BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیڈز کے ایشائیوں کی پریشانیاں

 لیڈز
لندن دھماکوں کے بعد لیڈز میں ہر طرف پولیس کے پہرے
لندن میں بم دھماکوں کے چار میں تین مبینہ حملہ آور لیڈز سے تھے اور تینوں ہی پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے۔ گو اب یہ کوئی نیا انکشاف نہیں رہا اور کم ازکم لیڈز کے مسلم ایشیائی مکین اب اس بات کو ایک تلخ حقیقیت کے طور پر تسلیم کررہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی آہستہ آہستہ اس بات کے وہ منفی پہلو سامنے آنا بھی شروع ہوگئے ہیں جو اب تک نسبتاً پس منظر میں تھے۔

لیڈز سٹی کونسل کے پاکستانی نژاد برطانوی رکن محمد رفیق کے بقول مستقبل میں اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے ضروری ہے کہ لیڈز میں آباد ایشیائی حضوصاً پاکستانی نژاد آبادی کے معاشی مسائل حل کیے جائیں اور تعلیمی اور روزگار کے میدانوں میں ان کی خصوصی مدد کی جائے تاکہ کوئی بھی آئندہ سادہ لوح نوجوانوں کو ورغلا نہ سکے۔

اگر ذرا گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو شاید لیڈز کی مسلم ایشیائی برادری کے دو اہم ترین مسائل بھی یہی ہیں اور مسلمانوں کو خدشہ یہ ہے کہ لیڈز اور لندن کے بم دھماکوں کے باہمی تعلق سے پیدا ہونے والا ردعمل ان مسائل کو مزید بڑھا دے گا۔

لیڈز اور بریڈفورڈ دونوں ہی شہروں میں پاکستانی نژاد مسلم برادری کے روزگار کے دو سب سے بڑے ذرائع فاسٹ فوڈ اور ایشیائی کھانوں کے ریستوران ہیں یا پھر ٹیکسی چلانا۔ دونوں میں ہی دیگر لسانی برادریوں کے ساتھ مستقل اور خوشگوار رابطہ کامیابی اور خوشحالی کی بنیادی شرائط ہیں۔

اس تناظر میں لیڈز پر اگر نظر ڈالی جائے تو صورتحال خاصی سنگین محسوس ہوتی ہے۔ عبدالشکور پچھلے بارہ برس سے لیڈز میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔ کہنے لگے کہ جب سے مبینہ حملہ آوروں کا تعلق لیڈز اور پاکستانی برادری سے پتہ چلا ہے، کام میں نمایاں فرق پڑا ہے۔ عبدالشکور برطانوی مسلمانوں کے اس طبقے سے ہیں جو بہتر معاشی مستقبل کی تلاش میں برطانیہ آئے تھے۔

لیڈز ٹاؤن سینٹر میں مجھے ستائیس سالہ عدیل مگوں ملے جو لیڈز میں پیدا ہوئے، پلے بڑھے اور یہیں تعلیم حاصل کی۔ گزشتہ تین برس سے وہ کوئی مستقل روزگار نہ ہونے کی بناء پر ٹیکسی چلا رہے ہیں۔

عدیل مگوں کا کہنا تھا کہ حالات شمالی انگلستان میں غیر سفید فام برطانوی برادریوں کے لیے پہلے ہی کوئی بہت زیادہ سازگار نہیں تھے اور مجموعی طور ملازمتیں نہ ہونے اور صنعتوں کے یورپ منتقل ہونے کی بناء پر سفید فام برطانوی باشندوں کے مقابلے میں ملازمتیں حاصل کرنا ایشیائیوں کے لیے پہلے دشوار تھا اب لیڈز کے نئے حالات کے بعد تو صورتحال بد سے بدتر ہوجائے گی۔

اسی ٹاؤن سینٹر میں کوچ سٹیشن کے نزدیک میری ملاقات ایک اور ٹیکسی ڈرائیور خادم حسین سے ہوئی جو بہتر مستقبل کی تلاش میں پچیس برس پہلے پاکستان سے ہجرت کرکے برطانیہ آئے تھے اور گزشتہ بیس برس سے لیڈز میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔

ان کو خدشہ ہے کہ تین مبینہ حملہ آوروں کا تعلق لیڈز اور پاکستانی برادری سے ہونے کی بناء پر ٹیکسی چلانے والوں کا کاروبار تو تباہ بھی ہوسکتا ہے۔ کہنے لگے ’ اب تو ہر گورا (سفید فام مقامی برطانوی باشندے) ہمیں شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور ہمیں دشمن سمجھتا ہے۔ پچھلے چار پانچ دن میں ہمارے کاروبار میں بہت فرق پڑا ہے اور اب گورے مسافر آسانی سے ایشیائیوں کی ٹیکسی میں نہیں بیٹھتے۔

میں اپنے ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ کھانے کے لیے شاہی نان کباب نام کے ایک ریستوران میں گیا۔اس کے مالک رضوان علی سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے دریافت کیا کہ کیا اندازہ ہے ، ان کے کاروبار پر حالات کی موجودہ شکل کا کیا اثر پڑے گا۔

رضوان علی کا خیال تھا کہ پچھلے چار پانچ دن میں ان کے گاہکوں میں پندرہ سے بیس فیصد کی کمی ہوئی ہے اور ان میں سے اکثریت مقامی برطانوی باشندوں کی ہے۔

لیکن لیڈز کے ایک اور ریستوران کے مالک چودھری نذیر احمد حالات سے بہت پریشان دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشیائی ریستورانوں کا کاروبار دراصل چلتا ہی مقامی سفید فام باشندوں کے ذریعے ہے کیونکہ وہ ایشیائی کھانے بہت پسند کرتے ہیں۔ ’اب دیکھیں ناں ایسے حالات میں تو وہ آسانی سے ہمارے پاس نہیں آنے کے۔ایک کھانے پر پچیس تیس پاؤنڈ تو وہی خرچ کرتے ہیں۔ اپنے ایشیائی تو تین چار پاؤنڈ کا ہی کھانا کھاتے ہیں‘۔

چودھری نذیر احمد حالات سے اتنے پریشان تھے کہ انہوں نے دیگر بہت سارے ایشیائی نژاد برطانویوں کی مانند گفتگو ریکارڈ کرانے یا اپنی دکان کی تصویر کھینچنے کی اجازت بھی دینے سے انکار کردیا۔

بریڈ فورڈ ایشیائی کھانوں کے بڑے بڑے ریستورانوں کا ایک معروف مرکز ہے۔ رضوان علی اور چودھری نذیر احمد دونوں نے ہی تسلیم کیا کہ لندن کے بم دھماکوں کے مبینہ ذمہ داروں کا تعلق لیڈز سے نکلنے پر اگر ردعمل بڑھا تو اس سے بریڈفورڈ میں ایشیائی کھانوں کا کاروبار کرنے والوں پر لازماً منفی اثر پڑے گا۔ تاہم بقول رضوان علی، فی الوقت تو مقامی باشندے اور دیگر نسلی گروہ ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کررہے ہیں اور ہر طرح کی ممکنہ مدد کی پیش کش بھی۔

لیکن یہ بات یقینی ہے کہ لیڈز میں مسلم اور پاکستانی برادری تین حملہ آوروں کا تعلق خود سے نکلنے پر ہونے والے کسی بھی ممکنہ ردعمل پر شدید تشویش میں مبتلا ہے اور اس کو خدشہ ہے کہ ردعمل کی ایک شکل روزگار کے ان دونوں ہی شعبوں میں چاہے وہ ٹیکسیاں چلانا ہو یا ایشیائی کھانوں کے ریستوران، مواقع کم ہونے اور ناموافق حالات کی صورت میں بھی نکل سکتی ہے۔

66لیڈز: خوف کے سائے
مشتبہ بمباروں کی شناخت کے بعد کشیدگی کا خطرہ
66’دہشت گرد پڑوسی‘
مشتبہ بمباروں کی شناخت کے بعد کشیدگی کا خطرہ
66لندن میں دھماکے
ٹرانسپورٹ نظام نشانے پر: تصویروں میں
66خوفناک حقیقت
خود کش بمبار برطانوی مسلمان تھے
66حملہ آور کون تھے
لندن بم دھماکوں میں ملوث کون اور کیا تھے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد