چکے ہیں۔
ٹونی بلیئر کئی ایک خلاف جنگ امیدواروں کے جیتنے کے باوجود انتخابات جیت چکے ہیں۔
برطانیہ میں ٹونی بلیئر کی لیبر پارٹی تیسری بار بھی انتخابات جیت گئی ہے۔ تاہم ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ اسے کافی کم نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
ٹونی بلیئر نے کہا کہ وہ اس بار ’دانشمندانہ رویہ‘ اپنائیں گے۔

حکومت بنانے کے لیے لیبرپارٹی کوایوان زیریں کی 646 نشستوں میں 324 درکار تھیں اور وہاب تک353 نشستیں حاصل کر چکی ہے۔ یوں لیبر پارٹی مسسل تیسری مرتبہ برطانیہ میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔

خارجہ پالیسی کے لحاظ سے ٹونی بلیئر کوعراق پر حملے میں امریکہ کا ساتھ دینے پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔انتخابی مہم کے دوران وہ کہتے رہے ہیں کہ انہیں اس سلسلہ میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے کیونکہ عراق کو صدام حسین کی آمریت سے نجات دلانا ایک اچھا قدم تھا۔

ٹونی بلئیر نےکہا کہ انتخابی مہم کے دوران عراقی جنگ ایک اہم اور فیصلہ کن موضوع تھا اور یہ بھی مانا کہ لیبر پارٹی کو اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔
اس کے علاوہ ٹونی بلیئر نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی تقسیم کو ختم کرنےاور مختلف خیالات رکھنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش بھی کریں گے۔

عراق میں جنگ کے علاوہ برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت، امیگریشن، دہشت گردی کے خلاف قانون سازی، صحت اور تعلیم،ان انتخابات میں اہم ایشوز رہے ہیں۔

آپ کے خیال میں آئندہ مدت حکومت میں لیبر پارٹی کی خارجہ اور داخلہ پالیسی میں کوئی تبدیلی ہوگی؟ کیا برطانیہ عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گا؟ کیا ٹونی بلیئرلیبر پارٹی سے ناراض لوگوں کو واپس لا نے میں کامیاب ہوں گے؟ آپ کے خیال میں نئی حکومت کی ترجیحات کیا ہونا چاہئیں؟ آپ ٹونی بلیئر کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتخاب یہاں دیا جاتا ہے۔


عبدا لسلام، تیمارگرہ، پاکستان:
لوگوں نے دوبارہ لیبر پارٹی کو اس وجہ سے منتخب کیاہے کہ برطانیہ کی دوسری جماعتیں امیگریشن کے خلاف ہیں۔ یہ جماعتیں غیر ملکیوں کو برطانیہ سے نکالنا چاہتی ہیں۔ ان انتخابات میں برطانیہ میں غیر برطانوی لوگوں نے خاصہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ بلیئر اب مقبول نہیں رہے لیکن ان کی لیبر پارٹی کی پالیسیاں اچھی ہیں۔

عبد المجید، اسلام آْباد:
گو کہ اس دفعہ ٹونی بلیئر نے دانشمندانہ رویہ اپنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن سیاستدانوں کا کہنا اور کرنا دو مختلف باتیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کرنا وہی ہے جو ان کے بڑے آقا بُش صاحب کریں گے۔

محمد اعجاز کلیم گجر، فیصل آباد:
ٹونی بلیئر تین تو کیا تیس مرتبہ بھی منتخب ہو جائیں ان کی پالیسیاں نہیں بدلیں گی۔

عمران بھٹ، لندن، پاکستان:
میرا خیال ہے کہ لیبر کو جو کم اکثریت ملی ہے ٹونی بلیئر کی وجہ سے ملی ہے لیکن اس میں ایک کمزور اپوزیشن کا بھی حصہ ہے۔اس فتح میں گورڈن براؤن کا بھی خاصہ حصہ ہے کیونکہ ٹونی بلیئ اپنی پارٹی کے لیے ایک اثاثہ کی بجائے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔

علی حیدری، ٹورانٹو:
لو جی۔۔۔مشرف صاحب مزید پانچ سال کے لیے صدر ہو گئے۔

ریاض فاروقی، دبئی:
ہم میں اور ان میں فرق ہی یہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں، انشاءاللہ ٹونی بلیئر بھی اپنی غلطیوں سے سیکھیں گے۔برطانیہ کا جمہوری نظام صدیوں پرانا ہے اور وہاں کے لوگ خاصے میچیور ہیں، وہ جذباتی نہیں ہیں۔

عبیداللہ عبید،لاہور:
ٹونی بلیئر کو چاہیے کہ اب نوشتہ دیوار پڑھیں اور امریکہ کی اندھادھند حمایت نہ کریں۔ امریکہ کی خاطر مسلمانوں کو اپنا دشمن بنارہے ہیں۔ٹونی بلیئر یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ اگر کچھ مسلمان امریکہ کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ امریکی عمل کا رد عمل ہے۔

جبران حسنین، کراچی:
ضروری نہیں کہ جیسا ہم پاکستانی سوچتے ہیں انگریز بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔ ووٹ ڈالنا برطانوی عوام کا حق تھا، ان کی مرضی جس کو چاہیں منتخب کریں۔ کئی لوگوں کے خیالات بدلے ہیں اور انہوں نے لیبر پارٹی کے خلاف ووٹ دیے ہیں، یعنی برطانیہ میں تبدیلی آرہی ہے آہستہ آہستہ۔

راجہ یونس، دمام، سعودی عرب:
میرا خیال ہے کہ ٹونی بلیئر کو ایک اور موقع ملا ہے کہ وہ برصغیر میں ہونے والی ناانصافی کا مداوا کریں اور اپنی پوری کوشش کر کے کشمیر کا دیرینہ مسئلہ حل کریں۔اس وقت پاکستان میں ان کی حامی حکومت ہے۔اگر ٹونی بلیئر یہ کام کردیں تو ان کا وقار بلند ہوگا اور وہ ایک عظیم رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کا یہ اچھا وقت ہے کیونکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار نبھایا ہے۔

ایم امین، کینیڈا:
میں امید کرتا ہوں کہ اب برطانیہ بھی گرین کارڈ دینا شروع کر دے گا اور تمام ان لوگوں کو جنہوں نے برطانیہ سے تعلیم حاصل کی ہے ان کو ایسے کارڈ دیے جائیں۔

فراز قریشی، کراچی:
میری گزارش ہے کہ ٹونی بلیئر اپنی موجودہ سٹوڈنٹ ویزا پالیسی کو جاری رکھیں، روٹی کپڑا اور مکان عام کریں اور جو کوئی عراق جنگ کی حمایت نہ کرے اس کو برطانیہ سے نکال دیں۔

غلام نبی چاچڑ، سکھر:
اگر مسٹر بلیئر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ عراق سے برطانوی فوجیں فورًا واپس بلا لیں۔ دوسرا یہ کہ وہ فیصلہ کرتے وقت اپنےذہن سے کام لیں نہ کہ جارج بُش کی پیروی کریں۔ تیسرا یہ کہ اگر وہ لیبر پارٹی چھوڑنے والے لوگوں کو واپس لانا چاہتے ہیں تو انہیں کامیابی ہو سکتی ہے اگر وہ اس میں واقعی سنجیدہ ہیں۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
جب بڑے بھائی صاحب، یعنی بُش صاحب جیت گئے تو ٹونی بلیئر کیسےہار سکتے تھے کیونکہ دونوں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ ان دونوں کو یہی کہوں گی کہ اتنا ہی کرو جتنا کل برداشت کر سکو۔ کاش یہ دونوں سمجھ سکیں کہ مظلوم کا خون کبھی رائیگان نہیں جاتا۔

شفاعت خان:
جنگ کی حمایت کرکے اور اس میں حصہ لے کر برطانیہ اپنی عزمت کھو چکا ہے کیونکہ یہ جنگ غیر قانونی تھی۔ چونکہ برطانیہ کی اپنی کوئی آزاد خارجہ پالیسی نہیں ہے اس لیے وہ امریکہ کی پیروی کرتا ہے۔ بہرحال ٹونی بلیئر کو مبارکباد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اس مرتبہ حکمت سے کام لیں گے۔

ساجل احمد، نویڈا، امریکہ:
کوئی بھی آتا فرق نہیں پڑنے والا۔

زیاداحمد، کراچی:
میرے لیے تو یہ اچھی خبر ہے۔ بطور طالبعلم میں لیبر پارٹی کی پالیسیوں کو سراہتا ہوں کیونکہ ان کی حکومت کے دوران پاکستان کو سٹوڈنٹ ویزا میں خاصی سہولتیں دی گئی ہیں۔

اللہ ہدایت دے
 ہیں۔اللہ پاک ٹونی بلیئر کو ہدایت دے اور وہ ایسے فیصلے کرنے سے گریز کریں جن سے انسانیت کا نقصان ہو۔
غلام فرید شیخ،گمبت
غلام فرید شیخ، گمبت، پاکستان:
امریکہ کی طرح برطانیہ میں بھی وہی لوگ کامیاب ہوئے جو عراق، افغانستان اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کے حامی ہیں ، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں سے زیادہ انتہاپسند غیر مسلم ہیں۔ ہم تو مفت میں بدنام ہیں۔اللہ پاک ٹونی بلیئر کو ہدایت دے اور وہ ایسے فیصلے کرنے سے گریز کریں جن سے انسانیت کا نقصان ہو۔

امتیاز محمود، برطانیہ:
کم اکثریت کی وجہ سے ٹونی بلیئر اٹھارہ مہینے سے زیادہ حکلومت نہیں کر سکیں گے اور پھر گورڈن براؤن وزیر اعظم بن جائیں گے جو کہ معیشت کے لیے اچھا ہوگا۔ میرے خیال میں برطانیہ، شام اور ایران کے خلاف کسی مہم جوئی کا حصہ نہیں بنے گا۔

سریر خالد، سری نگر:
ٹونی بلیئر کی جیت دراصل بُش کی جیت ہے، اس لیے یہ دنیا کی بھلائی میں نہیں ہے۔ لیکن ٹونی بلیئر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ صحیح اقدامات کریں گے، اس لیے ہمیں ان سے اچھے کی امید کرنی چاہیے۔اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کریں گے۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تیسری بار جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی پالیسیاں ٹھیک تھیں۔ میری دعا ہے کہ وہ حکمت سے کام لیں۔

سکندر بلوچ، بنکاک، تھائی لینڈ:
پاکستان، انڈیا یا دوسرے ایشیائی ملکوں میں جو پارٹی بھی ایک دفعہ اقتدار میں آتی ہے دوسری بار اقتدار سے محروم ہوجاتی ہے لیکن مغرب میں ایسا نہیں ہوتا۔ میرا خیال ہے مغرب میں لوگ ووٹ دیتے وقت اپنے مفادات دیکھتے ہیں۔

اصغر خان، برلن، جرمنی:
میں ٹونی بلیئر کو مبارکباد دیتاہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ یورپ میں غیر قانونی طور پر آنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کریں گے۔

ایک مشورہ
 ٹونی بھائی یہ کیا بات ہوئی۔ پاکستان میں ہوتے تو الیکشن سے پہلے ہی آپ کو دوتہائی اکثریت مل جاتی۔
چاند بٹ، جرمنی
چاند بٹ، جرمنی:
ٹونی بھائی یہ کیا بات ہوئی۔ پاکستان میں ہوتے تو الیکشن سے پہلے ہی آپ کو دوتہائی اکثریت مل جاتی۔

شاہد امین، لندن:
میں ٹونی بلیئر کو دلی مبارکباد دیتا ہوں۔

نعمان سرور، ملتان:
اس سے ایک بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ گورے امریکی ہوں یا برطانوی انہیں مسلمانوں سے کوئی غرض نہیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
میرا خیال ہے مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان میڈیا نے پہنچایا ہے اور مسلمانوں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ غیر مسلمانوں کا مقابلہ کر سکیں۔ برطانیہ تو امریکہ کی ’بی ٹیم‘ بن چکا ہے۔اب اسے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی اور امریکہ کی ہر جائز، ناجائز بات پر یس سر سے پرہیز کرنا ہوگا۔

عمران، امریکہ:
اگر گورے سب کچھ دیکھ کر بھی ٹونی بلیئر اور بُش کو جتاتے ہیں تو پھر ان کو حیرت کیوں ہوتی ہے جب مشرق وسطٰی میں لوگ انتہاپسندوں کی حمایت کرتے ہیں؟

وصیت خان، ٹوکیو، جاپان:
میں ٹونی بلیئر صاحب کو مبارکباد دیاتا ہوں اور مشورہ یہ کہ اب انسانوں کی دعائیں لے لیں۔ ٹونی صاحب کو چاہیے کہ وہ بُش جیسے نہ بنیں جو دوسروں کا حق چھین رہے ہیں۔ تاریخی طور تو انگریز ظلم کے خلاف رہے ہیں۔

اے شاہ، میانوالی، پاکستان:
کوئی جتنی بار بھی جیتے مسلمانوں کے لیے مخلص نہیں ہو سکتا۔ ٹونی بلیئر کو یہی مشورہ دوں گا کہ انسان کش پالیسی کی بجائے انسان دوست پالیسی اپنائیں۔

راحت ملک، راولپنڈی، پاکستان:
وہ کہتے ہیں ناں کہ ہر آنے والا جانے والے سے زیادہ سخت ہوتا ہے لیکن مبارک تو دینا پڑی گی ان دو افراد کو، یعنی ٹونی بلیئر اور جارج بُش کو۔ شاید خیال آ جائے ان کو افغانستان اور عراق میں جانیں نہ ضائع کرنے کا۔ لیکن لگتا ہے آپ چھاپیں گے نہیں۔

بہتر ہوتا اگر۔۔
بہتر تو یہی ہوتا کہ امریکی اور برطانوی عوام ان دونوں کو مسترد کر دیتے کہ انہوں نے عراق میں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا ہے۔
شہزاد احمد، سعودی عرب
شہزاد احمد، سعودی عرب:
مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ایک طرف تو برٹش اور امریکی لوگ ٹونی بلییر اور صدر بُش کی اتنی مخالفت کرتے ہیں کہ دنیا سمجھتی ہے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں کہ سچ کی خاطر وہ اپنے ہی لیڈروں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور دوسری طرف ان دونوں لیڈروں کو اپنے اپنے ملک کے سربراہ منتخب کرتے ہیں۔ بہتر تو یہی ہوتا کہ امریکی اور برطانوی عوام ان دونوں کو مسترد کر دیتے کہ انہوں نے عراق میں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا ہے۔ مجھے پتا نہیں آپ میری رائے شائع کریں گے بھی یا نہیں؟

تنویر نور، پاکستان:
بہت مبارک ہو آپ کو ٹونی بلیئر۔

محمد ابراہیم، لاہور، پاکستان:
میرا خیال ہے یہ بہت اچھا ہوا ہے کیونکہ کنزرویٹو پارٹی کی پالیسی زیادہ سخت ہے۔ وہ لوگ امیگریشن کے بھی خلاف ہیں اور انہوں نے عراق جنگ کی بھی حمایت کی تھی۔ لیبر کے کئی ارکان نے جنگ کی قراردار کی مخالفت کی تھی۔ ٹونی بلیئر جب پاکستان آئے تھےتو انہوں نے پاکستا اور برطانیہ کے درمیان اچھے تعلقات پرزور دیا تھا۔ لیکن مجھے پاکستان میں غیر جہوری حکومت پسند نہیں ہے، برطانیہ کو چاہیے کہ وہ مشرف حکومت کی حمایت نہ کرے۔

عمران حمید، امریکہ:
کوئی بھی حکومت آئے مسلمانوں کے لیے برابر ہے۔ جب تک ہم خود اپنے حالات ٹھیک نہیں کرتے، برطانیہ، فرانس یا امریکہ کی حکومتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ سچ ہے کہ ٹونی بلیئر نے بُش کو اقوام متحدہ میں جانے کا مشورہ دیا تھا ورنہ امریکہ تو ہر ملک پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔

گل انقلابی، دادو، پاکستان:
میں ٹونی بلئیر کو مشورہ دوں گا کہ وہ جنرل مشرف کی حکومت سے پاکستان کو بچائیں کیونکہ مشرف صاحب مغرب کے ساتھ دوغلی پالیسی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اسامہ بن لادن کو چھپا رکھا ہے اور بُش اور بلیئر کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔ اگر صدام حسین نے کردوں کا مارا ہے تو صدر مشرف نے بلوچی، پختون اور سندھی عوام کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں۔

سامراج کی فتح
 ٹونی بلیئر کی کامیابی دراصل امریکی سامراج کی کامیابی ہے اور جہوریت پسند، انسان نواز طاقتوں کی شکست ہے اور ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
زبیر احمد فاروقی، انڈیا

نانا بھائی، کینیڈا:
اس سے برطانوی عوام کی ’ذہانت‘ کا اندازہ ہوتا ہے یا شاید ماضی کی طرح برطانیہ باقی دنیا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ دنیا کو مزید خون خرابے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

شاہزیب خان، ایتھنز، یونان:
جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

زبیر احمد فاروقی، فہیم آباد، کانپور، انڈیا:
ٹونی بلیئر کی کامیابی دراصل امریکی سامراج کی کامیابی ہے اور جہوریت پسند، انسان نواز طاقتوں کی شکست ہے اور ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

علی کے سی، برمنگھم، برطانیہ:
ٹونی بلیئر نے وہی کیا جو کہ کوئی بھی برطانوی وزیر اعظم کرتا کیونکہ یہ برطانیہ کے مفاد میں تھا، امریکہ نے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کا ساتھ جو دیا تھا۔

اس دفعہ پاکستانی کمیونٹی نے انتخابات میں جوش وخروش کے ساتھ حصہ لیا ہے جو ان کے مستقبل کے لیے بہت اچھی علامت ہے۔ پاکستانیوں نے لیبر کو ووٹ اس وجہ سے دیا کہ امیگریشن کے بارے میں لیبر کی پالیسی نرم ہے۔

66آپ کی رائے
ابوغریب: امریکی فوجی قیادت بری
66آپ کی رائے
عراق کا مستقبل کیا ہے؟ امن یا مزید تشدد؟
66آپ کی رائے
کیا اہلِ کتاب کے ملک اسرائیل کو تسلیم کریں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد