دھماکے لندن میں، تذکرے میرپور میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں بم دھماکوں کے چار حملہ آوروں میں تین پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کانام سامنے آنے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لوگ برطانیہ میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے بارے میں فکرمند ہیں اور بہت سارے لوگوں کو یہ خدشہ ہے کہ اس کا رد عمل ہوسکتا ہے ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد سے دو سو ستر کلومیڑ جنوب اور پاکستان کے شہر جہلم سے پچاس کلومیڑ دور شہر میرپور میں ان دنوں گھروں ، ہوٹلوں ، ریستورانوں اور دکانوں پر لندن میں ہونے دھماکوں اور اسکے بعد پیدا ہونے والی صورت حال موضوع بحث ہے ۔
ساٹھ کی دہائی میں میرپور کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے برطانیہ کا رخ کیا تھا جب میرپور میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے باعث پرانا میرپور ڈوب گیا تھا اور تقریباً اسی ہزار لوگ بے گھر ہوگئے تھے لیکن اس سے قبل بھی بہت سارے لوگ برطانیہ جاکر آباد ہوئے تھے ۔ برطانیہ میں ساڑھے سات لاکھ پاکستانی آباد ہیں جن میں چھ لاکھ کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور ان میں زیادہ تر میرپور سے ہیں ۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ لندن بم دھماکوں سے برطانیہ میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان دوریاں بڑھ سکتی ہیں۔ ملک کشمیر ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹں عبدالمجید کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے خواہش مند
مسڑ ملک جن کے بہت سارے عزیز برطانیہ میں مقیم کا کہنا ہے کہ ’ برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کا کاروبار بھی متاثر ہوگا کیوں کہ وہاں پر مقیم کشمیری گوروں( سفید فام برطانوی) کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں لیکن اب ان کو اس واقعہ کے بعد شک کی نظر سے دیکھا جائے گا اور وہ یہ شک کی نطر ہمارے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرے گی اور اس یوں ہمارے کمیونیٹی اقتصادی ، تعلیمی اور تہذیبی طور پر پسماندگی کا شکار ہوں گے ۔ میرپور میں لوگ کئی لوگ برطانیہ کے قانونی نطام کی تعریف کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے ہوتے ہوئے برطانیہ میں ان کے حقوق کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ میرپور سے تعلق رکھنے والے ریاض انقلابی جو پیشے سے وکیل ہیں کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ برطانیہ میں عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی نظام اتنا مظبوط ہے اور مستحکم ہے کہ کوئی بھی برطانوی حکومت خواہ ٹونی بلئیر کی ہو یا کسی اور کی حکومت ہو، بے گناہ لوگوں کی پکڑ دھکڑ نہیں کریں گے۔ ریاض انقلابی کے بھی بہت سارے عزیز برطانیہ میں مقیم ہیں کا کہنا ہے کہ ’ ہم توقع کرتے ہیں کہ برطانیہ میں لوگوں پر بغیر ثبوت کے کسی پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور نہ ہی بلاوجہ ان کی پکڑ دھکڑ ہوگی اور اگر ایسا کیا گیا تو وہاں عدالتیں موجود ہیں ۔وہاں ایگزیکٹیو نہیں بلکہ عدلیہ مظبوط ہے‘ ۔ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے یہ تو کسی کو معلوم نہیں لیکن برطانیہ میں مقیم کشمیری کہتے ہیں کہ برطانیہ اب بھی ان کا وطن ہے جہاں وہ کئی نسلوں سے آباد ہیں ترک وطن نہیں کریں گے ۔
کشمیری نژاد برطانوی شہری ناصر عزیز جرال اٹھائیس سال سے لندن میں مقیم ہیں وہ سن 1977 میرپور سے برطانیہ گئے تھے اور آج کل وہ اپنے آبائی قصبے میرپور چھٹیاں گذارنے آئے ہیں ۔ناصر عزیز جرال کا کہنا ہے کہ آج تک میں نے کوئی مجرمانہ حرکت نہیں کی ہے جو ہمارے ملک ( برطانیہ ) کے خلاف ہو قصور کوئی اور کرے اور میں بھاگوں اسکا مطلب ہے میں غلط ہوں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں ہمیں وہاں کھڑے ہوکر یہ کہنا چاہئے کہ جن لوگوں نے بم دھماکے کیے ہیں ان کو پکڑیں اور سزا دیں اس میں ہمارا کیا قصور ہے ۔ جرال کہتے ہیں کہ ’ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی برٹش ہوگا ۔ برطانیہ میرا ملک ہے ۔میں ادھر رہتا ہوں میں وہاں رہنا پسند کرتا ہوں اور میرے بچے وہاں رہنا پسند کرتے ہیں میں اور میرے بچے میرپور چھٹیاں گذارنے آتے ہیں۔ ’برطانیہ ہمارا گھر ہے ہمارا ملک ہے ۔ہم وہاں رہیں گے اور برطانیہ میں رہنا میرا حق ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ہمیں اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ میرپور میں لوگ لندن میں سلسلہ وار بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہیں اور برطانوی وزیراعظم وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ اس واقعہ کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے مسلمانوں پر نفرت پر مبنی حملوں کی بھی مذمت کی۔ نفرت پر مبنی حملوں کے بعض واقعات کے باعث میرپور میں لوگوں کو خدشات ہیں لیکن اگر برطانوی عوام رواداری اور تحمل کی قدیم روایت پر عمل کرتے رہے تو شاید برسوں سے موجود توازن اور افہام و تفہیم کی فضا کو اب برقرار رکھا جاسکے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||